سمجھا تو ہوں سمجھا نہیں سکتا

11 فروری 2018

انسانیت کا معیار گرتا جا رہا ہے۔ معاشرے کا مزاج بدلنے لگا۔ حالات ہر لحاظ سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ہر شخص یا جماعت ایک دوسرے کے کندھوں پر سوار ہو کر ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے میں ہی سرگرداں ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ طالب علموں میں تعلیمی حرص کی شدت آسمان اور سمندر کی وسعتوں سے کوزے میں سمٹنے لگی ہے۔ نئی تکنیکی دنیا نے ان کے دلوں میں گھر کر لیا ہے اور یہ سچ ہے کہ اب وہ چراغ کی ٹمٹماتی لو کے سامنے اپنے مستقبل کو روشن نہیں کرتے جبکہ ان کے مستقبل کو دکھانے کیلئے روشن میناریں قائم ہو چکی ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان میناروں کے تمام زینے اور اس کا ہر موڑ اس قدر چکاچوند لئے ہوئے ہوتا ہے کہ طالب علم اس مینار پر چڑھنے اور اس مینار کی روشنی سے اپنے مستقبل کو دیکھ کر اس کی جانب گامزن ہونے کی بجائے اسی مینار کی روشنی میں کھو جاتا ہے۔ میری بات سے کافی لوگوں کو اختلاف ہو گا جو یہ کہیں گے کہ آج کا طالب علم پہلے کے مقابلے زیادہ کامیاب ہو رہا ہے۔ مجھے ان کی باتوں سے انکار نہیں ہے لیکن اس بات کا بھی اعتراف ہے کہ ایسے کامیاب طالب علموں کی تعداد بہت قلیل ہے اور اگر یہ قلیل تعداد بھی اپنی کامیابی کو صحیح طریقے سے استعمال کرتی تو معاشرے کو بہتر بنانے میں مدد ملتی کیونکہ یہی کامیاب طلبہ معاشرے کے معمار بن رہے ہیں غور طلب امر یہ ہے کہ معاشرے میں پھیلنے والی برائیاں جو اس قدر تباہیوں کے جال پھیلا رہی ہیں اس میں بڑی حد تک چکا چوند سے لبریز دنیا سے بڑھتی ہوئی آشنائی ہی اس کی وجہ ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہر شخص دنیا کے مطابق اپنے مقام کی تعمیر میں منہمک ہے اور اس کے حساب سے وہ کوئی بھی شعار اختیار کرنے کو تیار ہو جاتا ہے جس طرح آج کا طالب علم کتابوں کو پڑھنے سے زیادہ کامیابی حاصل کرنے کے طریقوں پر غور کرنے لگا ہے۔ نوکری کے حصول کے لئے ہر اس داؤ کو آزمانا چاہتا ہے جو اسے نوکری دلانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے چاہے وہ راستہ اصولوں والا ہو رشوت والا ہو یا اس میں کسی کی حق تلفی ہو اور اس روش پر قابو پانے کی بجائے اس میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ اسی طرح عام طور سے یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ تاجر اپنی تجارت میں اس ایمانداری کا مظاہرہ نہیں کرتا جو اسے کرنا چاہئے۔ یہاں بلاشبہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ تجارت کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ کم تولنا خراب اور بیکار مال فروخت کرنا‘ مہنگے داموں فروخت کرنا ان اشیاء کو بھی عوام الناس تک پہنچا دینا جو ان کے لئے مضر اور بیماریوں کا سبب ثابت ہوں وغیرہ وغیرہ معاشرے میں یہ جراثیم صرف محدود دائرے میں ہی نہیں پھیل رہے بلکہ دن بہ دن ان کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ شاید ہی کوئی ادارہ یا شعبہ اس سے محفوظ ہو۔ اپنے ذاتی مفاد پر سارے اصول قربان کر دئے جا رہے ہیں۔ تعلیمی ادارے بھی اس کی گرفت میں ہیں۔ بچوں کے داخلے ہوں یا ان کی فیس ہر جگہ اصولوں کی دھجیاں اڑائے ہوئے نظر آتی ہیں۔ تعلیم جو کہ ان کا مقصد تھا اس کا رخ فیس اور سٹیٹس پر آ کر رک گیا ہے۔ بار بار ایسی خبریں گوش گزار ہوتی ہیں لیکن مسئلہ جوں کا توں ہے۔ اگر بچوں کی تعلیم و تربیت کے پہلو پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے وہاں بھی کچھ ایسا نہیں ہے جس کو قابل قدر کہا جائے یا کم از کم اتنا تو ضرور کہا جائے کہ حتی الامکان وہی کوششیں ہو رہی ہیں جو کہ تعلیم و تربیت کے لئے ضروری ہیں ۔ جن خواتین کو ماں بہن بیٹی کی حیثیت سے ایک عزت کا مقام دینا چاہئے تھا ان کو ہوس کی نگاہ سے دیکھنے کا سلسلہ رواج پانے لگا ہے جو کہ یقینی طور پر ہمارے معاشرے کے لئے باعث شرم ہے لیکن افسوسناک حقیقت ہے کہ تمام قانون بننے اور پولیس کی چوکسی کے باوجود بھی اس میں کمی واقع نہیں ہو رہی۔ اگرپولیس کی بات کریں تو وہاں زیادہ تر تماشائی صورت ہی نظر آتی ہے یا صرف پنجاب پولیس طاقتوروں کا آلہ کار بن چکی ہے۔یعنی وہ بھی اپنے فریضہ کو ادا کرنے میں اس ایمانداری کا مظاہرہ نہیں کرتے جو کہ ان کے کرنے کا حق ہے اور ان پر فرض بھی پھر آپ ہی سوچئے کہ جرائم کم کیسے ہو سکتے ہیں۔ رشوت خوری کی شکایتیں اس شعبے میں اس قدر عام ہو گئی ہیں کہ حد نہیں۔ ایف آئی آر درج کرانا تو جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ جب رشوت کی بات آتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ سرکاری دفاتر میں جہاں سے عوام الناس کا کام نکلتا ہے رشوت بڑی حد تک لازم قرار پاتی ہے یہ عجیب و غریب بات زبان زد رہتی ہیں کہ فائلیں آگے تبھی بڑھتی ہیں جب ان کو رشوت کے پہیے لگائے جاتے ہیں قانون بنتے ہیں گرفتاریا ں بھی ہوتی ہیں سزائیں بھی مل جاتی ہیں۔ ضمانتیں بھی مل جاتی ہیں اور رسائیاں بھی مل جاتیں۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ باوجود اس کے نہ تو رشوت کا سلسلہ رکا ہے اور نہ ہی جرائم میں کمی واقع ہوئی ہے۔ گھریلو تشدد اور رشتوں میں پڑنے والی دراڑیں بھی ذاتی مفادات اور وقتی تقاضوں کے مدنظر ہی انجام پاتی ہیں رشتوں کی جذباتیت خود غرضیوں کے جذبات سے مغلوب ہو کر رہ گئی ہیں۔ میاں بیوی کے رشتے بھی اس کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ماں کا رشتہ بھی اسی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ بھائیوں کے درمیان دوریوں کے بڑھنے کا ذریعہ بھی دنیا کی چکاچوند میں اپنا مقام بنانے کی سوچ نے لی ہے۔ یقینی طور پر یہ افسوس اور دکھ کی گھڑی ہے کہ معاشرے میں برائیوں اور خرابیوں کاچلن عام ہو گیا ہے اور تقریباً ہر فرد کسی نہ کسی طرح سے اس کے لئے ملزم اور بعض اوقات مجرم بھی قرار پاتا ہے اور وہی ان مظالم اور زیادتیوں کا شکار بھی ہوتا ہے۔ غور طلب امر ہے کہ یہ سب اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے کنارہ کشی کرنے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ حالات تو اس قدر نازک ہو گئے ہیں کہ جن ڈاکٹروں پر صحت کے معاملے میں مکمل اعتماد کا چلن تھا وہاں بھی ذاتی اغراض و مقاصد کو اولیت دی جانے لگی ہے۔ کبھی مردوں کو زندہ بتا کر علاج جاری رکھا جاتا ہے تاکہ علاج کی خطیر رقم حاصل کرنے کا سلسلہ تادیر جاری رہے۔ کبھی اتنی لاپروائی ہوتی ہے کہ زندہ شخص کو ہی مردہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ بہرحال شاید ہی کوئی شعبہ آج محفوظ ہے ۔ سیاست کی دنیا جو کہ جمہوریت کو برقرار رکھنے اور عوام الناس کو ان کا حق دلانے کیلئے متعین کی جاتی ہے۔ آج وہ اپنے اصلی مقصد سے ہٹ کر عوام کو گمراہ کرنے ان کے درمیان تفریق کو بڑھاوا دینے اور ذاتی مفاد کے لئے نفرت کا زہر گھول کر جمہور ی معاشرے کو منقسم و تباہ کر دینے میں منہمک دکھائی دے رہی ہے۔پاکستان میں قانون بنانے کی بات ہو تو صرف ذاتی مفادات کو سرفہرست رکھا جاتا ہے غور طلب بات یہ ہے کہ آخر یہ سب کیوں ہوتا ہے اس وقت ہر شعبہ میں جو ہو رہا ہے ایسا نہیں کہ اس سے کوئی واقف نہیں ہے۔ سبھی اس سے باخبر ہیں سب چاہتے ہیں کہ یہ برائیاں دور ہونی چاہئے لیکن سب اس کو صرف سمجھتے ہی ہیں اور بس کوئی خود پر عمل نہیں کرتا اگر ایسا کریں تو ہر شخص اور شعبہ بھلائی کا مینار بن کر ایک بہترین جمہوری معاشرے کی تعمیر و تشکیل کرنے میں اپنا مثبت تعاون پیش کر سکتا ہے۔ 

٭٭٭٭٭