ریاست ایک تجربہ گاہ

11 فروری 2018

ملتان ہمیشہ سیاست میں مخادیم کا بڑا تابعدار رہا ہے خدا بہتر ہی جانتا ہے کہ جنوبی پنجاب میں مخدوم حضرات کیا کمالات عوام کو دکھاتے رہے کہ ہر انتخاب پر اس خطے میں لوگ قابلیت کے بجائے خانقاہوں کے گدی نشینوں کو احتراماً ووٹ دے کر ان کو اپنا حاکم منتخب کرتے رہے۔ عوام کے اس جذبے نے سیاست کے ڈھانچے کو تبدیل کر دیا اور سیاست میں مذہبی خاندانوں کی اجارہ داری قائم ہو گئی جس وقت ایک موروثی اور شخصیت پرست سیاست نے جنم لیا تو یہ صحتمند سوچ ختم ہو گئی کہ سیاست عوام کی خدمت اور ملک کی ترقی کا نام ہے اس ماحول کے ابھرنے کے بعد سیاست کے حوالے سے لوگوں نے اپنے دماغوں میں ایک سلطنت قائم کر لی اور یہ طے کر لیا گیا کہ قومی اسمبلی کی فلاں سیٹ فلاں خانقاہ کے گدی نشین خاندان کی وراثت ہے۔ اس لئے اگر اس قومی سیٹ پر اس خاندان کے علاوہ کوئی پڑھا لکھا شخص کھڑا ہوا تو وہ بری طرح ہار جائے گا۔ لہٰذا یہ کوشش ہی نہیں کرنی چاہئے کہ وہاں سے گدی نشین خاندان کے علاوہ کوئی اور شخص کھڑا ہو کر اپنا وقت‘ پیسہ اور عزت کو ضائع کرے۔ اس خیال کے تحت پاکستان میں تمام سیاسی نشستیں پہلے سے تقسیم شدہ ہیں اور خاندانی وراثتیں بن گئی ہیں جس کا نتیجہ عملی طور پر یہ سامنے آیا ہے کہ پاکستان میں ہر دفعہ ایک دلکش سیاسی نعرے کے بعد جمہوریت کے نام پر جدی پشتی وراثتی حکومتیں عوام پر مسلط ہوتی رہیں اور عوام کی مصیبتوں میں اضافہ کرتی رہیں اور یہ نام نہاد جمہوری حکومتیں خود ناکام ہو کر ریاست کو بھی تباہ کرتی رہیں۔ مذہبی احترام اور بے باک جمہوریت ایک دوسرے کی ضد ہیں اور پاکستان میں یہ دونوں ایک دوسرے پر سوالیہ نشان بھی ہیں۔ پاکستان ایک تجربہ گاہ بن کر زندہ ہے۔ اس ملک پر حکومت کے آنے اور جانے پر کئی تجربات ہوتے ہیں لیکن تقریباً ہر تجربہ ہی ناکام ہوتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں جو تجربات پاکستان میں ہوئے وہ انتہائی مہلک ثابت ہوئے اور ان زخموں کا درد آج بھی پاکستانی معاشرہ محسوس کرتا ہے۔ جنرل صاحب کے ذہن پر خبط سوار تھا اور اپنے دور میں امیرالمومنین بننے کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہے اور بہت سے پاپڑ بیلنے کے بعد اچانک ان کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اگر موت کی سزا برسرعام دی جائے تو اسلام کے تقاضے پورے ہونے کے علاوہ عوام کا مائل بہ جرم ہونے کا حوصلہ بھی ٹوٹے گا اور معاشرہ صاف ستھرا ہو جائے گا۔ چنانچہ عوام میں سیاسی کارکنوں کو کوڑے مارے گئے۔ عوام میں پھانسیاں بھی دی گئیں لیکن ہمیشہ کی طرح یہ بیرحم تجربات بھی ناکام ہوئے لوگ کوڑے کھا کر بھی سیاست کی طرف مائل رہے اور پھانسیوں پر ملزموں کو جھولتا دیکھ کر بھی قتل و غارت میں لوگ مصروف رہے۔ لوگوں نے یہ تماشہ دیکھا لیکن ان پر کوئی اثر ہوا اور نہ ہی کسی فرد واحد نے جنرل سے یہ پوچھا کہ ان سزاؤں کی تشہیر سے حکومت کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی تھی اور معاشرے کی کونسی اصلاح مقصود تھی۔ آج پاکستان کا معاشرہ جنرل ضیاء کے دور حکومت کے مقابلے میں کہیں زیادہ تاریک دور سے گزر رہا ہے۔ قصور کی مقتول بچیوں کے قاتل کا انجام بھی لوگ عوام کے درمیان میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم آج کے دور میں بعض کہاوتوں کو سچا ثابت ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ بزرگ کہا کرتے تھے جس معاشرے سے انصاف اٹھ جائے وہاں ایک تو قتل و غارت گری بڑھ جاتی ہے اور اس سماج میں دوسرا نقص یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ انتقام پسند بن جاتا ہے۔ اور اس قدر بیرحم ہو جاتا ہے کہ کسی انسان کو اگر بازار میں بھی ٹکڑے کر دیا جائے تو لوگ عبرت حاصل کرنے اور خوفزدہ ہونے کی بجائے یہ سب کچھ ایک تماشہ سمجھ کر دیکھتے ہیں اور پھر بس بھول ہی جاتے ہیں۔ آج پاکستانی سماج صرف کھیل اور تماشوں کا منتظر ہے اور اسے یہ احساس ہی نہیں ہے اس خونریزی کے ماحول کو کن لوگوں نے جنم دیا اور اب اس مرض کا علاج کیا ہے؟ کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا۔ 

پاکستانی عوام ساری زندگی ایک غیر محترم سماجی سلوک کا سامنا کرتے رہتے ہیں ۔تھانہ‘ کچہری‘ بازار‘ سکول‘ مدرسہ یا ہسپتال وغیرہ عوام جہاں بھی جاتے ہیں ان کے مقدر میں موجود نفرت اور ناانصافی عوام کا ہر موڑ پر انتظار کرتی ہے۔ اس یکساں اور سرد مہر سلوک سے اکتا کر عوام کبھی کبھی ایسی تقاریب میں بھی جا پہنچتے ہیں جہاں کبھی کبھار غیر متوقع طور پر عوام کو کھانے کے ساتھ اچھا رویہ بھی چکھنے کو مل جاتا ہے۔ ملتان میں ایک بزرگ سیاستدان کی صاحبزادی کی شادی پر وہ لوگ بھی گئے جو ان کے ووٹر اور بہی خواہ نہیں تھے لیکن ان لوگوں نے بہت سارے مخدوموں کے ساتھ تصویریں بنا کر فیس بک پر پوسٹ کیں اور اس بات کو مشتہر کیا کہ وہ بھی و ہاں حاضر تھے اور ان کو بھی اچھے سلوک سے وہاں نوازا گیا۔ سنا ہے وہاں تین مخدوم حضرات ایک ہی صوفہ پر تشریف فرما رہے اور مخدوموں کے خادم حضرات یہ موقع غنیمت جان کر صرف سیلفیاں بنانے میں مصروف رہے۔ مخدوم صاحب موصوف کو ان کی صاحبزادی کی شادی مبارک لیکن ان سارے مخدوموں سے گزارش ہے کہ جس طرح وہ خود ایک صوفہ پر بیٹھ گئے اسی طرح وہ اپنی خادم قوم میں بھی تفریق نہ ڈالیں اور اپنے ان خدام کو بھی اتفاق سے زندہ رہنے دیں کیونکہ آج اپنی قوم کو بقا کیلئے اتفاق اور اتحاد کی شدید ضرورت ہے جبکہ یہ مخدوم قوم کو تقسیم کر رہے ہیں۔