وزیر تعلیم پنجاب اور بے روزگاری

11 فروری 2018

الیکشن 2008ء کے بعد سے صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہے اور محکمہ تعلیم پنجاب رانا مشہود کے پاس برقرار رہا ہے۔ یہ تو مانتے ہیں کہ صوبے میں حکومت قائم ہونے کے ساتھ ہی خالی آسامیوں پر نئی بھرتی کا آغاز کر دیا گیا تھا اور ہر سال متواتر بھرتی جاری رہی مگر انہوں نے بھرتی کے لئے جس طرح کی پالیسیاں بنائیں اور ہر دفعہ ان میں تبدیلیاں ہوتی رہیں اس پر وہ بے روزگار امیدوار جن کی حق تلفی ہوتی رہی یعنی کہ انہیں ٹیچر بننے سے ایسے دور رکھا گیا جیسے کہ وہ تعلیم دینے کے قابل نہ ہوں اور ان کی ڈگری کا علم سے تعلق نہ ہو۔ ایسے نوجوان ان کی پالیسیوں کے باعث مسلم لیگ ن کے دونوں ادوار میں مایوسی کا شکار رہے ہیں جبکہ انہوں نے اس سے قبل ہی ایم اے‘ بی ایڈ کر لیا تھا اور محکمہ تعلیم میں سروس کر کے قومی خدمت کا جذبہ رکھتے تھے مگر حکومت پنجاب کے محکمہ تعلیم نے پہلے تو سائنس مضامین کے امیدواروں کو ترجیح دی اور آرٹس مضامین پر بہت کم بھرتی کی نہ صرف یہ بلکہ مضامین بھی مقررکر دئیے کہ ان مضامین کے علاوہ دوسرا کوئی مضمون رکھنے والا درخواست نہیں دے سکتا خواہ وہ این ٹی ایس ٹیسٹ میں سو نمبر حاصل کر لے مثلاً مضمون اکنامکس‘ انگلش میڈیم میں ایم اے کیا جاتا ہے مگر وہ خارج کر دیا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اکنامکس کا مضمون علم نہیں ہے۔ کیا طلبہ کو اس علم کی تعلیم پاکستان میں نہیں دی جاتی۔ کیا معاشیات کا شعبہ انسانی زندگی کیلئے اہم نہیں ہے۔ کیا ملک میں ایسے ادارے نہیں جہاں معاشیات پڑھنے والے طلبہ کی ضرورت ہو۔سکولوں میں معاشیات پڑھائی جائے گی تو یہ مضمون آگے چلے گا۔علاوہ ازیں ایسی پالیسیاں بنائی گئیں کبھی یونین کونسل‘ کبھی تحصیل اور کبھی ضلع کی حدود میں میرٹ بنتا رہا۔ اسی طرح کبھی انجینئروں‘ کبھی زراعت والوں‘ کبھی بی کام‘ ایم کام اور بغیر بی ایڈ کرنے والے بھرتی ہوتے رہے جو بعد میں موقع ملنے پر دیگر محکموں میں جاتے رہے۔ سکول مضامین رکھنے والے مثلاً انگلش‘ اردو‘ مطالعہ پاکستان اور اسلامیات وغیرہ ایم اے کرنے والے تقریباً آٹھ سالوں سے ملازمت کر رہے ہیں۔ ہمیں ان سے کوئی حسد نہیں ہے مگر پالیسیوں پر افسوس ضرور ہے جن کی بنا پر نوجوان بوڑھے ہو رہے ہیں۔اب ماہ جنوری 2018ء میں پھر درخواستیں طلب کی ہیں ان میں بھی مضمون اکنامکس کو شامل نہیں کیا گیا جبکہ این ٹی ایس میں ستر نمبر حاصل کر لئے ہیں مگر درخواست نہیں دے سکتے۔ مزید یہ قدغن لگا دی ہے کہ ڈگری یا رزلٹ نومبر 2017ء سے قبل کا ہونا ضروری ہے جبکہ اس سے قبل ڈگری انٹرویو کے وقت بھی دکھائی جا سکتی تھی۔

اب محکمہ تعلیم پنجاب نے حاضر سروس اساتذہ کے ساتھ بہت مہربانی کی ہے کہ ان کے گریڈ اپ کر دئیے ہیں اور ترقیاں دے دی گئی ہیں۔ ادھر دوسرے محکموں میں ٹیکنیکل پوسٹوں پر تعینات ملازمین اپنی ترقی اور گریڈ اپ کرانے کی خاطر دہائیاں دے رہے ہیں۔ کئی سالوں سے اپیلیں کر رہے ہیں کہ ہم ساری عمر ایک ہی گریڈ پر رہنے سے اپنے معاشی حالات کا تکلیف دہ صورت میں سامنا کر رہے ہیں مگر ان کی طرف کوئی نظر کرم نہیں کرتا نہ کوئی ان کی سنتا ہے۔ کیا ترقی ملنا ان کا بنیادی انسانی حق نہیں ہے جبکہ دیگر ملازمین گریڈ سات سے گریڈ بیس تک پہنچ گئے ہیں۔ سب کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے جو کہ ان کا حق ہے۔ ذرا نظر کرم فرمائیں۔