نااہلی تاحیات یا ایک الیکشن کے لئے

11 فروری 2018

سپریم کورٹ میں ایک اہم مقدمہ چل رہا ہے جس میں یہ فیصلہ ہوگا کہ F(1)62 کے تحت نااہلی کتنی مدت کے لئے ہے ۔ نوازشریف کو سپریم کورٹ نے جب اس آرٹیکل کے تحت نااہل قرار دیا تھا تو فیصلے میں نااہلی کی مد ت نہ لکھی تھی نہ ہی یہ لکھا تھا کہ یہ تاحیات ہے۔ اس طرح آئین کے اس آرٹیکل میں بھی یہ تحریر نہیں کہ نااہلی تاحیات ہے۔ لیکن اُس وقت میڈیا میں بحث مباحثہ کے دوران یہ تاثر قائم ہوگیا تھا کہ یہ نااہلی تاحیات ہوگئی ہے۔ میں نے اس وقت بھی اپنے ایک آرٹیکل میں ایک کیس کا حوالہ دیا تھا جس میں ریٹائرڈ جسٹس افتخار چیمہ صاحب 2013 میں الیکشن جیت گئے تھے، الیکشن کے بعد انکا الیکشن چیلنج ہوا اور ثابت ہوا کہ انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنی بیوی کے کچھ اثاثے ظاہر نہ کئے تھے۔ان کا الیکشن کالعدم قرار دیا گیا اور اس نشست پر ضمنی الیکشن کا اعلان ہوگیا ۔جسٹس صاحب نے ضمنی الیکشن کیلئے پھر کاغذات نامزدگی داخل کئے اور وہ اثاثے جو 2013 کے الیکشن کے وقت نہ لکھے گئے کاغذات میں لکھ دئیے۔ ان کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے وہ الیکشن لڑے اور جیت کر اس وقت بھی اسمبلی میں موجود ہیں۔ نوازشریف کی نشست NA120 پرضمنی الیکشن کے وقت میری یہ رائے تھی کہ میاں نوازشریف کو کاغذات نامزدگی بھرنے چاہئیں اور غیر وصول شدہ تنخواہ جس کو سپریم کورٹ اثاثہ تصور کرتی ہے اثاثے کے طور پر کاغذات میں لکھ دینی چاہئے اور ان کو موقف اختیار کرنا چاہئے کہ میں اس غیر وصول شدہ تنخواہ کو اثاثہ نہ سمجھتا تھا اس لئے کاغذات نامزدگی میں نہ لکھا تھا لیکن سپریم کورٹ نے اس کو اثاثہ ڈکلیئر کیا ہے تو اب میں اس کو اثاثہ کے طور پر لکھ رہا ہوں۔ میرے خیال میں اس وقت یہ رائے ن لیگ کے حلقوں میں پذیرائی حاصل نہ کرسکی۔ لیکن اب نوازشریف کو جب سپریم کورٹ نے اس مقدمہ میں شامل ہونے کیلئے کہا ہے تو انہوں نے شامل ہونے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے یہ نااہلی صرف اسی الیکشن کیلئے ہے جس کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ 2018 میں کاغذات داخل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ایک مقدمہ تو سپریم کورٹ میں چل رہا ہے دوسرا مقدمہ میڈیا میں چل رہا ہے جہاں بہت سے اینکر پرسن مبصرین اور کچھ قانونی ماہرین بھی بغیر آئین کی کتاب کو کھولے ہوئے زور و شور سے بحث میں حصہ لیتے ہیں اور سنی سنائی باتوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔
تاحیات نااہلی کے حامی یہ کہہ رہے ہیں کہ آرٹیکل 62 میںوہ تمام باتیں ہیں جو الیکشن لڑنے کی اہلیت کے لئے ضروری ہیں اور جو اس پر پورا نہ اترے وہ تاحیات نااہل ہوجاتا ہے کیونکہ اس آرٹیکل کے تحت نااہلی کی مدت نہ لکھی گئی ہے ۔ جبکہ آرٹیکل 63 میں نااہلیت کی شقیں ہیں اور ان میں مدت بھی مقرر کردی گئی ہے۔ اب ذرا آئین کی کتاب کو کھول کر دیکھتے ہیں۔
آرٹیکل 62 ۔ کے بارے کہا جارہا ہے اسکے تحت نااہلی تاحیات ہے۔ اسکی شقیں کچھ یوں ہیں۔
62(1) a ۔ پاکستان کا شہری ہونا ضروری ہے _____ کیا شہریت اختیار کرنے پر بھی تاحیات نااہل رہے گا۔
b(1) 62۔ کم سے کم عمر25 سال ہو _____ اگر 24سال ہے تو 25 سال کا ہوکراہل ہوجائے گا یا تمام عمر نااہل رہے گا۔
ووٹر لسٹ میں اندراج ہو _____ اگر نہیں تو کیا اندراج کے بعد بھی تاحیات نااہل رہے گا۔
c(1) 62۔ سینیٹ کیلئے عمر30 سال سے کم نہ ہو _____ اگر کم ہے تو کیا تاحیات نااہل ہے یا 30 سال کا ہوکراہل ہوجائے گا۔
d(1) 62 ۔اچھے کردار کا مالک ہو اور اسلامی احکامات پر عمل کرتا ہو _____کردار کا فیصلہ کیسے ہوگا اور اگر نماز نہ پڑھتا ہو یا روزے نہ رکھتا ہو تو کیا تاحیات نااہل ہے۔
e(1) 62 ۔ اسلامی تعلیمات کا مناسب علم رکھتا ہو، اسلام کے مذہبی فرائض انجام دیتا ہو اور گناہ کبیرہ سے بچتا ہو_____ مناسب علم کا فیصلہ کیسے ہوگا اور پھر اگر نماز روزہ کا پابند نہیں توکیا عمر بھر کے لئے نااہل۔ ایک بڑے سیاستدان کے بارے میں امریکی عدالت نے گناہ کبیرہ کا فیصلہ دے رکھا ہے کیا وہ اہل ہوجائیں گے یا تاحیات نااہل ہوجائیں گے۔
f(1) 62 ۔ یہ وہ مشہور آرٹیکل ہے جس کے تحت میاں نوازشریف اور جہانگیر ترین نااہل ہوئے ہے۔ لکھا ہے۔ وہ دانشمند ہو ۔ انصاف پرور ہو عیاش اور اوباش نہ ہو۔ اور صادق اور امین ہو۔ اور کسی عدالت نے اس کے برخلاف فیصلہ نہ دیا ہو_____ کیا عدالت یہ بھی فیصلہ کرے گی کہ امیدوار دانشمند ہے یا نہیں انصاف پرور ہے یا نہیں اور اگر نہیں تو تاحیات نااہل۔ جہاں تک صادق اور امین کا تعلق ہے یہ الفاظ تو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے استعمال ہوئے ہیں اور کسی دوسرے انسان کے لئے ممکن نہیں کہ وہ اس معیار پر پورا اترسکے۔ جماعت اسلامی کے سربرا ہ جناب سراج الحق کے بارے میں ایک جج صاحب نے فرمایا تھا کہ ساری پارلیمنٹ میں وہی 63,62 پر پورا اتریں گے۔میں اس سے بھی اتفاق نہیں کرتا سراج الحق صاحب سے پوچھنا چاہئے الیکشن بل کے موقع پر جب ن لیگ اقلیتی پارٹی ہونے کے باوجود سینیٹ سے بل پاس کرواگئی تو سرا ج الحق صاحب کہاں تھے؟ ووٹ ڈالنے کیوں نہ آئے تھے؟ ایک ہی ووٹ کی ضرورت تھی ۔ صداقت اور امانت کہاںگئی ہوئی تھی ؟ صادق اور امین کا فیصلہ کرتے وقت یہ بھی دیکھنا چاہئیے کہ کیا ایک جھوٹ پکڑنے پر صادق امین کا فیصلہ ہوجائے گا۔ سپریم کورٹ نے میاں نوازشریف کو غیر وصول شدہ تنخواہ ڈکلیئر نہ کرنے پر نااہل کیا ہے۔ عمران خان ، شیخ رشید اور ان کے تمام ساتھی گلا پھاڑ پھاڑ کرجھوٹ بولتے ہیں کہ نوازشریف کو پیسہ چوری کرنے اور منی لانڈرنگ کرنے پر نااہل کیا گیا ہے۔ کوئی ہے جو ان جھوٹ بولنے والوں کے خلاف صادق ہونے پر بھی فیصلہ کرے۔
آرٹیکل 63 کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس میں نااہلیت کے وقت کا تعین کردیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ چند شقوں میں وقت کا تعین ہے لیکن اکثر میں نہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ 62یا 63 میں کہیں بھی اثاثوں کے ڈکلیئر نہ کرنے پر نااہلیت کا کوئی ذکر نہیں ۔ہاں البتہ عوامی نمائندگی کے قانون ( ROPA ) میں موجود ہے کہ اگر کاغذات نامزدگی میں اثاثے مکمل ڈکلیئر نہ کئے گئے تو کاغذات نامزدگی مسترد ہوجائیں گے۔ یعنی امیدوار اس الیکشن میں حصہ نہ لے سکے گا۔ وہاں بھی ایسا کوئی قانون نہیں کہ وہ آئندہ کبھی الیکشن نہ لڑسکے گا۔ 62-63 کی اہلیت اور نااہلیت کی تمام شقیں بھیROPAمیں موجود ہیں اور ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ اگر وہ اس معیار پر پورا نہیں اتر رہا تو اسکے کاغذات نامزدگی مسترد کردینے چاہئیںاور وہ الیکشن نہ لڑسکے۔ اگر وہ اپنی نااہلی کی وجوہات اگلے الیکشن تک دور کرلیتا ہے تو اس پر کوئی پابندی نہیں۔
آرٹیکل 63کی شق نمبر(2) اور (3 ) پر آج تک کسی نے توجہ نہیں دی۔ یہ شقیں کہتی ہیں کہ اگر کسی ممبر پارلیمنٹ کی اہلیت پرسوال اٹھ جائے تو سپیکریا سینیٹ چیئرمین 30 دن میں فیصلہ کرے گا۔ یا تو وہ فیصلہ کرے گا کہ نہیں اہلیت پر کوئی سوال نہیں اور اگر وہ سمجھے کہ ہاں ممبر نااہل ہوتا ہے تو وہ معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیج دے گا۔ الیکشن کمیشن 90 دن میں اہلیت یا نااہلیت کا فیصلہ کرے گا۔ اور اگر الیکشن کمیشن یہ رائے قائم کرے کہ ممبر نااہل ہوگیا تو نشست خالی ہوجائے گی اور اگر الیکشن کمیشن سمجھے کہ نااہل نہیں ہوتا تو ممبر کی نشست برقرار رہے گی۔
اب موجودہ فیصلوں میں ان شقوں کو سراسر نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ اگر آئین میں کوئی طریقہ کار واضح طور پر موجود ہے تو اس پر عملدرآمد ہوگا نہ کہ کوئی عدالت چاہے سپریم کورٹ ہی نہ ہو اپنا طریقہ کار وضح کرلے۔ سپریم کورٹ نے میاں نوازشریف اور جہانگیر ترین کیس میں براہ راست الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ انکو نااہل قرار دے کر انکی نشستیں خالی کردی جائیں حالانکہ آئین کے مطابق انکو اپنی رائے سپیکر کو بھیجنی چاہئیے تھی ۔ جو خو د اس پر30 دن کے اندر فیصلہ کرتا اور اسکے بعد الیکشن کمیشن 90 دن میں اپنی رائے قائم کرتا۔لیکن سپریم کورٹ نے سپیکر اور الیکشن کمیشن کے اختیارات کو خود ہی استعمال کرلیا۔ اگر اسی طرح آئین کے واضح احکامات کو نظرانداز کرکے فیصلے ہونگے تویقینا ان پراعتراض بھی ہوگااور احتجاج بھی ہوگا۔