چوروں کو مور

11 فروری 2018

پچھلے دنوں سابق صدر آصف زرداری صاحب نے لاہور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میاں نواز شریف دھرتی پہ بوجھ تھے اس لیے اْنہیں نکالا گیا ہے ، اس کے علاوہ بھی سابق صدر صاحب کئی مواقع پہ فرما چکے ہیں کہ ان کی پارٹی کو پاکستان کی مرکزی حکومت کا موقع ملا تو شریف خاندان کے بیرون ملک غیر قانونی اثاثہ جات کو وہ بذات خود ملک میں لے کر آئیں گے۔ حقیقت میں یہ بات جس بندے نے بھی سْنی ہوگی اسے کسی لطیفے سے کم نہیں لگی ہوگی۔ لیکن پاکستان کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ وہ ایسے ہی لطیفوں کے جال میں پھنس کر بار بار پرانے لوگوں پہ اعتبار کر لیتے ہیں۔ یہ بات تو ہو گئی زرداری صاحب کی جو کہ میاں صاحب کو اس ملک کی تباہی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور آجکل خوب لفظی گولہ باری جاری ہے جبکہ دوسری جانب چھوٹے میاں یعنی شہباز شریف بھی کھل کر زرداری صاحب کی کرپشن ، سرے محل ، کمیشن ، اور جائیدادوں کا تذکرہ کر رہے ہیں اور تقریباً پرانی فلم دوبارہ چل رہی ہے جس میں وہ زرداری صاحب کو گلیوں میں گھسیٹنے اور ان کا پیٹ پھاڑ کر لْوٹی ہوئی قومی دولت کی واپسی کی باتیں کرتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں معافیاں تلافیاں ، کھانے ، ناشتے اور اکھٹی حکمت عملیاں بنتی رہیں کہ اپنے ملک کے غریب عوام کو کیسے نچوڑنا ہے اور ان پر کیسے حکومت کرنی ہے۔

خواجہ آصف کا بیان کہ زرداری صاحب کو پچھلی حکومت میاں صاحب نے تحفے میں دی تھی بذات خود کافی مضحکہ خیز ہے کیونکہ اْدھر زرداری صاحب یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ بلوچستان میں لیگ کی حکومت کا خاتمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ جب چاہیں جہاں چاہیں ن لیگ کی حکومتوں کا خاتمہ کر سکتے ہیں ، ان باتوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب ’’ نْورا کشتی ‘‘ چل رہی ہے بنیادی طور پر متاثر عوام نے ہی ہونا ہے چاہے حکومت ن لیگ ہو یا پاکستان پیپلز پارٹی کی ہو کیونکہ دونوں پارٹیاں تین تین باریاں مرکز میں اور پانچ پانچ باریاں صوبوں میں لے چکی ہیں اگر عوام کی قسمت بدلنا ہوتی تو ایک یا دو باریاں ہی کافی تھیں لیکن نہ تو ایسا ہوا ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ہونا ہے عوام کو ان سیاسی بیان بازیوں اور سیاسی چالوں کو جان لینا چاہئیے۔ ایک دوسرے کی کرپشن کی کہانیاں عوام کو سْنا کر اور ایک دوسرے کا کڑے سے کڑا احتساب کرنے کے نعرے لگا کر اپنا اْلوّ سیدھا کیا جا رہا ہے ، عوام کی فکر ، عوام کا درد اور عوام کا مفاد کوئی نہیں سوچتا سب اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت میں آتے ہیں۔
پاکستانی عوام کے لیے ایک اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات یعنی یو اے ای میں پچھلے کچھ عرصے میں پراپرٹی خریدنے والے باشندوں میں پاکستانی لوگوں کا تیسرا نمبر ہے جو کہ اس بات کی گواہی ہے کہ ہمارے ‘‘ بڑے ‘‘ کس قدر ملک کے عوام کا خون نچوڑ کر دیار غیر اپنی جائیدادیں بنانے میں مصروف ہیں۔ یہ تو ایک ملک کی رپورٹ ہے اس کے علاوہ انگلینڈ ، امریکہ ، کینڈا ، سوئٹزرلینڈ ، اسپین ، جرمنی اور نہ جانے کون کون سے ایسے ممالک ہیں جہاں پہ ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے اپنے مستقل ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں کہ جب بھی خدانخواستہ پاکستان پہ مشکل وقت آئے تو وہ تو اپنا بوریا بستر گول کر کے وہاں تشریف لے جائیں اور ملک کا اللہ حافظ ہو گا۔
ہمارے تمام تر حاضر سروس سیاستدان یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اپنے عوام کو کیا چیز انکی طرف کھینچتی ہے ؟ اور کونسی صورتحال کو اپنے حق میں کیسے استعمال کرنا ہے ؟ کونسا نعرہ کیسے لگانا ہے کہ عوام کے دلوں پر اثر کرے ؟ کس سیاستدان کا کونسا اسکینڈل عوام کو اسکے حق میں زیادہ متاثر کرے لگا ؟ ہمارے سامنے ایسی ہزارہا مثالیں موجود ہیں جب دوسروں کی کمزوریوں کو سیاستدانوں نے اپنے حق میں کیش کرایا۔ مثلاً جب 2008 میں الیکشن ہوئے تو تمام جماعتوں نے لال مسجد اور بگٹی کیس کو پرویز مشرف اور ق لیگ کے خلاف استعمال کیا۔ اسکے بعد 2013 کے الیکشن میں لوڈشیڈنگ ختم کرانے اور زرداری دور کی کرپشن پکڑنے کے نام پہ ووٹ لیے گئے۔ اب ایک بار پھر ایک دوسرے کی خامیوں اور کوتاہئیوں کا ڈھنڈورا پیٹ کر عوام کو رام کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
کبھی پیپلز پارٹی والے ن لیگ کی حکومت کے ‘‘ کارنامے ‘‘ عوام کو بتانے کی کوشش کررہے ہیں تو کبھی ن لیگ والے تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومتوں کو بے نقاب کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کہیں کسی سیاستدان کو چور ، ڈاکو ، مافیا، سرغنہ ، کرپٹ اور بے ایمان ثابت کیا جا رہا ہے تو کہیں کسی سیاستدان کو تمام تر برائیوں کی جڑ قرار دیا جارہا ہے ، کہیں کسی کی ذاتی زندگی پر حملے ہو رہے ہیں تو کہیں کسی سیاستدان کی خفیہ شادیوں کا کھوج لگایا جارہا ہے ، کہیں کسی سیاستدان کی بیرون ملک جائیداد کا انکشاف کیا جارہا ہے تو کہیں کسی کو پاکستان میں قبضہ مافیا کا سربراہ بتایا جا رہا ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ پاکستانی سیاست کے حمام میں سب ہی ننگے ہیں ، کیا ن لیگ ، کیا پیپلز پارٹی ، کیا ایم کیو ایم ، کیا جے یو آئی اور کیا اے این پی ، الغرض سب لوگوں کی ہی کمزوریاں اور خامیاں دوسروں کے ہاتھ میں ہیں پھر بھی سارے ایک دوسرے کو چور چور کہہ کر پکارتے ہیں۔سوچنے کی بات ہے کہ جب یہاں ہر سیاستدان ہی دوسرے کو چور تصور کرتا ہے تو اگلا بندہ اپنے آپ کو بے گناہ نہیں کہتا بلکہ وہ خود کو چور کہنے والے کو ہی چور کہنا شروع کر دیتا ہے یعنی کہ مطلب یہ ہے کہ یہاں ہر ایک کوئی ہی چور ہے اس لیے کہ کوئی بھی اپنے آپ کو ایماندار ثابت نہیں کرتا۔