کراچی میں پانی کا مسئلہ واٹر بم کی صورت اختیار کر رہا ہے

11 فروری 2018

پاکستان کو وجود میں آئے 70سال ہوگئے ہیں مگر حکمران آج تک عوام کوزندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کرسکے ۔ ا نسان کو زندہ رہنے کے لئے سب سے زیادہ ضرورت پانی کی ہوتی ہے ۔ اس کے بعد بجلی ‘ سڑکیں‘ تعلیم ‘ امن و امان وغیرہ شامل ہیں مگر پاکستان کی بات تو الگ ہے ‘ کراچی جیسے شہر میں بھی حکمران صاف پانی فراہم نہیں کر سکے ۔ ہر الیکشن کے موقع پر امیدوار بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان تو کرتے ہیں مگر ووٹ لینے کے بعد کئی سال تک میٹنگ میں یا باتھ روم میں رہتے ہیں ۔ کراچی کے عوام کو حکمرانوں نے مختلف گروہوں میں بانٹ دیا ہے کیو نکہ اگر عوام متحدہ ہوگئے تو ایک ساتھ کوئی چیزمانگیں گے مگر اس کے باوجود پانی کے حصو ل کے لئے عوام ایک آواز ہو کر نئی دفعہ پانی مانگنے نکلے ہیں ‘ مگر ا ن کو پانی نہیں ملا ۔ کراچی کے دو کروڑ انسانوں میں سے زیادہ تر لوگ زیر زمین مضر صحت پانی ٹینکروں کے ذریعے حاصل کرنے پر مجبور ہیں ۔ شہر میں پانی کی کمی کے خلاف آئے دن شہر میں احتجاج اور مظاہرے ہوتے رہتے ہیں مگر آج تک کسی وزیر یا ذمہ دار نے اسمبلی سے پانی کی کمی کے خلاف واک آئوٹ نہیں کیا ۔ حکمرانوں کی اس نا اہلی اور پانی کی کمی کا پورا فائدہ ٹینکر مافیا اٹھا رہا ہے ۔ ٹینکر مافیا شہر میں پانی کی کمی کے نام پرکراچی شہر سے کروڑ وں روپے کما رہا ہے اور ساتھ ہی شہر کی سڑکیں بھی تباہ کررہا ہے ۔ شہر میں پانی کے اس نفع بخش کاروبار کو دیکھتے ہوئے ٹینکر مافیا نے جگہ جگہ ہائیڈرنٹس قائم کرلئے ہیں ۔ سپریم کورٹ میں کراچی کو صاف پانی کی فراہمی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ انسانی جانوں کا معاملہ ہے خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ حکومت ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہو تو عدلیہ کو مداخلت کرنی پڑتی ہے ہم کسی کیلئے بغض نہیں رکھتے۔ نہیں چاہتے کہ فیصلہ دیں تو کوئی کہتا پھرے فیصلہ کیوں دیا۔ درخواست گزار شہاب اوستو نے کہا کہ واٹر کمشن کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں 77 فیصد پانی قابل استعمال نہیں اور کراچی میں 80فیصد پانی میں انسانی فضلہ شامل ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پانی کا مسئلہ واٹر بم کی صورت اختیار کر رہا ہے۔کراچی اور سندھ کے مسائل سن کر بہت فکر مند ہوں۔ ہم عوام کی جانوں کا تحفظ کریں گے، گندا پانی ہونے کے باعث کینسر، ہیپاٹائٹس اور دیگر امراض میں لوگ مبتلا ہورہے ہیں۔ اس معاملے کی شنوائی کو عام نہ لیا جائے یہ معاملہ انتہائی اہم ہے۔ پانی کو صاف بنانے کا کام عدالتوں کا نہیں ریاست کا ہے۔ عدالت یہاں صرف یہ جاننے آئی ہے جس کام کیلئے پیسہ لیا گیا وہ پیسہ اس کام کیلئے کیوں نہیں لگایا گیا۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو حکم دیا کہ بہت ڈرامے ہو گئے اب سخت ایکشن لیا جائے۔ جبکہ عدالت میں ایم ڈی واٹر بورڈ اور دیگر افسروں کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے پینے کے صاف پانی سے متعلق اقدامات کئے جارہے ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ پیمرا کو بھی یہاں پر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے کہ وہ ایسی ویڈیوز دکھائیں تاکہ عوام کو پتہ چل سکے کہ عوام کس طرح کا گندا پانی پی رہے ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ تعلیم اور ہیلتھ پر کام نہیں کیا جارہا جس کی بہت سے شکایتیں ہیں اب کیا سپریم کورٹ ہی ہر معاملے پر نظر رکھے گی۔ عدالت نے کہا اب ہم افسروں سے نہیں صوبے کے وزیراعلیٰ سے پوچھیں گے۔ پینے کا پانی کہاں ہے ریاست کا کام لائنوں کے ذریعے شہریوں کو پانی دینا ہے،کوئی مرغیوں کا پنجرہ بھی بناتا ہے تو اس میں مرغی کے بیٹھنے کا خیال رکھتا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ گندہ پانی پینے والے نہ جیتے ہیں اور نہ مرتے ہیں زندگی اذیت میں مبتلا ہوجاتی ہے رفاہی پلاٹوں پر قبضے اور پانی نہ ملنے پر لوگ نئے شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔سپریم کورٹ کے حکم کے بعد سندہ کی حکومت کو اس مسئلے کے حل کے لئے عملی اقدامات کرنا ہوںگے تاکہ کراچی کیشہریوں کی زندگیوں سے کھیل کر پانی کی فروخت کا جو کاروبار اس شہر میں زوروں پر ہے ‘ اسے اب بند ہو جانا چاہئے ۔ ہائیڈرینٹس کا انتظام کبھی سندہ حکومت کے پاس ہوتا ہے تو کبھی سٹی حکومت کے پاس،اس مسئلے کو بھی حل کیا جائے ۔ ویسے یہ بات خوش آئند ہے کہ عدلیہ نے جسٹس (ر) مسلم ہانی کو واٹر کمیشن کا چیئرمین بنادیا اور اب امید ہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں پینے کے پانی کا مسئلہ حل ہو جائیگا جس کیلئے عوام عدلیہ کے شکر گزار ہیں اور ہوں گے۔