ذمہ دار کون؟

11 فروری 2018

پچھلے دنوں ایک اخبار میں کراچی کی صورتحال پر ایک دلچسپ تبصرہ پڑھا۔ اس میں دراصل کراچی کی گندگی، ابلتے ہوےَ نالوں، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور کچرے کے ڈھیر کا ذکر تھا۔ ان میں سے کوئی بھی بات جھوٹی نہ تھی۔ واقعی کراچی کی یہ حالت ہے کہ یہاں کے لوگ اس کی وجہ سے کرب اور اذیت کا شکار ہیں۔ ان پر جوگزرتی ہے وہ ہی جانتے ہیں۔ ان کی یہ حالت دیکھ کے افسوس تو ہوتا ہے پر یہ سوال بھی ذہن کو پریشان کرتا ہے کہ کراچی کی یہ حالت ہوءکیسے؟ یہ کچرا،یہ گندگی آخر آئی کہاں سے؟ اسکا جواب انہی سوالات میں پوشیدہ ہے۔ یہ کراچی کے باسیوں کا ہی پھینکا ہوا کچرا ہے جو آج کراچی والوں کے لیے وبال جان بن گیا ہے۔ یہی کچرا دراصل نالوں میں جا کر پھنس جاتا ہے جو گٹر کی لائن کو بلاک کرتا ہے جسکی وجہ سے یہ پا نی سڑکوں پر آجاتا ہے اور طرح طرح کی وبائی بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔ تو اس بات کا احساس کرنا بہت ضروری ہے کہ کراچی کے لوگ اپنے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ اس شہر کی حالت سدھارنے میں اپنا کردار بھی نبھائیں۔ حکومت کو گالیاں دینے کی بجاےَ اپنی غلطی کا اعتراف کریں اور اس شہر کی رعنائیوں کو واپس لو ٹائیں تا کہ کراچی دبارہ روشنیوں کا شہر بنے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو(۔فرحین صغیر۔کراچی)