ایران کےخلاف اس معاہدے کو نہیں دہرانا چاہتے جو دوسری جنگ عظیم کا سبب بنا،سعودی عرب

11 اپریل 2018 (20:07)

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہاہے کہ ایران اپنے مالی اثاثے عوام کی بہبود اور ترقی پر نہیں خرچ کر رہا بلکہ وہ یہ رقم اپنے نظریات پھیلانے پر لٹا رہا ہے۔پیرس کے الیزے پیلس میں فرانسیسی صدر امانوئل ماکروں کےساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ایران کے توسیع پسندی کے منصوبے پر روک لگائی جانی چاہیے۔ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنا ناگزیر ہے اورہم 1938 میں ہونے والے معاہدے کو دہرانا نہیں چاہتے ،جو دوسری جنگ عظیم کا سبب بنا تھا۔محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب اور فرانس کی شراکت داری بالخصوص موجودہ وقت میں نہایت اہم ہے۔ فرانس اور سعودی عرب کے درمیان اسلحے کی خریداری کے معاہدے ہیں اور یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے۔سعودی ولی عہد نے ویڑن 2030 پروگرام کے اہداف کے حوالے سے کہا کہ آنے والے وقت میں سعودی عرب تینوں براعظموں کیلئے کلیدی محور ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مملکت نے ابھی تک اپنی صلاحیتوں کا 10% سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔شام کے حوالے سے شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ہم ضرورت پڑنے پر اپنے حلیفوں کےساتھ کسی بھی عسکری کارروائی کیلئے تیار ہیں۔سعودی ولی عہد نے کہا کہ ہم خطے کی صورتحال مزید بگاڑنا نہیں چاہتے ہیں۔