قومی اسمبلی میں کالے دھن کو سفید کرنے کی ایمنسٹی سکیم سمیت تین آرڈیننس پیش

11 اپریل 2018 (16:49)

 قومی اسمبلی میں  کالے دھن کو سفید کرنے کی ایمنسٹی سکیم سمیت تین آرڈیننس پیش کر دئیے گئے جبکہ مہاجرین کی سمگلنگ کے تدارک کا بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا  ۔ سٹیٹ لائف  بیمہ کارپوریشن کی تنظیم نو کے بل کو سینٹ سے مقررہ مدت میں منظور نہ ہونے پر مشترکہ اجلاس کے سپرد کر دیا گیا ۔ حکومت نے سوشل میڈیا پر ہندو برادری کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے معاملات کی ایک ہفتہ میں تحقیقات کر کے رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کا اعلان کر دیا ۔ اقلیتی ارکان نے شکایت کی ہے کہ سوشل میڈیا میں ان کے بھگوان کی جگہ ایک سیاسی رہنما کی تصویر لگا کر پوسٹ کی جا رہی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے آرڈیننس کے حوالے سے حکومت پر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائر کر دیا ہے ۔ اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ چوہدری طلال نے مہاجرین کی سمگلنگ کے تدارک کا بل پیش کیا جسے قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ۔ وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل خان نے بیرونی اثاثوں کی وطن واپسی ملکی اثاثہ جات کے رضاکارانہ ظاہر کرنے اور انکم ٹیکس کے بارے میں 3 آرڈیننس ایوان میں پیش کئے ۔ تینوں آرڈیننس کالے دھن کو سفید کرنے اور ٹیکسوں میں رعایت دینے سے متعلق ہے ۔ اپوزیشن رہنماؤں سید نوید قمر ، شاہ محمود قریشی ، صاحبزادہ طارق اللہ ، شیخ صلاح الدین اور دیگر نے ایمنسٹی سکیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت رات کی تاریکی میں کالے دھن کو سفید کرنے کی سکیم لے آئی ۔ سید نوید قمر نے کہا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس طلب کئے جا چکے تھے ۔ خلاف ضابطہ آرڈیننس جاری کر دئیے گئے ۔ کابینہ کو بھی نظر  انداز کیا گیا ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آرڈیننس فیکٹری لگا لی گئی ہے ۔ اگر معاملات شفاف تھے تو رات کی تاریکی میں یہ آرڈیننس کیوں لائے گئے ۔ صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ حرام کی دولت کو جائز قرار دیا جا رہا ہے ۔ قوم ایمنسٹی سکیم کو مسترد کر چکی ہے ۔ جبکہ نکتہ اعتراض پر اقلیتی رکن رمیش لال نے شکایت کی کہ سوشل میڈیا پر ان کے بھگوان کی جگہ پر ایک سیاستدان کی تصویر لگا کر پوسٹ کی جا رہی ہیں ہمارے جذبات کو مجروح کیاجا رہا ہے ۔ لال چند نے کہا کہ جوتوں پر اس طرح ان کے جذبات کو مجروح کیا جا رہا ہے ۔ سپیکر سردار ایاز صادق نے رولنگ جاری کی کہ ایک ہفتہ میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کی جائے ۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ایف آئی اے کے ذریعے اس معاملے کی تحقیقات کروا کر رپورٹ پیش کر دی جائے گی ۔