کیا پاکستان تبدیل ہورہا ہے؟

11 اپریل 2018

پاکستان کی سیاسی تاریخ ایسے لمحات سے بھری پڑی ہے جب عوام کو یہ یقین دلایا گیا کہ بس ! اب پاکستان تبدیل ہونے کو ہے۔  ’’ روٹی کپڑا اور مکان‘‘،  ’’اسلامی نظام‘‘، ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘،  ’’ریاست ہوگی ماں کے جیسی‘‘ کے نعروں کے لیے پاکستانی قوم نے ہر بار سر دھڑ کی بازی لگائی لیکن بدقسمتی سے مفاد پرست طبقات نے ان تاریخی اورقیمتی لمحات کو اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے نہایت چالاکی سے استعمال کیا۔ اب ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ لگا کر نواز شریف صاحب قوم کو یہ باآور کرانا چاہتے ہیں کہ اگر اب قوم نہ اٹھی تو خدانخواستہ پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔  
1965؁ء ہی سے غور کیا جائے تو ذوالفقار علی بھٹوصاحب نے سوشلزم کے پرکشش نعرے کو اس وقت اپنی سیاسی حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا جب انھیں ایوب خان مرحوم نے وزارت خارجہ سے الگ کیا تھا۔ وزارت سے علیحدگی کے بعد چندروز تک تو وہ غم و الم کی کیفیت میں رہے۔ لیکن بعد میںوہ اٹھے اور مختلف شہروں میں ہونے والے اپنے فقیدالمثال استقبال کے نتیجے میں وہ ایک انقلابی رہنما کے طور پر سامنے آئے۔  اعلیٰ تعلیم، وسیع مطالعہ اور قادرالکلامی کی خصوصیات کے حامل بھٹو صاحب بہت جلد پسے ہوئے طبقات کے نمائیندہ رہنما بن گئے۔ لیکن اپنی بے شمار خوبیوں کے باوجود بقول ایک سنیئر تجزیہ کار ’’ وہ گڑھی خدا بخش میں ایک مزار ہی کا اضافہ کرپائے‘‘۔ یہ درست ہے کہ انہوں نے سیاست کو خواص کے مہمان خانوں سے گلی محلوں کے چوکوں تک پہنچایا لیکن  ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کے اپنے انقلابی منشور کے حوالے سے وہ پاکستان اور عوام کے لیے کچھ خاص نہیں کرپائے۔    
بھٹو صاحب کی حکومت جب ماشل لاء کے ذریعے ختم کی گئی تو ضیاء الحق صاحب نے اسلامی نظام کے نفاذ کا نعرہ لگا کر ملک کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالنے کا  اعلان کیا۔ لیکن ان کے اس نعرے اور عزم کے حقوق امریکہ نے اس وقت خرید لیے جب روس افغانستان میںداخل ہوا اور امریکہ نے اس خطے میں اپنا جنگی اثر قائم رکھنے کا موقع غنیمت جانا۔ یہ ضیاء الحق صاحب کی تعبیرِ اسلام ہی کا ’’ فیض ‘‘ہے کہ ان جہادی تنظیموں کی دہشت گردانہ کاروائیاں مسلم و غیر مسلم کی تفریق کے بغیر پوری دنیا کے لیے درد ِ سر بنی ہوئی ہیں۔
(1)جمہوری حکومتوں کے بعد پرویز مشرف کی صورت میں ملک و قوم کو تیکنیکی مارشل لاء کا دور ملا۔ تیکنیکی اس لحاظ سے کہ فوج کے سربراہ نے خود کو چیف ایگزیکٹو کہلوانا مناسب سمجھا۔ انہوں نے روشن خیالی اور سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر ملک کی تقدیر بدلنے کا اعلان کرتے ہوئے ملک کی تقدیر چوہدری شجاعت، پرویز الہی، فیصل صالح حیات، شیخ رشید جیسے دیگر کے حوالے کردی۔
پرویز مشرف کے دور حکومت ہی میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری صاحب ملازمت سے بے دخلی پر سراپا احتجاج ہوئے ۔اس تحریک کے بطن سے ’’ریاست ہوگی ماں کے جیسی‘‘ کے نعرے نے جنم لیا اور قوم کو یہ چلا چلا کر بتایا گیا کہ یہی وہ موقع ہے جس کے لیے :  
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
لیکن یہ تحریک  وکلاء گردی کے کلچر، ایک بلٹ پروف کا اور صاحبزادے کی  ایک پراپرٹی ٹائیکون کے ساتھ شراکت  اور بلوچستان میں ایک اعلیٰ سرکاری نوکری پر ختم ہوئی۔  
نواز شریف صاحب عدالت عالیہ سے نااہل ہونے کے بعد ووٹ کی عزت اور پاکستان کو بدلنے کے عزم کے ساتھ میدان سیاست میں ہیں۔ وہ اپنے ہر عوامی اجتماع میں اسٹیبلشمنٹ ( سول و ملٹری ، عدلیہ ) کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ نواز شریف ،  جنھوں نے ہر بار اقتدارکو کلی اقتدار و اختیار سمجھا اور ہر بار ہی یہ بھول جاتے ہیں کہ 1988؁ء سے سیاستدان اقتدار کے ایونوں میں اقتدارِ کل کے مالک کی بجائے شریک اقتدار کی حیثیت سے داخل ہوتے ہیں۔ سیاسی اصولوں اور قوانین کی رو سے اگرچہ یہ درست نہیں ہے۔ جس کی بنیادی وجہ سیاست دانوں کی اپنے قول و عمل سے ایسی کوئی مثال قائم نہ کرنا ہے جس سے وہ عوام سمیت ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد حاصل کرسکیں۔ لیکن اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی جب جب اقتدار ملا انہوں نے غیر معروف افراد کو متعاف کروا کر سیاستدانوں کے روپ میں پیش کیا ۔ اسٹیبلیشمنٹ کو دعویٰ تو قابلیت اور مہارت کا ہے۔ مگر افسوس۱ یہ قابلیت اور مہارت 
پانی کے نئے ذخائر کی تعمیر ، بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے روزگار کے مواقع  پیدا کرنے اور کسانوں مزدوروں کو جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کے چنگل سے نجات دلا نے سمیت مفاد عامہ اور مستقبلیات کی منصوبہ بندی  میں کوئی کردار ادا نہ کرسکی ۔
(2)موجودہ و سابق حکمرانوں نے ہمیشہ عالمی طاقتوں اور سرمایہ کاروں کے نمائیندے اور اتحادی کا کردار ادا کرتے ہوئے صرف اور صرف ان کے مفادات کی تکمیل کی ہے۔پاکستان اور اس کی عوام کے مسائل ان کی ترجیحات میں وہ درجہ اور توجہ حاصل ہی نہیں کرپائے جس کا تقاضا تھا ۔ سڑکیں، پل، میٹرو بس، مہنگے پاور پلانٹ اور مہنگی شرح سود پر قرضے ، اس کے علاوہ ان حکمرانوں نے کچھ اور سوچا ہی نہیں۔ کوئی شک نہیں کہ ملک کی معیشت میں سڑکیں اور پل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن سماجیات اور سیاسی معیشت کے ماہرین  کے نزدیک معاشروں میں انقلاب کا برپا ہونا اور جمہوریت کی مضبوطی ،  بڑی شاہراہوں کی تعمیر اورطویل وجدید ٹرانسپورٹ نظام کی بجائے صنعت کاری اور ٹیکنالوجی سے ممکن ہے۔ اس وقت تک مثبت تبدیلی کا سفر شروع نہیں ہوسکتا ہے جب تک عوام یہ طے نہیں کرلیں گے کہ ان کی معیشت اور سیاست کو کون سا طبقہ کنٹرول کرے گا۔ عوام کو یہ شعور دینے کے لیئے تعلیم و تربیت ہی مئوثر طریقہ ہے۔ یہ ذمہ داری، وطن عزیز کے دانشوروں، سماجیات، معیشت کے ماہرین اور مذہبی اسکالروں کو تمام تعصبات سے بالا تر ہوکر کما حقہ ادا کرنہ ہوگی ۔ ایسے ہوگا تبدیل عوام کا پاکستان۔