خدا کرے مری ارضِ پاک پر اترے

11 اپریل 2018

پاکستان گذشتہ سالوں میں اگرترقی نہ کر سکے تو اس کی یقینا وجہ پاکستان کی قیادت اور ایوان اقتدار میں براجمان اشرافیہ ہیں ، ملک خود ساختہ نظام کے تحت چلا جا رہا ہے۔حضرت قائد اعظم کی جدائی نے پاکستان کو اصل مقصد سے ہٹا دیا تھا۔پاکستان میں تبدیلی یا پھر اگر ترقی کا دور کہا جائے تو فیلڈ مارشل ایوب خان کا دور تھا،جب برابری کی سطح پر سپر پاور ’’امریکہ‘‘ سے معاہدے ہوئے ،جب پاکستانی صدر کو امریکی صدر خود استقبال کرنے ائیر پورٹ آتا،پاکستانی صدر دوستانہ اوربے تکلفانہ انداز سے امریکی صدر کے گال تھپتپاتاتھا۔آج تو پاکستانی لیڈر اور وزیر اعظم امریکی صدر کے ناشتے پر جانا ایک اعزاز سمجھتے ہیں،حالا نکہ چند ہزار ڈالر چندہ دے کر ہرپاکستانی امریکی وہاں جا سکتا ہے۔صدر ایوب خان کے ابتدائی دور میں امریکی ڈالر اور پاکستانی روپے میں واضع فرق نہ تھا ،آج اگر ہماری اور امریکی کرنسی میں زمین اور آسمان کا فرق ہے،اس طرح ہماری اور امریکہ کی حیثیت میں بھی فرق گیاہے،مگر دلچسپ حقائق یہ ہیں کہ 1960 ؁ء میں پاکستان کی جو اہمیت اور افادیت تھی ،آج پاکستان امریکہ کے لئے 1960؁ء سے بڑھ کر اہمیت کا حامل 1979؁ء اور 2000 ؁ء ،دو ایسے ادوار آئے کہ پاکستان اپنی اقتصادی حیثیت مظبوط کرسکتا تھا،دونوں ادوار میں پاکستان کے فوجی حکمران تھے،جن کا اقتدار طویل ترین تھا۔1979؁ء جنرل ضیاء الحق اگر چاہتے تو پاکستان کے سارے قرضے اُتر سکتے تھے ،عوام خوشحال ہو سکتے تھے،جب امریکی امداد ’’4 ارب ڈالر ‘‘کو جنرل ضیاء الحق نے ’’مونگ پھلی‘‘ قرار دیا ۔1979؁ء کی افغان روس جنگ نے پاکستان کا تمام کلچر تبدیل کر دیا،کلاشنکوف،ہیروئن کے علاوہ 30 لاکھ افغانی پاکستانی بن گئے،پاکستانیوں کی جگہ کاروبار،روزگار حاصل کیا مگر ہمدردیاں افغانستان کے ساتھ ہیں۔دوسرا دور 2000 ؁ء میں پرویز مشرف کو موقعہ ملا مگر پاکستان دہشت گردی کا شکار ہو گیا،امن وامان تباہ ہو گیا،مگر پاکستان اور خاص طور پر اسلام آباد کی جائیداد کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو ا،گذشتہ دنوں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں Dubai میں کھربوں کی جائیداد خریدنے والوں کے خلاف تحقیقات کے لئےNAB کوسفارش کی کمیٹی کے اجلاس صحافی کو بلایا گیا،جس نے سٹوری فائل کی صحافی نے بتایا کہ 5 ہزار پاکستانیوں نے Dubai میں کھربوں کی جائیدادیں خریدیں،صحافی سے سورس پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ 37 ہزارلوگوں میں سے 5 ہزار پاکستانی ہیں جنھوں نے جائیدادیں خریدیں ان کے پاس تمام جائیدادوں کی تفصیل بمعہ مالکان ہے،ایف بی آر کے نمائندے نے کمیٹی کے اصرار پر بتایا کہ ان کے پاس 55 پاکستانیوں کے ثبوت ہیں جنھوں نے وہاں جائیدادخریدی۔ عمران خان نے بھی دعویٰ کہا کہ تقریباََایک ہزار ارب کی جائیدادیں پاکستانیوں نے گذشتہ 2 سال میں خریدیں۔ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے بیرونی سرمایہ کے واپسی کی اپیل ہوتی تھی،جنرل ضیا کے وزیر خزانہ محبوب الحق نے بلیک منی کو ایک اسکیم کے تحت وائٹ قرار دیا تھا،کثیر تعداد میں سرمایہ پاکستان آیا،2013 ؁ء میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستانیوں کے 200ارب ڈالر بیرون ملک سوئیس بنکوں میں غیر قانونی ذرائع سے گئے،ان کی واپسی کے اقدامات کئے ہیں۔اسحاق ڈار کے اقدامات سے پاکستان میں گذشتہ تین سالوں سے پراپرٹی کا بحران ہے،صرف D/C ویلیوپر جائیداد کی قیمت کا تعین کرنا اور بے پناہ ٹیکس لگانا اور ٹیکس والے سرمایے کا سورس معلوم کرنے کے نوٹس جاری کرتے ہیں۔پاکستان میں پراپرٹی پر ٹیکس لگانے پر سرمایہ دار اپنی بہتر سرمایہ کاری کے لئے دوبئی بھاگ گیا،اسحاق ڈار نے سونے کے انڈے حاصل کرنے کے علاوہ پراپرٹی ٹائیکون کی مرغی کھا لی،پاکستان میں پراپرٹی کی فیلڈ میں بحران آگیا،تمام سرمایہ ایک حکمت عملی یا پھر بے وقوفی ،نالائقی سے باہر چلا گیا۔1996-97 میں بحریہ ٹائون کا نام کوئی نہیں جانتا تھا۔MES کا نا کام ٹھیکیدار بہت زیادہ تعلیم یافتہ بھی نہ تھا،معمولی سرمایہ بھی نہ تھا، ایف بی آر نے192 ارب کے ٹیکس کا نوٹس ارسال کیا۔ ایف بی آر سالانہ تقریباََ 25 سو ارب ریوینو اکٹھا کرتا ہے2015۔پاکستان میں جو برسر اقتدار آیا اس نے صرف اپنی ذات کے لئے سوچا،جنرل ضیاء جب صدر پاکستان ہوئے تو ان کی ایک معذور بیٹی تھی،جس کا دکھ اور کرب ان کو معلوم تھا،اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے پاکستان میں سرکاری ملازمت میں معذوروں کا کوٹہ مختص کیا جس سے ہزاروں لوگ فائدہ حاصل کرتے ہئں،مگر اس سے قبل کسی حکمران کو خیال نہ آیا کیونکہ ان کے گھر کوئی معذور نہ تھا۔پاکستان 70 سال میں ایک قوم اور نظریے کا ملک بن نہ سکا،بھارت میں ہندو سے ذیادہ مسلمان بھارت کو اپنا ملک مانتے ہیں۔پاکستان میں تو مسلمان ہی اس ملک سے مخلص نہیں۔1965 ؁ء پاک بھارت جنگ میں بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے اپنی قوم سے جنگ کے لئے National Defence Fund میں چندہ جمع کرانے کی اپیل کی تو نواب حیدرآباد میر عثمان علی خان نے بھارتی وزیر اعظم کو حیدارآباد آنے کی دعوت دی اور پاکستان کے خلاف جنگ میں 5 ہزار کلو (5 ٹن)سونا چندے میں دیا۔2018 ؁ء تک بھارت میں ملک کے لئے چندہ دینے کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے،پاکستان میں تو کوئی مسلمان تک نہیں دیتا۔1998؁ء میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے،اقتصادی پابندی لگ گئی ،پاکستان کے وزیر اعظم محمد نواز شریف کی اپیل پر 3 سو ملین ڈالر پاکستان آئے مگر کسی کو پتہ نہیں کہ کہاں گئے،آفرین ہے ان غریب محنت کشوں پر جو کہ سالانہ 16 ارب ڈالر سے زائد پاکستان میں ذرمبادلہ بھجتے ہیں ،مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملکی دولت بیرون ملک کون اور کیوں لے کر جاتا ہے؟۔پاکستانیوں سے جائز اور نا جائز ذرائع سے حاصل دولت بیرون ملک منتقل کرنے والے اصل میں پاکستان کے میر صادق،میر قاسم اور میر جعفر ہیں۔آج 70 سال کے بعد پاکستان اور پاکستانیوں کی آخری اُمید صرف اور صرف عدالت عالیہ اور پاک فوج ہے،اگر آج بھی مقصد صرف سیاست ہے تو اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب کو پورے ایمان اور یقین سے کہتا ہوں کہ 22 کروڑ پاکستانی عوام ان کی پشت پر ہوں گے ،عدالت عالیہ کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوں گے،اگر پاکستان میں کرپشن کی سزا موت ہو گی تو پھر بیرون ملک 200 ارب ڈالر واپس آئیں گے،انصاف اور قانون سب کے لئے یکساں ہوں،’’اللہ پاکستانی قوم کی آخری اُمید کو مایوس نہ کرے‘‘۔
’’خدا کرے مری ارضِ پاک پراترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہ ئِ زوال نہ ہو‘‘