ماضی سے رشتہ دوبارہ جو ڑنا پڑے گا

11 اپریل 2018

بچپن میں جب ہم رات اپنے والد کے ساتھ لیٹا کرتے تھے تو والد محترم ہر رات ایک نئی کہانی سنا یا کر تے تھے ، عمر اُس وقت پانچ برس کے لگ بھگ تھی گر می ہو یا سر دی ہو 12ماہ اپنے والد سے کہانی کی فر مائش کیا کر تے تھے ہمارے والد کبھی تو تھکے ہوتے تو ڈانٹ دیتے تھے کبھی پیار سے سمجھا دینا آج نہیں کل سنائوں گا اور کبھی تواتر کے ساتھ ہمیں کہانیاں سننے کو ملتی اُن کہانیوں میں کچھ واقعات کچھ قصے قرآن پاک سے سنائے جاتے کچھ باتیں سیرت طیبہ سے سنائے جاتے اور کچھ سلا طین ِ دہلی کبھی بغداد کی کہانیاں کبھی کر بلا کا واقعہ کبھی مغلوں کی تاریخ کبھی اورنگ زیب عالم گیر کبھی رام چندر کی کہانی کبھی کر یشن کی کہانی کبھی اشوکا اور راجہ پورس کے واقعات کبھی انگریز کا برصغیر میں داخل ہونے کی کہانی کبھی 1857ء کی جنگ ِ آزادی ، جنرل بخت خاں کی کہانی کبھی سر سید کے بارے میں بتا نا کبھی غالب کی شاعری سمجھانی اور سنانی کبھی اقبال کے خودی اور شاہین
کے اوپر لکھے ہوئے اشعار پڑھ کے سنانے اور اقبال لاہوری کے بارے میں اُن کے قصے سنانے پھر تحریک پاکستان کی پوری کہانیاں جیسے جیسے تحریک آزادی نے زور پکڑا اور تاریخ کے حالات و واقعات سلطنت ِ عثمانیہ جو کہ 1923ء میں تو ڑ دی گئی اور اُس سلطنت کے حصے بخرے کچھ جر منی نے لے لئے کچھ اٹلی نے کچھ فرانس نے کچھ بر طانیہ نے کچھ پر تگا ل نے اِن سارے واقعات کو دہرانے کا مقصد صرف اتنا ہے اور یہ ضرورت آج مجھے کیوں پیش آئی وہ میں آج بیان کرنے جا رہا ہوں کہ چند دن پہلے میں نے ایک چینل پر ایک پروگرام دیکھا جس میں کہ ایک نوجوان مائیک ہاتھ میں پکڑے ہوئے مختلف پارکوں میں شاہراہوں پر مارکیٹوں میں لوگوں سے سوال کرتا ہے کہ پاکستان کب بنا کوئی کہتا ہے کہ 23مارچ 1940ء کو کوئی کہتا ہے کہ تب ہم پیدا نہیں ہوئے تھے ہمیں نہیں معلوم کوئی کہتا ہے کہ 1960ء میں کوئی کہتا ہے کہ جی مجھے یا د نہیں جی اِس سروے میں ہر عمر کا شخص بچے بچیاں اور خواتین شامل ہیں اور میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا یہ دیکھ کر یہ سن کر جب اُس نے ایک خاتون سے سوال کیا کہ پاکستان کے بانی کون تھے تو اُس بی بی نے کہا علامہ اقبال ! اور اسی طرح پاکستان کے لوگوں سے جتنے بھی سوالا ت پاکستان کے حوالے سے کئے گئے تحریک پاکستان کے حوالے سے کئے گئے اُن کے کو ئی بھی جوابات نہیں دے سکا اِس المیہ کی جو وجہ مجھے سمجھ آئی ایک تو یہ کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ وہ رابطہ ختم کر دیا ہے جو کہ بچپن میں ہمارے والدین نے ہمارے ساتھ اُستوار کر رکھا تھا کہ ہم لوگ ایک کمرے میں سوتے تھے ماں باپ کے ساتھ اور پھر ہم اُن سے کہانی سنا کر تے تھے آج کے والدین نے اپنے بچوں کو کہانی سنانا ختم کر دی ہے کیونکہ اُن کے پاس وقت نہیں ہے اور وہ اپنے بچوں کو اپنے ساتھ سو لانے کے لئے بھی تیا ر نہیں ہیں کیونکہ اُن کی پراویسی میں خلل پڑتا ہے یہی وہ مین وجوہات ہیں جن کی بنا پر ہماری آنے والی نسل اور جو ہمارے بعد کی نسل ہے اُس نے اپنے خاندان میں اپنے بچوں کے ساتھ مکالمہ کر نا چھوڑ دیا ہے آج کے دور کے والدین کو صرف اگر کسی بھی چیز سے غرض ہے تو وہ اپنے بچوں کی پر سنٹیج ہے کی جی اِس نے اے لیول میں 95پرسنٹ نمبر حاصل کئے ہیں او لیول میں 98پر سنٹ نمبر حاصل کئے ہیں اور بچوں پر بے تحاشہ ایسی پڑھائی جس کا کہ ہمارے موجودہ تعلیمی نظام جس کا کہ کوئی ڈھانچہ مکمل اور مضبوط نہیں ہے اُس میں انگلش میڈیم ہے اُس میں اردو میڈیم ہے اُس میں سندھی میڈیم ہے اُس میں پشتو میڈیم ہے اور صرف اور صرف ٹیوشنز پر زور ہے بچہ صبح 7بجے سکول جاتا ہے ڈھائی بجے گھر آتا ہے آکر کھانا کھاتا ہے یا ٹیوشن پر چلا جاتا ہے یا ٹیوٹر گھر آجاتا ہے جب ٹیوشن ختم ہوتی ہے تو قاری صاحب گھر آجاتے ہیں یا بچہ مسجد میں سبق پڑھنے چلا جاتا ہے اور پھر رات کو لیٹ گھر واپس آتا ہے اور اتنا تھک چکا ہوتا ہے کہ وہ نہ اپنے ماں باپ سے کوئی کہانی کی فر مائش کر سکتا ہے اور نہ ہی والدین کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے سے اُس کے روز مرہ کے معمو لات کے بارے میں بات چیت کر سکیں کیوں کہ اُن کو بھی جلد ی ہوتی ہے انھوں نے بھی صبح اپنے اپنے کاموں پر جانا ہوتا ہے اِس ساری دکھی کہانی لکھنے اور آپ کو سنانے کا صرف مقصد اتنا ہے کہ ہمارے بچے اور جو ہمارے ملک کا مستقبل ہیں اُن کو اپنے قومی ہیروز کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے نہ وہ محمود غزنوی کو جانتے ہیں نہ وہ صلاح الدین ایوبی کو جانتے ہیں نہ وہ نور الدین زنگی کو جاتے ہیں نہ وہ محمد بن قاسم کو جانتے ہیں نہ وہ ٹیپو سلطان کو جانتے ہیں نہ وہ محمد علی جناح کو جانتے ہیں نہ وہ شیر ِ بنگال فضل ِ حق کو جانتے ہیں نہ وہ وقار الملک کو جانتے ہیں نہ وہ محسن الملک کو جانتے ہیں نہ وہ علامہ اقبال کے بارے میں آگاہی رکھتے ہیں انھیں صرف انگریزی اور مغربی تہذیب سلیقہ طریقہ اورقرینہ سکھایا جارہا ہے جس میں اپنے اسلاف کے بارے میں انھیں متنفر کیا جارہاہے جب ہم چھوٹی کلاسوں میں پڑھا کرتے تھے بچپن میں تو ہمارے سلیبس میں یہ چند نام جو میں نے اوپر تحریر کئے ہیں یہ ہمارے قومی ہیروز ہوا کر تے تھے ہم اِن کی کہانیاں پڑھ پڑھ کر سن سن کر اپنے اندر جوش جذبہ ایمانی اور عشق محمد کی تپش محسوس کیا کر تے تھے مگر اب مجھے نہایت افسوس سے یہ لکھنا پڑھ رہا ہے کہ ہماری آنے والی نسلوں کو ہمارے ماضی سے دور کر دیا گیا ہے اور اِس میں صرف والدین کا قصور نہیں ہے اِس میں ہمارے تعلیمی اداروں ہمارے اساتذہ کرام ہمارے سیاست دانوں ہمارے دینی اور مذہبی رہنمائوں اور ہمارے جمہوریت کے علمبرداروں کا اِس میں ہاتھ ہے آئیے ہم سب مل کر اپنے بچوں کو اُس تباہی اور بر بادی سے بچائیں جو کہ ہمارے بے شمار پرائیویٹ سیکٹر کے سکول کالجوں اور یونیورسٹیوں میں منشیات کو فروغ دے رہے ہیں اور اُن لوگوں کو کوئی روکنے والا نہیں اُن کے پیچھے بڑے بڑے سیاسی اور بااثر لوگوں کا ہاتھ ہے آپ اور ہم اگر زینب کا کیس دیکھیں اور پھر اِ سی طرح چند دن پہلے جڑاں والا میں معصوم بچی کا قتل دیکھیں اورفیصل آباد کی ایک نوجوان طالبہ کا قتل دیکھیں جسے کے یونیورسٹی سے اغوا ء کرکے ڈجچ کورٹ کے علاقے میں بڑی بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا گیا ہم کس قدر بے حس قوم ہوچکے ہیں کہ ہم ظلم سہتے ہیں مگر ظالم کا ہاتھ پکڑنے کی سکت نہیں رکھتے ہم خو د غرض قوم بن چکے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے بچے گھر میں ہیں تو پورا ملک محفوظ ہے مگر ایسا نہیں ہے ہمارا آوے کا آوا ہی بگڑ چکا ہے اور ہمیں ٹھیک کرنے کے لئے ایک بھر پور جدوجہد کی ضرورت ہے جو کہ ہم تعلیمی نظام کو بہتر کر کے اپنے ملک میں لاسکتے ہیں اپنے بچوں کو پھر سے اپنے اسلاف کی کہانیاں سنانی شروع کردیں بچوں کی کتابوں میں اپنے قومی ہیروز کے بارے میں معلومات دینا شروع کردیں اپنے نبی ؐسے محبت کا درس اور غریبوں سے پیار کرنا سیکھا دیں تو ہمارا معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن سکتا ہے مگر اُس کے لئے ہمیں اپنے ماضی سے رشتہ دوبارہ جو ڑنا پڑے گا اگر ہم ایسا نہ کر سکے تو پھر ہم ایک دیوانہ قوم بن کے رہ جائیں ۔