مخدوم سید غلام اصغر بخاری ایک روحانی شخصیت

11 اپریل 2018

اپنی خاندانی رفعت و عظمت کے حوالے سے اوچشریف کی عظمت رفتہ کے امین‘ سجادہ نشین درگاہ جلالیہ‘ سہروردیہ‘ عالیہ‘ سابق چیئرمین بلدیہ اوچشریف مخدوم سید غلام اصغر بخاری کا تعلق برصغیر پاک و ہند کے اس صوفی خاندان سے ہے جس کو خطہ پاک اوچ میں اسلام کی نورانی کرنیں بکھیرنے کا شرف حاصل ہے‘ اس خانوادہ کے جد امجد حضرت مخدوم سید جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاریؒ تقریباً ساڑھے آٹھ سو سال قبل اپنے پاکیزہ جذبات اور حسن عمل کے ساتھ اس دھرتی پر وارد ہوئے اور اس گوشے کو اسلام کی روشن تعلیمات سے آشنا فرمایا۔
مخدوم سید غلام اصغر بخاریؒ کو خانوادۂ بخاریہ کے مورث اعلیٰ ہونے کا اعزاز حاصل ہے‘ بزرگوں کے لاڈپیار اور لوگوں کی محبت نے انہیں مخدوم سید غلام اصغر بخاری سے ’’اچھی سائیں‘‘ بنا دیا اور وہ اسی نام سے معروف ہوئے‘ پاکستان اور دنیا بھر میں ان کے عقیدت مند لاکھوں کی تعداد میں بستے ہیں‘ آپ ایک بہترین منتظم اور نظم و ضبط کی دلدادہ شخصیت تھے‘ ان کی سیاسی زندگی ہمیشہ بے داغ رہی‘ سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ان کا شمار قومی اتحاد کے سرگرم رہنماؤں میں ہوتا تھا‘ حکومت کی طرف سے ہر قسم کی ترغیب کے باوجود آپ کسی لالچ اور خوف کا شکار نہیں ہوئے۔
مخدوم سید غلام اصغر بخاریؒ نے ہمیشہ انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنایا‘ 1973 کا بدترین سیلاب اپنی قہرسامانیوں کے حوالے سے اوچشریف کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا‘ بند کے توڑ دینے سے یہ تاریخی شہر خس و خاشاک کا ڈھیر بن گیا تھا‘ سیلاب کے ٹھاٹھیں مارتے پانی اور اوپر سے متواتر کئی روز سے برسنے والی موسلادھار بارش نے عوام کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا تھا‘ مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں سادات بخاری کے اس چشم و چراغ نے اپنے بھائی چیف آف سادات مخدوم سید عون محمد بخاری‘ اپنے صاحبزادے مخدوم سید زمرد حسین بخاری (موجودہ سجادہ نشین) اور اپنے بھتیجے‘ خادم الفقراء مخدوم سید سلطان جہانیاں بخاری کے ہمراہ دن رات ایک کر کے ڈوبتے لوگوں کو نہ صرف بچایا بلکہ ان کو اپنی رہائش گاہ ’’بنگلہ بخاری‘‘ خالی کر کے سر چھپانے کو جگہ فراہم کی‘ مفلوک الحال لوگوں کیلئے لنگرکا اہتمام کیا‘ بچوں کو دودھ اور مویشیوں کو چارہ فراہم کیا‘تین ماہ تک مخدوم سید غلام اصغر بخاریؒ نے اپنے اخراجات سے سیلاب متاثرین کی بھرپور مدد کی۔
مخدوم سید غلام اصغر بخاریؒ نے اوچشریف کی بلدیاتی سیاست میںہمیشہ فعال کردارادا کیا‘ آپ دو مرتبہ میونسپل کمیٹی اوچشریف کے چیئرمین منتخب ہوئے بطور چیئرمین آپ نے کمال فراست‘ تدبیر اور غیر جانبدارانہ طریقے سے اپنے فرائض سرانجام دیئے‘ ان کے دونوںادوار میں شہر میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے‘ بلدیہ کی حدود میں اضافہ ہوا‘ اوچشریف کی اس نڈر اور بے باک شخصیت کی وفات18 اپریل2005ء کو لاہور میں ہوئی آپ کی آخری آرام گاہ درگاہ حضرت مخدوم سید جلال الدین سرخپوش بخاریؒ کے احاطے میں مرجع خلائق ہے۔