پینے کا ناقص پانی-کالایرقان پھیلنے لگا

11 اپریل 2018

ٹبہ سلان پور میں سب سے اہم مسئلہ صاف پانی کی فراہمی کا ہے زیرزمین پانی بھاری اور ناقابل استعمال ہے ناقص پانی کے استعمال سے اس وقت سینکڑوں کی تعداد میں کالے یرقان کے مریض موجود ہیں المیہ یہ ہے کہ کالے یرقان کے مریضوں کے لئے مقامی ہسپتال میں نہ پی سی آر ٹیسٹ کی سہولت ہے اور نہ ہی مقامی سطح پر ادویات فراہم کی جا رہی ہیں سب تحصیل ٹبہ سلطان پور کے سینکڑوں مریضوں کو علاج معالجے کے لئے ڈی ایچ کیو وہاڑی جانا پڑتا ہے جہاں کالے یرقان کے مریضوں کو مسلسل کئی کئی روز دھکے کھانا پڑتے ہیں۔
شہر کا زیرزمین پانی ناقص ہونے کی وجہ سے رکشائوں اور منی ویگنوں پر پانی لا کر فروخت کیا جا رہا ہے جو لوگ پانی خرید کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ پریشان ہیں۔ 1981ء میں صاف پانی کی فراہمی کے لئے واٹر سپلائی سکیم چالو کی گئی جو کہ کامیاب نہ ہو سکی جتنی جلدی ممکن ہو سکے شہر کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے کیونکہ جان ہے تو جہان ہے۔ ٹبہ سلطان پور کے ہزاروں کاشتکاروں کو اپنے رقبے کی رجسٹری اور دیگر زمینی معاملات میں میلسی جانا پڑتا ہے تحصیلدار آفس میلسی کے کمپیوٹرائزڈ سنٹر پر کاشتکاروں کو ہر لحاظ سے بے عزت کیاجاتا ہے اور دھکے کھانے پڑتے ہیں اگر ٹبہ سلطان پور میں رجسٹری برانچ کا اعلان کیا گیا ہے تو عمل بھی ہونا چاہئے محض اعلان ناکافی ہے۔
دانش سکول ٹبہ سلطان پور میں ہونے والا کام سست روی کا شکار ہے کئی بار کام کی جلد تکمیل کے لئے ڈیڈلائن دی گئی مگر کام مکمل نہ ہو سکا جس وجہ سے تاحال سکول کا باقاعدہ افتتاح نہیں ہو سکا۔ سکول کے تعمیراتی کام کے مٹیریل کے ناقص ہونے‘ گورنر بورڈ میں اقرباپروری بارے تواتر سے خبریں چلتی رہی ہیں اگر دانش سکول ٹبہ سلطان پور کے لئے واقعی تحفہ ہے تو میرٹ کا بھی خیال رکھا جائے اور جس عظیم مقصد کے لئے یہ سکول بنا ہے واقعی نادار اور مفلس و قلاش طلباء کو فائدہ پہنچانا چاہئے شہر میں گراں فروشی عروج پر ہے جو پھل اور سبزی میلسی میں 50روپے کلو فروخت ہو رہی ہوتی ہے ٹبہ سلطان پور میں 100روپے کلو فروخت ہو رہی ہوتی ہے ایک ہی مارکیٹ کمیٹی ہے اور اس قدر کھلا تضاد کیوں ہے کبھی کسی ذمہ دار شخص نے ریٹ لسٹ چیک نہیں کی۔ غریبوں کے واویلے اور چیخ و پکار سے گراں فروشی ختم نہ ہوگی جب تک ذمہ دار افراد رشوت نہ چھوڑیں گے اور رشوت لے کر گراں فروشوں کی سرپرستی سے دستبردار نہ ہوں گے۔ شہر میں دونمبر اور ناقص و ملاوٹ شدہ اشیاء دھڑلے سے فروخت ہو رہی ہیں۔ اہلیان علاقہ نے ارباب اختیار سے علاقے کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔