سرِعام سزاؤں کا پھر سے نفاذ ہونا چاہئے !

11 اپریل 2018

راقم الحروف آج سے تقریباً14,13 برس قبل محکمہ جیل خانہ جات پنجاب سے سینئر سپرنٹنڈنٹ جیل کے عہدے پر محکمہ کو خیرباد کہا۔ 38,37 سالہ ملازمت کے دوران جب اپنی پرانی یادوں کے گلدستے کو دیکھتا ہوں تو کوئی نہ کوئی پھول ایسا سامنے آ جاتا ہے جس کا تعلق زمانۂ حال سے بھی جُڑ جاتا ہے۔ آج کل ایک کیس سے متعلق سرعام پھانسی کی سزا کا تذکرہ میڈیا پر ‘ قومی اخبارات میں زیر بحث ہے۔ اس ضمن میں میرا اس کے قانونی پہلوؤں سے دور کا بھی تعلق نہ ہے۔ سرعام چند اسلامی سزاؤں پر عملدرآمدگی کا ذاتی تجربہ ہے۔ جو زیر قلم لانا چاہتا ہوں۔
جنرل ضیاء الحق کے دور کی بات ہے۔ 18 جولائی 1977 ء ایک عادی مجرم رسہ گیر کو سمری ملٹری کورٹ مظفر گڑھ نے ایک سال قید سخت اور 6 کوڑوں کی سزادی۔ میں اس وقت قائم مقام سپرنٹنڈنٹ جیل مظفر گڑھ تعینات تھا کیونکہ حقیقی سپرنٹنڈنٹ جیل رخصت پر تھے۔ سمری ملٹری کورٹ (ٹرائل کورٹ) کے جج میجر محمد اقبال خان نے مجھ سے فون پر رابطہ کیا اور حکم ہوا اس کوڑوں کی سزا پر عملدرآمد اپنی موجودگی میں مظفر گڑھ شہر کی کسی مشہور بارونق جگہ پر کرانا چاہتے ہیں کیونکہ ملک میں لاقانونیت زور پکڑ رہی ہے۔ اور حالات کو کنٹرول کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ میں نے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ جیل کا اختیار تو فقط، جیل حدود تک ہوتا ہے۔ جیل حدود سے باہر اس کیلئے مناسب انتظامات کرانا توضلعی سربراہ یعنی ڈی سی او اور ایس پی صاحبان سے آپ کو رابطہ کرنا ہو گا۔ فقط کوڑے مروانے کا عمل جیل حکام کی ذمہ داری ہو گی۔ قصہ مختصر ضلعی انتظامیہ کے فیصلے کی روشنی میں مظفر گڑھ شہر میں ’’قنوان چوک‘‘ پر جہاں سے ہر طرف سڑکیں نکلتی تھیں اور اس وقت کوئی بائی پاس وغیرہ نہ تھے۔ ملتان‘ ڈیرہ غازیخان وغیرہ کی تمام ٹریفک اسی چوک سے گزرتی تھی کا انتخاب کیا گیا۔ سزا ایک روز قبل سنائی گئی۔ اگلے روز پولیس حکام نے تمام خاطر خواہ بندوبست کر دیا۔
ایک ڈیوٹی مجسٹریٹ غالباً تاج الملوک کی ڈیوٹی لگا دی گئی۔ کیونکہ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔ پاکستان میں یہ پہلا موقعہ تھا۔ایک سزا پر سرِعام عمل درآمد کرایا جانا تھا۔ شہر میں اعلانات کرا دیے گئے۔ 18 جولائی 1977 ء کو دوپہر تقریباً 11 بجے آرمی ٹرائل کورٹ کے آفیسر موصوف اور ایک آدمی میڈیکل آفیسر کے ہمراہ مذکورہ بالا مجرم کو قنوان چوک پر لایاگیا۔ ہم جیل حکام نے کوڑے لگوانے کیلئے ٹکٹکی‘ کوڑے مار وغیرہ کا انتظام 11 بجے سے قبل کر دیا تھا۔ قنوان چوک کی سڑکات عوام الناس سے کھچا کھچ بھر چکی تھیں یہاں تک کہ سڑکوں پر جگہ نہ تھی تو لوگ مکانوں اوردکانوں کی چھتوں پر چڑھے ہوئے تھے۔ ضروری کوائف جیل قوانین مکمل کرنے کے بعد مجرم کا آرمی میڈیکل آفیسر نے کوڑے کھانے کیلئے فٹنس چیک اپ کیا۔ اس کے بعد مجرم کو ٹکٹکی پر باندھ کر کوڑے لگوانے کا عمل شروع کیا گیا۔ اس پر عوام الناس نے سڑکوں پر ‘ عمارات کی چھتوں پر اسلام زندہ باد‘ اسلامی نظام زندہ باد کے نعرے بلند کرنا شروع کر دیے اور صدر پاکستان فوج کے حق میں نعرے مظفر گڑھ کی فضا میں گونج رہے تھے۔مجرم کی 3 کوڑے کھانے کے بعد ذرا حالت بگڑنے لگی تو آرمی میڈیکل آفیسر نے ٹکٹکی پر ہی اس کی نبض اور ہارٹ بیٹ وغیرہ کا معائنہ کیا ۔ پھر مجھ سے اور میجر صاحب سے مشورہ کیا۔ میجر نے کہا ہمارا مقصد مجرم کو مارنا نہیں ہے بلکہ جُرم کو مارنا ہے۔ میں نے کہا ہم جیل والوں نے انتہائی خطرناک مجرموں کو 20,15,15 کوڑے مروائے ہوئے ہیں۔ یہ ڈاکٹر جیل کی ذمہ داری میں آتا ہے اگر وہ فٹنس ڈیکلیئر کرتا جائے تو عمل جاری رہتا ہے کیونکہ اس موقع پر ڈاکٹر جیل کا تو کوئی تعلق نہ تھا۔ آرمی میڈیکل آفیسر سی ایم ایچ پر وہ زیر نگرانی تھا اور کچھ دیر سستانے کے بعد انہوں نے دوبارہ ٹکٹکی پر اسے چیک کیا اور بقیہ 3 کوڑے بھی لگوا دiے لیکن ہمیں کچھ ہدایت دی کہ ’’ہتھ ہولا رکھیں‘‘ میں نے فلاگر(کوڑے مار) کو اشارہ دیا۔ بہرحال سزا کوڑوں پر عمل درآمد ہو گیا۔ مجرم نیم بیہوشی کے عالم میں آرمی کی گاڑی میں ہی ایک سال قید بامشقت کاٹنے کیلئے مظفر گڑھ جیل میں داخل کرا دیا گیا۔ شام تک اس کی حالت سنبھل گئی۔ ڈاکٹر نے تسلی دی کہ کوئی خطرے والی بات نہ ہے۔وہ مجرم ضرور تھا لیکن خطرناک کیٹیگری سے تعلق نہ تھا۔
ہمیں شہر کے ہر کونے سے فون آتے رہے کیا سکول‘ کالج(خواتین بالخصوص) معززین شہر اسکی حالت کی خبر لیتے رہے۔ پولیس تھانوں سے ایس ایچ اوز صاحبان ماتحت افسران سے ذکر کرتے کہ مجرمین ضلع سے بھاگ گئے ہیں۔ تھانے سنسان ہو گئے ہیں۔ بالخصوص لیڈیز کالج کی پرنسپل‘ سکولوں کی ہیڈ مسٹریس وغیرہ فون کرتیں کہ جیل والوں نے ہمیں کیوں نہیں آگاہ کیا۔ ہم انہیں وضاحت کرتے شہر میں اعلانات تو ہوتے رہے۔ یہ جیل حکام کا کام نہ تھا۔ اس کے بعد مختلف جرائم کے تحت آرمی کورٹس نے لاہور‘ کراچی اور دیگر شہروں میں جس میں ایک رشوت خوری کا مجرم بھی تھا اسے بھی برسرعام کوڑوں کی سزا سنائی اور عمل درآمد ہوا۔
اسی طرح22 مارچ 1978 ء کو ڈسٹرکٹ جیل(اس وقت کیمپ جیل) لاہور کے باہر بھی سرعام پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔ باہر ایک عارضی پھانسی گھاٹ تعمیر کیا گیا۔ اخباری خبروں کے مطابق ایک 12 سالہ لڑکے اعجاز کو اغوا کیا گیا اس کے والد سے بھاری تاوان کا مطالبہ کیا گیا جو پورا نہ ہوا۔ نتیجتاً بچے کو گلا دبا کر ہلاک کر کے نالے میں پھینک دیا گیا۔ سپیشل ملٹری کورٹ لاہور نے 11-3-78 کو سزائے موت دی۔ مجرموں کا تعلق تحصبل باغ آزاد کشمیر سے تعلق تھا۔ ہائی کورٹ لاہور سے رٹ خارج ہو گئی۔ صدر پاکستان نے رحم کی اپیل بھی خارج کر دی اور شام 5 بجے تینوں مجرموں کو بیک وقت ایک بھاری ہجوم کے سامنے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔خبروں کے مطابق وہاں بھی فلک شگاف نعرے لگائے گئے۔ اسلامی نظام زندہ باد۔ یہ پرامن پرسکون یعنی عدم دہشت گردی کے دن تھے۔ کیا آجکل ایسا ممکن ہو گا اس انتظامی نقطہ پر غور کرنا پڑے گا جہاں سٹیڈیم میں کرکٹ میچ کرانے کیلئے ارضی اور فضائی نگرانیاں عوام الناس کے سامنے ہیں۔ کہ سٹیڈیم کی اردگرد کی سڑکیں بلند و بالا عمارتوں‘ ہوٹلز وغیرہ سیل کرنے پڑتے ہیں۔ ہمیں جذبات سے ہٹ کر سوچنا ہو گا۔