پاکستان اور ہندوستان۔ایک موزانہ

11 اپریل 2018

پاکستان اور ہندوستان کا تھوڑا سا موازنہ کرنے سے پہلے لفظ ہندوستان کے بارے میں وہ تحقیق مختصراً نقل کی جارہی ہے جو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ایک محقق کاشاہکار ہے۔
ہند:1۔ پرانے زمانے میں سندھ کے مشرقی علاقے کو ہند کہا جاتا تھا
2۔ اس سے جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک بھی مراد لئے جاتے تھے مثلاً انڈونیشیا وغیرہ
سندھ:۔سندھ سے سندھ، مکران، بلوچستان، پنجاب کا کچھ علاقہ اور شمالی مغربی سرحدی صوبہ( موجودہ نام خیبر پختون خواہ) مراد ہوتا تھا۔ہند اور سندھ1۔ مسلمانوں کی آمد سے پہلے ہندوستان کا کوئی ایک نام نہ تھا۔
2۔ ہند اور سندھ دونوں مل کر ہندوستان کو ظاہر کرتے تھے۔
3۔ اہل فارس( فارس کا موجودہ نام ایران بمعنی آریہ لوگوں کی سرزمین) اس علاقے، جواب سندھ ہے۔ پرحملہ کرکے اسے ہند کہنے لگے۔
4۔ عرب سندھ کو سندھ اور دوسرے علاقے کو ہند کہتے تھے۔
5۔ آخر میں یہی نام( یعنی ہند) مشہو ر ہوگیا۔ اسے فرنچ میں انڈ(IND) اور انگریزی میں انڈیا(INDIA) کہاجانے لگا۔
6۔ درہ خیبر( افغانستان اور پاکستان کے درمیان لمبائی 69کلومیٹر) سے آنے والی قوموں نے اس علاقے کو ہندو استھان کہنا شروع کردیا تھا۔ یہی لفظ فارسی میں ہندوستان بن گیا۔اس کے بعد اب نیچے پاکستان اور ہندوستان کا ہلکاسا تقابلی جائزہ پیش کیاجارہا ہے۔
پاکستان دو الفاظ پاک اور ستان کو اکٹھا کرکے تخلیق کیا گیا ہے ۔ اس کا مطلب ہے پاک لوگوں( مسلمانوں) کے رہنے کی جگہ۔ اس کا پورا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اس کا مفہوم ہے پاک لوگوں کے رہنے کی وجہ جگہ جس کا نظام حکومت امن وسلامتی والا اور جمہوری بھی ہے۔ واضح رہے کہ لفظ پاکستان کا تعلق خالصتاً اس نظریے سے ہے جو مادی نہیں روحانی ہے۔ ہندوستان کا لفظ ہندو اور ستان( ہندو+ستان=ہندوستان) سے پیدا کیا گیا ہے اس کا مفہوم ہے دریائے سندھ کے علاقے میں رہنے والوں کی جگہ۔ یوں یہ نام علاقائیت اور مادیت کا کھلا اظہار کرنے والا یا مادیت کا مظہر ہے۔ اس کا پورا سرکاری نام جمہوریہ ہندوستان(Republic of INDIA) ہے۔ ہندوستان کو بھارت بھی کہاجاتا ہے۔ یہ نام ایک ہندو راجہ بھرت کے نام سے مشہور ہوا ہے۔ اس سے پہلے اسے آریہ ورت کہاجاتا تھا۔ پاکستان اور ہندوستان کے معانی پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ تقسیم ہند، تقسیم ہندوستان یا تحریک پاکستان جس سچے اور کھرے نظریے کی مظہر تھی وہ ہے ’’دو قومی نظریہ‘‘ آج کے بین الاقوامی حالات خصوصاًعالم اسلام کی حالت زار اور اس میں توڑ پھوڑ یہ بتاتی ہے کہ تقسیم ہند ہی ایک صحیح نظریہ تھا۔ اسی پر عمل کرکے پاکستان قائم کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ مظلوموں کے غموں کا مداوا کرنے میں سرگرم عمل ہے۔
پاکستان جمعتہ المبارک 27رمضان شریف 1366؁ھ بمطابق 14اگست 1947؁ء کو قائم ہوا تھا۔ یہ اسلامی تاریخ دعوت فکر دے رہی ہے۔ ذرا غور توفرمائیے۔
ظہور پاکستان کے وقت مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی آبادی اور رقبہ جمہوریہ ہندوستان سے کم تھا۔
مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بنائے جانے کے بعد مغربی پاکستان موجودہ اسلامی جمہوریت پاکستان کا رقبہ اور آبادی جمہوریہ ہندوستان سے مزید کم کی جاچکی ہے۔
پاکستان میں ہندو اقلیت کل آبادی کا دو اعشاریہ ایک فیصد(2.1%) ہے۔ انڈیا میں مسلمانوں کی تعداد اٹھارہ کروڑ ستانوے لاکھ (18,97,000) افراد پر مشتمل ہے۔ پاکستان چونکہ ایک پرامن اور عالمی قوانین کی پاسداری کرنیوالا ملک ہے اس لئے اس کے قبضے میں بھارت یا کسی اور ہمسائے کا کوئی علاقہ نہیں۔ یہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے بھارت کا معاملہ اس کے برعکس ہے اس کے قبضے میں پاکستان کے مندرجہ ذیل علاقے ہیں:
(ا)پاکستان کے علاقے سرکریک کی چھیانوے کلومیٹر کی کھائی ہندوستان کے قبضے میں ہے اس کا پرانا نام بان گنگا تھا۔(ب) سیاچن( معنی ہے جنگلی گلاب) گلیشیئر کے پاکستانی علاقے سالتو رواج پر بھارت نے اپریل 1984سے قبضہ کررکھا ہے۔
(ج) مسلمہ عالمی قوانین کے مطابق ہندوستان کی تقسیم ہوئی تھی۔ ان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت مسلم اکثریتی علاقے مقبوضہ جموں وکشمیر پر قابض ہے۔
(د) مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے کاٹ کر بنگلہ دیش بنانے کیلئے بھارت نے جو جارحانہ کردار ادا کیا تھا اس کی ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھی اسرائیل نے مدد کی تھی۔پاکستان کے کسی خفیہ یا ظاہری قول وفعل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم رکھتاہے۔ ہندوستان نے اپنی بات اور عمل سے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی توسیع پر یقین رکھتاہے۔ یہ ذکر تو ہے بھارت کے اس توسیع پسندانہ کردار کا جس کی بنیاد اس چانکیائی اصول پر ہے کہ ہمسایہ دشمن اور ہمسائے کا ہمسایہ دوست ہوتاہے اس لئے کہ ہمسائے کو تو گریٹر انڈیا کا حصہ بنانے کا خفیہ منصوبہ ہے۔ اس کا دوست اسرائیل بھی اسی طرح کی پالیسی کا قائل اور اس پر عامل بھی ہے وہ اپنے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے مطابق دریائے فرات سے دریائے نیل تک کے درمیان آہستہ آہستہ مضبوط ہورہا ہے۔
ان حالات میں فرقہ، نسل اور زبان سے بالاتر ہوکر وطن کے لئے سوچنا، لکھنا اور بولنا ہی نوائے وقت ہے۔ یہی آب حیات ہے ہر قسم کی جان لیوا بیماریوں سے نجات کیلئے۔8۔ مسلمان ملکوں میں سے پاکستان وہ اکیلا ملک ہے جو ایٹمی قوت ہے یاد رہے کہ اس نے ایٹمی دھماکہ بھارت کے ایٹمی دھماکے کے بعد کیا تھا۔ یہ عمل جارحانہ نہیں مدافعانہ ہے۔ بھارت بھی ایٹمی قوت ہے برصغیر میں سب سے پہلے اسی نے ایٹم بم کا دھماکہ کیا تھا۔
9۔ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان چونکہ مسلمان ملکوں سے جڑا ہوا ہے اس لئے وہ بفرسٹیٹ کا درجہ رکھتاہے۔
مہابھارت ( گریٹرانڈیا) کے قائل ہندو ذہن کے مطابق چونکہ افغانستان ہندوستان کا حصہ رہ چکا ہے اس لئے سنگھٹن تحریک کے رہنما لال بیردیپال نے اپنی کتاب’’ میراوچار‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’ جب تک افغانستان اور سرحدی علاقے(KPK) کے قبائل ہندو قوم میں شامل نہیں ہوں گے اس وقت تک ہمارے ملک کی حفاظت کا انتظام نہیں ہوسکتا۔ ہماری مورتیاں( بت) اب تک افغانستان میں ہیں۔
10۔ پاکستان چانکیائی چالوں کو غلط اور انبیاء علیہم السلام کے قاتلوں کو مجرم سمجھتا ہے۔ ہندوؤں اور اسرائیلیوں میں دھوکا اور نسل پرستی جیسی صفات مشترکہ ہیں۔ اس لئے یہ دونوں آپس میں دوست ہیں۔
11۔ پاکستان کے پاس ایسی کوئی رہنما اصولوں والی کتاب نہیں جو کسی پاکستانی نے حکمرانوں کی فریبانہ رہنمائی کیلئے لکھی ہو ہندوستانی لیڈر کوٹلیہ چانکیہ کی کتاب ارتھ شاستر کو رہنما مانتے ہیں یہ ہمیشہ جواہر لعل نہرو کے زیر مطالعہ رہی۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے افسروں کو یہ کتاب پڑھائی جاتی ہے۔