وکلا اور ججز معاشرے میں انصاف کی فراہمی کا ذریعہ ہیں: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

11 اپریل 2018

ملتان (سپیشل رپورٹر) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس یاور علی خان نے کہا ہے کہ انصاف کی گاڑی کے وکلاء اور ججز دو پہیے ہیں۔ اگر یہ دونوں ٹھیک ہوں گے تو گاڑی انصاف کی منزل تک پہنچ پائے گی۔ آج کے معاشرہ کو انصاف کی ضرورت ہے۔ معاشرہ میں اگر انصاف کی فراہمی بلاتعطل ہو تو پھر اس معاشرہ کو کسی سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ہائیکورٹ بار کی نئی انتظامیہ کے چارج سنبھالنے کی تقریب سے اپنے خطاب میں کیا۔ اس موقعہ پر انہوں نے مزید کہا کہ آج ملتان آ کر بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ جب میں جج بنا تو ڈیڑھ سال یہاں گزارا۔ میں نے محسوس کیا کہ یہاں آ کر میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ملتان کے وکلاء ذہین اور بھرپور تیاری کے ساتھ عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں۔ جس دن میں نے حلف اٹھایا تھا تو ساتھ ہی میں نے یہ بھی حلف اٹھایا تھا کہ وکلاء کی ہمیشہ عزت کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء اور ججز ملکر انصاف کی گاڑی چلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام ایک وکیل قائداعظم کی کوششوں کا ہی نتیجہ تھا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ بار اور بنچ اکٹھے نہ چلیں۔ بار اور بنچ اکٹھے ہونگے توہی معاشرہ میں انصاف کی جلد اور بہترین فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ جس معاشرہ میں انصاف نہ ہو تو وہاں کچھ ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ نو منتخب صدر ہائیکورٹ بار خالد اشرف خان نے کہا کہ آج کی تقریب کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ آج چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی یہاں موجودگی بار اور بنچ کے مضبوط رشتہ کی واضح دلیل بھی ہے۔ مختصر وقت میں بار کی دعوت پر ان کا آنا بار کے لئے قابل فخر لمحہ ہے۔ سابق صدر شیر زمان قریشی کا نام ہمیشہ روشن رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملتان بنچ سے متصل لوھراں کو بہاولپور اور ساہیوال کو پرنسپل سیٹ سے منسلک کرنا غلط ہے۔ اس کی درستگی ہونا چاہیے۔ لودھراں اور ساہیوال سے متعلق حکم نامہ آئین سے متصادم ہے۔ جن حالات میں یہ جاری ہوا تھا اب وہ حالات بھین ہیں ہیں۔ اس سے سائل پریشان ہیں۔ وکلاء نے صبر سے آج کے دن کا انتظار کیا ہے۔ اب وکلاء آپکی طرف دیکھ رہے ہیں۔ جوڈیشل کمپلیکس کا معاملہ بھی پُرپیچ ہے۔ 2015ء میں جب کمیٹی نے اس پراجیکٹ کو ختم کرا دیا تھا اور آج بھی وکلاء متفق ہیں کہ نیو جوڈیشل کمپلیکس ناقابل عمل منصوبہ ہے۔ سابق صدر ہائیکورٹ بار شیر زمان قریشی نے کہا کہ وکلاء عدالتوں کی عزت اپنی جان سے بھی بڑھ کر کرتے ہیں۔ ہمیں بھی جواب میں صرف عزت ہی چاہیے۔ عدالتیں ہمیشہ فیصلے میرٹ پر ماورائے قانون کے مطابق کرتی ہیں۔مجھے اپنی عدالتوں پر یقین ہے۔ فیصلہ جو بھی کریں بس عدالت میں پیش ہونے والے کیل کو عزت دیں۔ جنرل سیکرٹری ہائیکورٹ بار ملک عثمان بھٹی نے کہا کہ بار اور بنچ گاڑی کے دو پہیے ہیں ہم آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔ آئندہ باہمی مربوط رابطوں سے ہم اس من پر کاربند رہیں گے۔ تقریب میں لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ کے تمام جسٹس صاحبان سمیت ڈسٹرکٹ عدلیہ سمیت وکلاء کی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی۔ اس موقعہ پر تقریب میں سابق باڈی کے عہدے داروں کو شیلڈز دی گئیں جبکہ نو منتخب باڈی نے پرانی باڈی سے باقاعدہ طور پر چارج اپنی تحویل میں لے لیا۔ اسی طرح ہائیکورٹ بار کی طرف سے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ یاور علی خان کو اعزازی سوینیئر اور شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔ اس موقعہ پر نئی باڈی کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے بیجز بھی لگائے۔
بہاولپور(بیورورپورٹ)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ لاہور محمد یاور علی نے کہا ہے کہ عدل و انصاف سے معاشرہ خوشحال ہوتا ہے۔وکلاء اور ججز ایک جسم کی مانند ہیں اور معاشرے میں انصاف کی فراہمی کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدل وانصاف کی گاڑی کو بار اور بنچ مل کر چلاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ لاہور محمد یاور علی نے ہائی کورٹ بار بہاول پور سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ہائیکورٹ کے جج جسٹس ملک شہزاد احمد خان، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس مجاہد مستقیم احمد، جسٹس طارق سلیم شیخ، رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ بہادر علی خان، ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری راؤ جبار، ایڈیشنل رجسٹرار شیخ خالد بشیر، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز بہاول پور، رحیم یارخان، بہاول نگر ، صدر بار احمد منصور چشتی، جنرل سیکرٹری محمد عمر چوہدری سمیت وکلاء اور جوڈیشل افسران موجود تھے۔چیف جسٹس محمد یاور علی نے کہا کہ بہاول پور پیار، محبت اور خلوص کی دھرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اضلاع کی ماتحت عدلیہ اور بار کو یکساں سہولیات کی فراہمی کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ ترقی اور سہولیات کی فراہمی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ دریں اثناء چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ لاہور محمد یاور علی نے ڈسٹرکٹ بار روم بہاول پور میں وکلاء اور ججز سے خطاب میں کہا کہ بار اور بنچ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء لائق عزت و تکریم ہیں جو معاشرہ میں انصاف کی فراہمی کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا وکالت معزز ترین پیشہ ہے۔وکلااور ججز کی محنت اور دیانت کی بدولت انصاف کی فراہمی ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججز کی فلاح وبہبود کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے ججز کو گاڑیوں کی فراہمی اس سلسلہ کی اہم کڑی ہے۔ اس سے قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چوہدری محمد طارق جاوید نے ڈسٹرکٹ کورٹس بہاول پور میں عوام کو انصاف کی فراہمی کے لیے اٹھائے جانے والے ٹھوس اقدامات پر روشنی ڈالی اور ایڈمن بلاک اور سیکرٹریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری کی افادیت بارے بیان کیا۔ اس موقع پر صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن بہاول پور محمد نعیم بھٹی نے معزز چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ لاہور محمد یاور علی کے با رروم آمد پر ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ لاہور کا جنوبی پنجاب میں بہاول پور کا دورہ اس بات کا عکاس ہے کہ وہ وکلا کے ساتھ ہیںاوربنچ و بار کے رشتہ کو انتہائی مقدم جانتے ہوئے وکلاء برادری سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں۔ اس موقع پر ضلع بھر سے آئے ہوئے معزز ججز ، وکلاء برادری، تینوں اضلاع کے ممبر بار ایسوسی ایشن، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ دریں اثناء چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد یاور علی نے ڈسٹرکٹ کورٹس میں سیکرٹریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری اورایڈمن بلاک کا افتتاح کیا۔ سیکرٹریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں مانیٹرنگ اینڈ ویجیلینس سیل، کونفیڈنشل سیل، بجٹ اینڈ اکاؤنٹس سیل،سکیننگ اینڈ کاز لسٹ اپ لوڈنگ سیل،اور پبلک ریلیشنز سیل شامل ہوگا۔ جبکہ ایڈمن بلاک میں سہولت سنٹر، ہیلتھ کیئر سنٹر، لیگل ریسرچ سنٹر، وومن کامن روم،اور سنٹرل کنٹرول روم شامل ہیں۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بہاول پور چوہدری محمد طارق جاوید، سینئر جج لاہور ہائی کورٹ بہاول پور بنچ مسٹر جسٹس ملک شہزاد احمد خان و دیگر معزز ججز و اراکین ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن بہاول پور موجود تھے۔ ڈسٹرکٹ کورٹس پہنچنے پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ لاہور محمد یاور علی کو پولیس کے تازہ دم دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ دریں اثناء لاہور ہائی کورٹ بہاول پور بنچ کے ایڈمن آفس کوآرڈی نیٹر محمود احمد جو دوران سروس رواں ماہ انتقال کر گئے تھے ، مرحوم کے بیٹے اعتزاز محمود کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ لاہور محمد یاور علی نے اس کے مرحوم والد کی جگہ گریڈ14 میں ملازمت دے دی ہے۔