سعودی عرب اور فرانس میں 18 ارب ڈالر کے 20معاہدے

11 اپریل 2018

پیرس (اے ایف، نوائے وقت رپورٹ، نیوز ایجنسیاں) سعودی عرب اور فرانس کے درمیان 18 ارب ڈالر کے 20 معاہدے طے پا گئے۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد نے فرانس کے صدر سے ملاقات کی ہے، دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم کرنے اور تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ شام اور یمن سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ پیٹرو کیمیکلز واٹر ٹریٹمنٹ، سیاحت، صحت، زراعت اور کاروباری شعبہ میں تعاون ہو گا۔ میکرون نے ولی عہد سے اتفاق کیا۔ مشرق وسطیٰ میں ایران کے توسیع پسندانہ عزائم سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ میکرون نے کہا فیصلہ کیا تو شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ چند روز میں کیا جواب دینا ہے فیصلہ کیا جائے گا۔ میکرون نے کہا ہے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام محدود اور خطے میں ایران کا بڑھتا اثر کم ہونا چاہئے۔ ایرانی جوہری معاہدہ برقرار رہنا چاہئے سعودی ولی عہد کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے کہا کہ سعودی عرب کے خلاف بیلسٹک میزائل کے حملوں کی دھمکیوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ یمن میں انسانی حقوق کے عالمی قوانین کا بھی خیال رکھا جائے۔ شام میں جنگ بندی پر سلامتی کونسل کی قرارداد کی روس خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کا کیمیائی ہتھیاروں کی تصدیق کا طریقہ کار بحال کیا جائے امریکی اور برطانوی سیاتھیوں سے بات چیت جاری ہے۔ شام پر جلد فیصلہ کریں گے۔ یمن میں انسانی المئے پر سعودی عرب کے ساتھ کانفرنس پر اتفاق ہوا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ایرانی حکومت اپنے عوام کے مفاد میں کام نہیں کر رہی ایران دہشت گردی کو سپورٹ کر رہا ہے۔ ایران سعودی عرب کے خلاف کام کر رہا ہے۔ حالات کے مطابق شام کے خلاف عالمی اتحاد کا حصہ نہیں رہیں گے۔ ادھر سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا دوما میں کیمیائی حملے کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانا چاہئے۔ ایرانی جوہری معاہدے میں خامیاں ہیں دور کرنا ہوں گی۔