پوٹھوہار کو زیتون کی وادی بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں، محمد محمود

11 اپریل 2018

راولپنڈی (نیوزرپورٹر) سیکرٹری زراعت پنجاب محمد محمود نے کہا کہ پوٹھوہار کو زیتون کی وادی بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں اوراس ضمن میں یوایس ایڈ کے تعاون سے باری چکوال میں سینٹر آف ایکسیلینس فار اولیو ریسرچ اینڈ ٹرینگ سینٹرکا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔جس کے قیام کیلئے حکومت پنجاب 27 کروڑ 90 لاکھ روپے خرچ کر رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہو ں نے پوٹھوہار ریجن میںوادیِ زیتون کی تشکیل اور اس سلسلے میں زیتون کے کاشتکاروں کودرپیش مسائل کے حل کیلئے بارانی ریسرچ انسٹیٹیوٹ چکوال میں اولیو ڈویلپمنٹ گروپ کے اجلاس کی صدار ت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ڈاکٹر عابد محمود،ڈائریکٹر جنرل زراعت(ریسرچ)،ملک محمد اکرم ڈائریکٹر جنرل (اصلاح آبپاشی) سمیت اولیو ڈویلپمنٹ گروپ (ODG) کے نمائندگان نے شرکت کی۔اس موقع پر اجلاس میں شریک نمائندگان کو پوٹھوہار ریجن میں وادی زیتون کے قیام کیلئے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔زیتون کے پھل پر ریسرچ کرنے والے سائنسدانوں نے بتایا کہ پاکستان میں پایا جانے والا پھل اور اس سے حاصل ہونے والا تیل((Extra virgin olive oil اپنے تجزئیے کے مطابق دنیا میں سب سے بہترین ہے اور زیتون وادی کے قیام کیلئے تمام ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں ۔زیتون کے کاشتکاروں کیلئے مفت تیل نکالنے کیلئے قائم فیکٹری نے مکمل کام شروع کردیا ہے اور 2017-18 میں19134 کلو زیتون کا تیل کاشتکاروں کو نکال کر دیا گیا ہے ۔سیکرٹری زراعت پنجاب محمد محمود نے کہا کہ یہ سینٹر نہ صرف زیتون کے کاشتکاروں کو ضروری تربیت فراہم کرے گا بلکہ زیتون کے کاروبار سے وابستہ افراد کو ڈویلپمنٹ سروسز بھی فراہم کرے گا۔اجلاس میںاولیو ویلیو چین ڈویلپمنٹ کے متعلقہ پی سی ون کی تیاری کے متعلق بھی سیکرٹری زراعت پنجاب کو بریف کیا گیا۔سیکرٹری زراعت پنجاب نے یہ بھی بتایا کہ پوٹھوہار ریجن کو وادی زیتون بنانے کیلئے2 ارب روپے کی لاگت سے جاری منصوبہ کے تحت کاشتکاروں کو زیتون کے پودے مفت فراہم کرنے کے ساتھ انہیں ضروری معلومات بھی دی جا رہی ہیں۔آخر میں سیکرٹری زراعت پنجاب نے اولیو ڈویلپمنٹ گروپ کے ممبران کو خراج تحسین پیش کی جن کی کاوشوں کی بدولت زیتون کی پیداوار کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔اس موقع پر زیتون کے فروغ کیلئے حکومت پنجاب اور چولستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیزرٹ کراپ اور گرین ریوولوشن کے مابین دو معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے۔