عمران خان کی بریت درخواست پر فیصلہ محفوظ‘25 اپریل کو سنایا جائے گا

11 اپریل 2018

اسلام آباد(نا مہ نگار)انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اسلام آباد دھرنے کے دوران ایس ایس پی تشدداورپی ٹی وی حملہ کیس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی بریت کی درخواستپر فیصلہ محفوظ کرلیا جسے 25اپریل کو سنایا جائے گا۔اسلام آبادکی انسداد دہشت گردی عدالت نے جج شارخ ارجمند نے عمران خان کی بریت سے متعلق درخواست پر سماعت کی، اس دوران چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور دیگر پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے بریت کی درخواست پر دلائل دیے اور گواہوں کے بیانات پڑھ کر سنائے۔انہوں نے بتایا کہ بعض گواہوں نے اپنے بیان میں عمران خان کا نام تک نہیں لیا جبکہ 2پولیس کانسٹیبل گواہوں نے کہا کہ طاہر القادری اور دیگر رہنما تقاریر کے ذریعے مظاہرین کو اشتعال دلا رہے تھے۔بابر اعوان نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ سیاسی جماعت کے سربراہ پر احتجاج کے باعث دہشت گردی کا مقدمہ بنانا ایک مذاق ہے، عدالت کو کیس کے کسی بھی مرحلے پر ملزم کو بری کرنے کا اختیار ہے۔دوران سماعت انہوں نے بتایا کہ عصمت اللہ جونیجو کو ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کا مطلب ہے کہ ان کی شناخت معلوم نہیں۔ بابر اعوان نے ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو کا بیان پڑھ کر سنایا اور بتایا کہ تشدد کا نشانہ بننے والے عصمت اللہ جونیجو نے بھی اپنے بیان میں عمران خان کا نام نہیں لیا۔بابر اعوان نے کہا کہ تمام گواہوں کے دوبارہ بلا کر جرح کرنے سے صرف عدالت کا وقت ضائع ہو گا کیونکہ گواہوں نے پہلے بھی حلف لے کر بیان دیا اور توقع ہے کہ دوبارہ بھی یہی کہیں گے۔اس موقع پر جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیے کہ گواہوں نے اپنے بیان میں طاہر القادری اور دیگر رہنمائوں کے نام لیے، جس پر بابر اعوان نے کہا کہ دیگر رہنمائوں کے نام میں لے دیتا ہوں۔دوران سماعت استغاثہ کی جانب سے کہا گیا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد عمران خان کو اشتہاری قرار دیا گیا جبکہ بریت کی درخواست قبل از وقت ہے جو جلد بازی میں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ عدالت سے مفرور رہنے کی قانون میں الگ سے بھی سزا موجود ہے اور انہوں نے ابھی تک مکمل چالان داخل نہیں کرایا گیا اور حتمی چالان میں مزید گواہ بھی شامل کیے جائیں گے۔استغاثہ نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ ابھی تو انہوں نے عدالت کے سامنے خود کو پیش کیا ہے، ہمیں کیس ثابت کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو 25اپریل کو سنایا جائے گا۔