عائشہ تشدد کیس: چیف جسٹس کے حکم پر صوبائی وزیر صحت کی کارڈیالوجی ہسپتال آمد

11 اپریل 2018

ملتان (سٹاف رپورٹر) چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار کے حکم پر چودھر پرویز الٰہی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں گزشتہ دنوں پیش آنے والے عائشہ تشدد کیس کی انکوائری کیلئے صوبائی وزیر صحت برائے سپیشلائزڈ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن خواجہ سلمان رفیق ملتان پہنچ گئے۔ متاثرہ لڑکی ڈیوٹی ڈاکٹرز سمیت دیگر سٹاف کے بیانات قلمبند کئے جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیچ حاصل کی۔ تفصیل کے مطابق صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے گزشتہ روز ملتان کا اچانک دورہ کیا اور چیف جسٹس کے حکم پر چودھری پرویز الٰہی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی گئے۔ اس دوران انہوں نے عائشہ نامی لڑکی سے تفصیلات حاصل کیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں عائشہ نے الزام لگایا تھا کہ ہسپتال میں زیر علاج میری والدہ کا صحیح علاج نہیں کیا جا رہا اور آواز اٹھانے پر ہسپتال کے سکیورٹی گارڈز نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ اس واقعہ کے بعد عائشہ نے چیف جسٹس آف پاکستان سے دادرسی کی اپیل کی تھی جس پر چیف جسٹس نے صوبائی وزیر کو معاملے کی چھان بین کیلئے موقع پر پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔ اس ضمن میں گزشتہ روز خواجہ سلمان رفیق نے عائشہ کے علاوہ ڈیوٹی ڈاکٹرز ڈاکٹر عثمان غنی اور ڈاکٹر یاسر حبیب کے بھی بیانات قلمبند کئے جبکہ وقوعہ کی جگہ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کاپی بھی چیف جسٹس کو پیش کرنے کیلئے حاصل کر لی ہے۔