بھارت کی سرحدی خلاف ورزیوں کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں: شاہد خاقان‘ تمام ممالک غلبے کی ذہنیت ترک کر دیں: چینی صدر

11 اپریل 2018

سان یان+ بیجنگ+ اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا معاملہ اٹھایا ہے۔ چین میں بائو فورم کے اجلاس کی سائیڈ لائن میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوئٹریس سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، دہشت گردی، روہنگیا مسلمانوں سمیت مختلف موضوعات پر بات کی گئی۔ وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، پاکستان نے اپنی سرزمین سے دہشت گردی کا صفایا کر دیا ہے۔ بھارت کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں کررہا ہے۔ بھارت کی سرحدی خلاف ورزیوں کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے مظالم پر پاکستان کو شدید تشویش ہے، سیکرٹری جنرل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم دنیا کے سامنے لانے میں کردار ادا کریں۔ وزیر اعظم نے روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئٹریس نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں، انسانی بنیاد پر مدد، افغان مہاجرین اور اقوام متحدہ کے امن مشن میں کردار کو سراہا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ بھارت نے کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر سیز فائر کی دانستہ اوربلااشتعال خلاف ورزیاں نہ روکیں تو کشیدگی اور محاذآرائی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوسکتاہے، پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اورکشمیری عوام کی خواہشات وامنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیرکامنصفانہ اورپرامن حل چاہتا ہے۔ اس موقع پر وزیرخارجہ خواجہ محمدآصف، وزیرداخلہ احسن اقبال، چین میں پاکستان کے سفیرمسعود خالد اور دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فائرنگ سے معصوم شہری شہید ہو رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیرکی بگڑتی صورتحال اوربھارتی قابض افواج کی جانب سے معصوم اورنہتے کشمیریوں کے قتل عام پر گہری تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے چھرے داربندوقوں کا استعمال قابل مذمت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اورکشمیری عوام کی خواہشات اورامنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیرکامنصفانہ اورپرامن حل چاہتا ہے۔ اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بند کرائے۔ وزیراعظم نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کیخلاف پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے اس حوالے سے زیروٹالرینس کی پالیسی اپنارکھی ہے، پاکستان نے اپنی سرزمین سے دہشت گردعناصرکے خاتمے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ علاوہ ازیں بائو فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ خطے میں حقیقی صلاحیتوں سے استفادہ اور مربوط کوششوں کے ذریعے امن، ترقی وخوشحالی کے مشترکہ مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں، کھلی تجارت اور شراکتی جدت کے ثمرات کو فروغ دے کر ہی ہم برداشت اور دوستی کو فروغ دے سکتے ہیں ، ایشیائی صدی کی صبح طلوع ہورہی ہے، بیلٹ اینڈ روڈ کا تاریخی اقدام غیر مساوی دنیا میں مساوات لارہا ہے، پاکستان کی معیشت 6 فیصد سالانہ کی شرح سے نمو پا رہی ہے، ہماری کیپٹل مارکیٹ کو ابھرتی معیشت کا درجہ دیا گیا ہے، ملک میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے شاندار مواقع دستیاب ہیں، پتھر ہٹانے‘ پہاڑ ہلانے کا وقت آ گیا،2050ء تک ہم دنیا کی 15ویں بڑی معیشت ہوںگے، حالیہ تاریخ میں پاک چین تعلقات کی کوئی مثال نہیں ملتی،خطے میں ہماری دوستی تزویراتی استحکام کی علامت ہے۔ چین کے صوبہ ہینان میں بائو اقتصادی فورم برائے ایشیائی کی افتتاحی تقریب میں چینی صدر شی جن پنگ نے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کاخیر مقدم کیا۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جس کے دور رس ثمرات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک ایک انقلاب ہے۔ یہ کشادہ، مربوط اور ہمہ جہت ترقی کی عمدہ مثال ہے ، اس سے تمام فریقین مستفید ہوںگے۔ سی پیک میں شامل گوادر بندرگاہ عالمی تجارتی مرکز بننے والی ہے، جس سے ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ چوتھا صنعتی انقلاب دستک دے رہا ہے۔ چین عالمی تجارت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، خصوصاً بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ عالمی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ دنیا تسلیم کررہی ہے کہ ’بیلٹ اینڈ روڈ اقدام‘ نسلوں کی ترقی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی شرح نمو سالانہ 6 فیصد کے حساب سے ترقی کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے شاندار مواقع پیش کرتا ہے اور علی بابا کمپنی بھی پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کی خواہش مند ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اقتصادی ترقی اور خوشحالی امن اور برداشت کو فروغ دیتی ہے اور چین، پاکستان اور افغانستان کا سہہ فریقی فریم ورک اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان آئرن برادر ہیں، سی پیک سے لوگوں کو ملازمت ملی۔ انہوں نے کہا والہانہ مہمان نوازی پر چینی حکومت اور عوام کے شکر گزار ہیں، شی جن پنگ کی سربراہی میں چین تیزی سے ترقی کر رہا ہے، چین کی رہنمائی میں پاکستان میں ترقی کا نیا دور شروع ہوا۔ ان کا کہنا تھا ہائی ویز، موٹر ویز پر صنعتی منصوبے سی پیک کا اہم حصہ ہیں، ہماری دلی خواہش ہے کہ چین کے ساتھ تعاون کو مزید بڑھایا جائے۔ وزیراعظم نے کہا انسان آج ٹیکنالوجی کی حدوں کو چھو رہا ہے، ورلڈ ٹریڈ آرڈر ٹوٹ رہا ہے، ایشیا مستقبل کی تجارت کا مرکز ہوگا۔ ان کا کہنا تھا بائیو ٹیکنالوجی نئی دنیا تخلیق کر رہی ہے، انسان آج ٹیکنالوجی کی انتہا کو چھو رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا چین عالمی تجارت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، باؤ فورم دنیا میں ایشیا کا مقام بلند کرنے کے لیے نمایاں پلیٹ فارم ہے، روبوٹکس اور کوانٹم کمپیوٹنگ نے زندگی کو نئی جہت دی، سائنسی ایجادات نے گورننس اور بزنس کے تقاضوں کو بھی بدل دیا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چین کے صدر شی جن پنگ نے ایک خطہ ایک شاہراہ منصوبے کے ذریعے پاک چین تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا اعادہ کیا ہے۔اس عزم کا اظہار انہوں نے بائو میں ملاقات کے دوران کیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چینی صدر شی جنگ پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک چین پاکستان اور خطے کی ترقی کیلئے نہایت اہم ہے۔ پاکستان چین کا گہرا دوست ہے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہوئی ہے۔ پاکستان اقتصادیات' توانائی' زراعت' بنیادی ڈھانچے اور افرادی قوت کے شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چین کی اصلاحات اور آزادانہ پالیسی سے کسی ملک کو خطرہ نہیں ہے۔ چینی صدر نے کہاکہ آج جبکہ علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں پاکستان اور چین کے درمیان قریبی دوستانہ تعلقات انتہائی اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔صدرشی جن پنگ نے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتا ہے جو ایک خطہ ایک شاہراہ منصوبے کے تحت دوطرفہ تعاون کی ایک عظیم مثال ہوگی۔انہوں نے گوادر کی بندرگاہ' صنعتی زونز اور بجلی گھروں سمیت چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں چین کے مکمل تعاون کا یقین دلایا،اس موقع پر چینی صدر نے کہا کہ چین پاکستان کے داخلی معاملات میں کسی بھی ملک کی جانب سے مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے پرامید ہیں۔ علاوہ ازیں چین کے شہر بائو میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ملاقات کے دوران انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا،۔صدر شی جن پنگ نے کہا کہ میرے 2015ء کے دورہ پاکستان کے بعد اسٹرٹیجک پارٹنر شپ میں شاندار پیش رفت ہوئی، چین پاکستان کے قومی اتحاد اور دہشتگردی کیخلاف جنگ کی کوششوں کی بھرپور حمایت اورپاکستان کے داخلی معاملات میں کسی بھی دوسرے ملک کی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔ چینی صدر نے کہاکہ پاکستان کے قومی اتحاد، دہشتگردی کیخلاف جنگ کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ علاہ ازیں ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کیری لام نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی اورعوامی سطح پر رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ وہ چین کے صوبے ہینان میں باو فورم کے موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے بات چیت کررہے تھیں۔مزید برآں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے علی بابا گروپ کی طرف سے پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے اظہار دلچسپی کا خیر مقدم کیا ہے منگل کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے علی بابا گروپ کے ایگزیکٹو چیئرمین جیک ما نے باؤفورم کے موقع پر ملاقات کی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے آسٹریا کے فیڈرل چانسلر سبطین کرز سے بائو فورم کے انعقاد کے موقع پر ملاقات کی۔ وزاعظم نے انہیں بھارتی افواج کی طرف سے معصوم شہریوں پر روا رکھے گئے مظالم اور بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی متواتر خلاف ورزیوں سے بھی آگاہ کیا آسٹرین چانسلر نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

بیجنگ /سان یان (نیوز ایجنسیاں) چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ ایشیا کے مستقبل کا تعین ہمیں کرنا ہے، تمام ممالک غلبے کی ذہنیت ترک کردیں۔ گوادر بندرگاہ، توانائی، صنعتی زونز سمیت سی پیک منصوبے جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ چین نے ایشیا میں معاشی بحران کے خاتمے کے لیے گراں قدر کام کیا، ہمارے سامنے اب بھی بے شمار مسائل اور بہت سی رکاوٹیں ہیں۔ چین کا مقصد صرف تجارتی منافع نہیں بلکہ درآمدات بڑھانے کا خواہاں ہے، رواں سال چین میں کاروں کے درآمدی اور دیگر مصنوعات کے محصولات میں کمی کی جائے گی، علمی حقوق کی ضمانت چینی معیشت کی مسابقتی صلاحیت کو بلند کرنے کی ضمانت ہے۔ چین نے ایشیا کا معاشی بحران ختم کرنے میں گراں قدر کام کیا، بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر کے سلسلے میں چین اپنا ہم خیال حلقہ تشکیل نہیں دے گا اور اپنے تصورات کو دوسروں پر مسلط نہیں کریگا، چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے، چین کا جی ڈی پی9.5 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے بائو فورم کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چالیس برسوں میں چینی عوام نے اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے اپنی توجہ ملک کی تعمیر پر مرکوز رکھی۔ اس کے نتیجے میں چین کی پیداواری قوت میں خوب اضافہ ہوا اور چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت، سرفہرست صنعتی ملک، پہلے نمبر پر مالی تجارتی ملک اور سب سے زیادہ زر مبادلہ رکھنے والا ملک بن گیا ہے۔ شی نے کہا کہ گزشتہ چالیس برسوں میں چین نے اپنی صورتحال کی بنیاد پر دنیا پر نظر رکھتے ہوئے خود مختارانہ طور پر اپنے پائوں پر کھڑے ہوتے ہوئے کھلے پن اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون اور مشترکہ ترقی کو بھی انتہائی اہمیت دی ہے۔ چین میں ایک بڑی تعداد میں غیر ملکی سرمایہ کاری آئی ہے اور اب چینی سرمایہ کاری پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ امن اور ترقی دنیا کے تمام ممالک کے عوام کی دلی اور مشترکہ خواہش ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرد جنگ اور محاذ آرائی کا پرانا تصور پیچھے رہ گیا ہے۔ شی نے کہا کہ تعصب اور خود غرضی ایک بند گلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کے درمیان معاشی اور سماجی ترقی کے لیے باہمی روابط میں روز بروز اضافے کے ساتھ ساتھ اثرات مرتب ہوتے رہے۔ صدر شی جن پنگ نے پرزور الفاظ میں کہا کہ اصلاحات اور تخلیق بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کو آگے بڑھانے کا بنیادی انجن ہیں۔ جو لوگ اصلاحات اور تخلیق کی مخالفت کرتے ہیں، وہ پیچھے رہ جائیں گے اور تاریخ کے دریا میں ڈوب جائیں گے۔ چینی صدر نے اپنے خطاب میں تمام ممالک سے ایک دوسرے کے احترام، مساویانہ سلوک کرنے، خود غرضی، بالادستی، فتح اور شکست کے تصورات کو ترک کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ معقول طریقے سے تنازعات کو حل کیا جائے۔ مشترکہ مفادات کیلئے تعاون کیا جائے، شراکت داری پر مبنی عالمی معیشت کو فروغ دیا جائے۔ آزاد تجارت و سرمایہ کار ی اور کثیرالطرفہ تجارتی نظام کو تقویت دی جائے، مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان باہمی مفاہمت کو مضبوط کیا جائے، ماحول کی حفاظت کی جائے، بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کی جائے اور پرامن، محفوظ، خوشحال، کھلے اور خوبصورت ایشیا اور دنیا کے لئے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔ انہوں نے کہا چین خواہ کتنے ہی مراحل تک ترقی کرے گا، وہ کسی کے لئے خطرے کا باعث نہیں ہو گا اور نہ ہی موجودہ بین الاقوامی نظام میں کوئی خلل ڈالے گا۔ مسابقت کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ اجارہ داری کی مخالفت کی جائے گی۔ شی جن پنگ نے کہا کہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے منفی فہرست میں ترمیم کا کام مکمل ہو گا اور سرمایہ کاری کے لئے رسائی سے قبل مقامی باشندوں کے لیے مساوی سلوک اور منفی فہرست کے انتظامی نظام پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ شی کا کہنا تھا کہ بیک وقت چین کو امید ہے کہ غیرملکی حکومتیں بھی چین کے علمی حقوق کی حفاظت کے لئے زیادہ کوشش کریںگی۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال چین میں کاروں کے درآمدی محصولات میں بڑی حد تک کمی لائی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر مصنوعات کے محصولات میں بھی کمی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ عوام کی زیادہ مانگ والی خصوصی اور بہترین مصنوعات کی درآمد میں بھی اضافے کی کوشش کی جائے گی، علاوہ ازیں عالمی تجارتی تنظیم کے تحت حکومت کی خریداری کے معاہدے میں شمولیت کے عمل کو تیز تر کیا جائے گا۔ شی جن پنگ نے ترقی یافتہ ممالک سے چین کے ساتھ اعلیٰ تکنیکی مصنوعات کی برآمدات پر عائد مصنوعی پابندیوں کو اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا۔ شی جن پنگ نے ملکی معیشت کو فروغ دینے اور غیر ملکیوں کے لیے کھولنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی معاشرہ اس وقت ایسے دور سے گزر دہا ہے جہاں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنے دروازے کھولیں یا بند کریں، آگے بڑھیں یا پیچھے جائیں،صرف اپنی کمیونٹی پر توجہ دینا اور دوسروں کو نظر انداز کرنا بند راستے کی طرف جانے جیسا ہے، چین کسی علیحدہ بلاک کا خواہشمند نہیں اور وہ دوسروں پر تجارتی معاہدے مسلط نہیں کرنا چاہتا ہے۔