پارٹی چھوڑ کر جانیوالوں پر ضرور کچھ ’’وارد‘‘ ہوا‘ عمران کا سیاست میں آنا نیک شگون نہیں: نوازشریف

11 اپریل 2018

اسلام آباد (نامہ گار+ وقائع نگار خصوصی+ ایجنسیاں) مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے عمران خان کا سیاست میں آنا نیک شگون نہیں، میں نیب عدالتوں میں پیشیاں بھگت ر ہا ہوں جنہوں نے کرپشن کی اور ملک کا پیسہ لوٹا وہ ملک کی سیریں کرتے پھر رہے ہیں، چوہدری شجاعت کی کتاب جب تک مکمل پڑھ نہیں لیتا اس سے پہلے اس پر تبصرہ کرنا بے جا ہو گا، لاپتہ افراد کا معاملہ بڑا سنگین ہے اور کسی کو لاپتہ کردینا بہت بڑا جرم ہے، پارٹی چھوڑ کر جانے والوں پر ضرور کچھ وارد ہوا ہے، بلوچستان کی پارٹی بنانے والوں پر ضرور کچھ وارد ہوا تھا، جو لوگ چھوڑ گئے ہیں ان کا تعلق ہماری جماعت سے نہیں تھا، پارٹی چھوڑ کر جانے والوں کا بیک گراؤنڈ مسلم لیگ (ن) کا نہیں تھا۔ جنوبی پنجاب میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے، لودھراں کا الیکشن ہمارے ریکارڈ ترقیاتی کاموں پر اعتماد کا اظہار تھا، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے میری صدارت پر ووٹ نہیں دیا تھا یہ لوگ ہماری نظر میں تھے، ایسے لوگ سیاست کو بدنام کرتے ہیں، ایسے لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار نوازشریف نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ نواز شریف نے کہا جنوبی پنجاب میں مسلم لیگ ن کی مقبولیت کا مظہر حالیہ لودھراں کا الیکشن ہے۔ لودھراں جنوبی پنجاب کا دل ہے۔ لودھراں الیکشن میں 180درجے کا ٹرن آیا۔ عوام نے لودھراں الیکشن میں مسلم لیگ ن کے ایک غیرمعروف امیدوار کو جتوایا۔ ہمیں بڑی امید ہے کہ آئندہ الیکشن میں شیر کو ووٹ پڑے گا۔ ایک صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا میاں صاحب پہلے بھی آپ کو سزا سنائی گئی تھی، کیا اب بھی تیار ہیں۔ اس پر نوازشریف نے کہا میں بھی انسان ہوں جنہوں نے ملک و قوم کی خدمت کی وہ نیب عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ ڈکٹیٹر دور میں آمر اور جمہوری دور میں جمہوری لوگوں سے مل جاتے ہیں۔ پرامید ہیں الیکشن میں شیر کو ووٹ ملے گا، لاپتہ افراد کے حوالے سے انہوں نے کہا ان پر کیا گزرتی ہوگی جنہیں یہ بھی نہیں پتہ ان کے پیارے زندہ ہیں یا نہیں، کیا لاپتہ افراد کے والدین اور بچوں کی زندگی سکون سے گزر سکتی ہے۔ اے این این کے مطابق نواز شریف نے کہا بلوچستان میں اچانک ایک نئی پارٹی وارد ہوئی ہے، ویسے ہی پارٹی چھوڑ کر جانے والوں پر کل کچھ ’’وارد‘‘ ہوا اور ان کے دلوں میں اچانک جنوبی پنجاب صوبے کی محبت جاگ اٹھی،وفاداری تبدیل کرنے والے کبھی ہمارے تھے ہی نہیں،ان کو کہیں کھڑا ہونے کی جگہ نہیں ملے گی اور جلد منظر سے ہٹ جائیں گے۔ ان لوگوں نے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں مجھے ووٹ نہیں دیا،یہ لوگ نظر میں تھے،اب اچانک کچھ لوگوں کے دلوں میں جنوبی پنجاب کی محبت جاگ اٹھی ہے،عمران خان کا سیاست میں آنا نیک شگون نہیں،آج قوم کی خدمت کرنے والے پیشیاں بھگت رہے ہیں اور کرپشن کرنے والے سیر سپاٹے کر رہے ہیں،نیب مقدمات کا کچا چھٹا کھل رہا ہے،یہ سب فرا ڈ ہے اس میں کسی کرپشن کا شائبہ تک نہیں،کارروائی براہ راست چلنی چاہیے۔ سابق وزیراعظم نے کہا پارٹی چھوڑ کر جانے والوں کا تعلق مسلم لیگ(ن)سے نہیں تھا، یہ لوگ نظر میں تھے اور ایسے لوگ سیاست کو بدنام کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا پنجاب کی 9 سیٹیں کم ہوئیں، ہم نے کھلے دل سے تسلیم کیا لیکن ڈنڈھورا نہیں پیٹا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے پارٹی چھوڑ کر جانے والوں پر طنز کرتے ہوئے کہا پہلے وفاداریاںبدل کر بلوچستان کی محرومیوں کا خاتمہ کیا گیا اب جنوبی پنجاب کی باری ہے۔ انہوں نے کہا نواز شریف ملک کے لیے کچھ نہیں کرتے اور کسی کے اشارے پر چلتے اور سکون سے 5 سال گزارتے تو شاید پھر ایسا نہیں ہوتا لیکن یہاں ہر 10 سال بعد معاملہ گھوم پھر کر نواز شریف کی جانب ہی آجاتا ہے۔ایسا کیوں ہے ؟ اس طرح کے فیصلے ملک میں انتشار لانے کا سبب بنتے ہیں۔ انھوں نے کہا عمران اور زرداری کی طرح جو کام نہیں کرتے انہیں کچھ نہیں کہتے، جو ترقیاتی کام کرتے ہیں ان کو پیشیاں بھگتنی پڑتی ہیں، نیلم جہلم 2004 میں مکمل ہونا تھا لیکن 2013 تک نہ ہوا، ہم نے آ کر مکمل کیا۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کے دلوں میں اچانک جنوبی پنجاب کی محبت جاگی ہے اور پارٹی چھوڑ گئے ہیں۔ نیشن رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے مسلم لیگ ن چھوڑ کر جانے والوں کو موقع پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگوں کا ماضی میں پارٹی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔