بلوچستان کے پیسے کون کھا گیا‘ صوبے میں گورننس نہیں: چیف جسٹس

11 اپریل 2018

کوئٹہ (بیورو رپورٹ+ آئی این پی+ صباح نیوز) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے کے پیسے کون کھا گیا، صوبے میں کوئی گورننس نہیں، قانون بنانا ہمارے اختیار میں نہیں‘ قانون سازوں کے پاس وقت نہیں‘ نظام عدل میں خامیاں ہیں اسے دور کرنے میں میرا ساتھ دیں‘ لیگل ریفارمز کا آغاز کررہا ہوں‘ مجھے محنتی لوگ چاہئیں جو ساتھ دیں‘ انسانی خدمت کا بیڑہ اٹھایا ہے تاکہ غریبوں کو حقوق مل سکیں‘ انسانی حقوق کے ضمن میں یہ اقدامات کر رہا ہوں‘ وکلاء مرتبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو محنت سے کام کریں۔ منگل کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈسٹرکٹ بار میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا وکلاء کو ججز کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا چاہئے۔ وکلاء مرتبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو محنت سے کام کریں۔ شارٹ کٹ چھوڑ دیں۔ تیس‘ تیس سال سے کیس عدالتوں میں پڑے ہیں ججز کے پاس کام زیادہ ہے تیزی سے کیس نمٹا نہیں پاتے۔ وکلاء تعاون کریں تاکہ تاریخ کا کلچر ختم ہو سکے۔ جو قومیں خود ہمت نہیں کرتیں کوئی باہر سے آکر ان کی مدد نہیں کرتا۔ آپ لوگوں کو اپنے حقوق کے لئے خود سامنے آکر جدوجہد کرنا ہو گی۔ صباح نیوز کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ہمارے پاس قانون سازی کا اختیار نہیں، جن کے پاس یہ اختیار ہے ان کے پاس شاید وقت نہیں کہ وہ قانون سازی کریں۔ ضلع کچہری کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا بنیادی حقوق کا حل ہماری اولین ترجیح ہے لیکن ہمارے پاس قانون سازی کا اختیار نہیں لیکن ہمیں مل کر حالات بدلنے کی کوشش کرنی ہے۔ قبل ازیں بلوچستان میں صحت، تعلیم اور پانی کے مسائل سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت کو حکم دیا کہ وہ ہائوس جاب کرنے والے تمام ڈاکٹروں کو ایک ہفتے میں تنخواہیں ادا کریں۔ چیف جسٹس نے بلوچستان کے سابق وزرا اعلیٰ کو پیش نہ ہونے پر دوبارہ 30 اپریل کو اسلام آباد طلب کرلیا اور از خود نوٹس کیس کی سماعت 11 اپریل تک ملتوی کردی۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار زیارت پہنچ گئے۔ چیف جسٹس کو قائداعظم ریذیڈنسی آمد پر پولیس کے دستے نے سلامی دی۔ چیف جسٹس نے قائداعظم ریذیڈنسی کا دورہ کیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے شوگر ملوں کی طرف سے کسانوں کو عدم ادائیگیوں کا نوٹس لے لیا۔ سپریم کورٹ اعلامیہ کے مطابق تمام شوگر ملوں کو نوٹس جاری کر کے دس دن میں رپورٹ طلب کر لی۔ چیف جسٹس پاکستان نے گنے کے کاشتکاروں کی شکایات پر نوٹس لیا۔ قبل ازیں سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس منصور علی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے تعلیم، صحت اور پانی کی صورتحال سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ چیف سیکرٹریز سمیت دیگر اعلیٰ حکام سماعت کے دوران عدالت میں موجود رہے تاہم عدالت کی جانب سے طلب کیے جانے کے باوجود سابق وزرائے اعلی ثناء اللہ زہری اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ پیش نہ ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا سابق وزرائے اعلی کہاں ہیں جس پر عدالت کو بتایا گیا ڈاکٹر عبدالمالک کی جانب سے ان کے وکیل عدالت میں موجود ہیں۔ تاخیر سے پہنچنے پر چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت صالح ناصر سے کہا آپ کس صوبے سے آئے ہیں جس پر انہوں نے بتایا میرا تعلق بلوچستان سے ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا پھر صوبے کے لئے کام کریں، ہسپتالوں کی حالت دیکھی ہے۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت کی سرزنش کرتے ہوئے کہا میں آپ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں، سول ہسپتال میں ایک بھی ایم آر آئی مشین نہیں۔ ینگ ڈاکٹرز کے حوالے سے سیکرٹری صحت نے عدالت کو بتایا ہائوس جاب کرنے والے ڈاکٹروں کو ہر ماہ وظیفہ دیا جاتا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ ڈاکٹرز کو 24 ہزار روپے تنخواہ دیتے ہیں، سپریم کورٹ کا ڈرائیور 35 ہزار تنخواہ لے رہا ہے۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت کی سرزنش کرتے ہوئے کہا جب تک ڈاکٹرز کی تنخواہ ادا نہیں ہوتی، آپ کی تنخواہ بند ہے۔ چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری سے مکالمے کے دوران کہا ہسپتالوں میں آلات بہتر رکھیں اور ان کی حالت بہتر بنائیں۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری تعلیم سے استفسار کیا صوبے کے دور دراز علاقوں کے سکولوں کی حالت کے بارے میں بتائیں۔ سیکرٹری تعلیم نے عدالت کو بتایا ہم نے مکمل پلان ترتیب دیا ہے جسے کابینہ سے منظور کرایا جائے گا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہمیشہ یہی پوچھتا ہوں کون تیار کرے گا آپ کا تین سالہ پلان، پانی اور واش روم بننے میں کتنا عرصہ لگ جائے گا۔جس پر چیف سیکرٹری نے کہا تین سال میں 11 ہزار سکولوں میں واش روم بنا دیں گے، گزشتہ تین سال میں چار لاکھ بچوں کو داخلے دلوائے۔ سیکرٹری تعلیم نے عدالت کو بتایا حکومت کے زیر انتظام ایک ہزار 135 پرائمری سکول ہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا ان سکولوں میں ساری سہولیات ہیں جس پر انہوں نے بتایا نہیں ایسا نہیں ہے، 50 فیصد سکولوں میں پانی نہیں، یہی شرح مڈل اور ہائی سکولوں میں ہے۔ سیکرٹری تعلیم نے کہا صوبے میں سرکاری سکولوں کی صورتحال خراب ہے لیکن اتنی بھی نہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کسی بہترین سکول میں آپ مجھے لے جائیں۔چیف سیکرٹری نے کہا خضدار کے علاقے کٹھان میں ماڈل سکول ہے ، شہر میں سکولوں کا مسئلہ نہیں، خرابی میں اساتذہ بنیادی وجہ ہیں، ہمارے اساتذہ دلچسپی نہیں لے رہے، ٹیچرز پولیٹیکل ونگ بن گئے ہیں۔سیکرٹری تعلیم نے کہا مجھے اساتذہ کی ایسوسی ایشن سے کوئی تعاون نہیں مل رہا، صوبے میں جے وی ٹیچر 20 گریڈ تک پہنچ جاتا ہے لیکن کارکردگی صفر ہے جس پر چیف جسٹس نے حکم دیا تعلیم سے متعلق پالیسی بنا کر 15 دن میں رپورٹ دی جائے۔گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے رہنما مجیب اللہ غرشین نے سماعت کے دوران کہا ہم غیر حاضر اساتذہ کے حق میں نہیں لیکن یہاں جونیئر سینیئر کی جگہ آجاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا حکومت سیاسی مداخلت ختم نہیں کر رہی جس سے معاملہ بگڑ رہا ہے، اس موقع پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا جس سے پوچھوں وہ دوسرے پر ڈال دیتا ہے۔چیف جسٹس نے مجیب اللہ غرشین کو خضدار تبادلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا جا کر بچوں کو پڑھائو ، لیڈری مت کرو، تعلیم اور صحت کے شعبے میں کوئی سیاست قبول نہیں کی جائے گی، ایسا نہ ہو سپریم کورٹ صحت اور تعلیم میں ٹریڈ یونین پر پابندی لگا دے۔چیف سیکرٹری سے مکالمے کے دوران چیف جسٹس نے کہا این ایف سی ایوارڈ کے سب سے زیادہ پیسے آپ کو ملے، بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے کے پیسے کون کھا گیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے صوبے میں کوئی گورننس نہیں اور پینڈورا باکس بنا ہوا ہے، میں تو سمجھتا تھا سندھ کی صورتحال ابتر ہے لیکن یہاں تو کوئی حالت ہی نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا پانی کے حوالے سے رپورٹ مکمل کرلی ہے جس پر ایڈووکیٹ جنرل رئوف عطا نے بتایا کابینہ کا اجلاس ہوا ہے، ایک ہفتے میں رپورٹ مکمل کرلی جائے گی۔ چیف جسٹس نے حکم دیا پالیسی تیار کر کے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے۔ این این آئی کے مطابق چیف جسٹس نے بلوچستان کے مختلف میڈیکل کالجز کے طلباء کو نجی کالجز میں داخل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ میڈیکل کالجز میں داخلوں میں بے ضابطگیوں پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے کی، چیف جسٹس نے بلوچستان کے 100 میڈیکل طلباء کو نجی کالجز میں داخل کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ایک ہفتے میں طلباء کا اضافی سیٹوں پر داخلہ کرا کر رپورٹ جمع کرائی جائے جس کے بعد کیس کی سماعت آج تک کے لئے ملتوی کر دی۔