سینٹ اداروں میں تصادم دیکھ رہا ہوں‘ سیاسی ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی کوشش ملک و قوم کے مفاد میں نہیں: رضا ربانی

11 اپریل 2018

اسلام آباد (صباح نیوز+ نوائے وقت رپورٹ) سینٹ میں فاٹا، خیبر پی کے، کراچی اور بلوچستان سمیت دیگر علاقوں سے شہریوں کو لاپتہ کرنے کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔ سیاسی جلسوں کی پاداش میں سیاسی کارکنوں پر مقدمات کے اندراج کا بھی اپوزیشن نے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا، قومیت پرست جماعتوں نے ملک بھر سے 7ہزار شہریوں کو لاپتہ کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔ آزاد اپوزیشن رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ نے نکتہ اعتراض پر کہا دہشتگردی کے نام پر پشتونوں کے خلاف کارروائیاں ہورہی ہیں پشتونوں پر زندگی کو تنگ کیا جا رہا ہے پانچ سے سات ہزار لوگ لاپتہ ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو نوٹس لینا چاہیے، اسٹیبلیشمینٹ نے سول انتظامیہ کو مفلوج کر دیا ہے جمہوریت، انسانی جمہوری حقوق کی بات کرنیوالوں کو لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔ اپوزیشن لیڈر شیری رحمان نے ان کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ساری اپوزیشن کو ان حالات پر تشویش ہے، بہت بڑا مسئلہ ہے ہائوس کا مشترکہ معاملہ ہے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق سینٹ اجلاس میں سیاستدانوں کی جانب سے پارٹیاں تبدیل کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مظفر حسین شاہ نے کہا الیکشن سے 2 ماہ قبل سیاستدان جماعتیں کیوں تبدیل کر رہے ہیں۔ سابق چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کہا ہے الیکشن کمشن نے حلقہ بندیوں کے معاملے پر پارلیمنٹ پر وار کیا مگر پارلیمنٹ نے اس کا دفاع نہیں کیا علاقائی جماعتوں کو ابھارنے، قومی جماعتوں کو توڑنے اور 18ویں ترمیم کو لپیٹنے کی کوشش سے خدانخواستہ وفاق کا شیرازہ نہ بکھرنے لگے۔ کون سے ہاتھ ملوث ہیں جو قبل ازوقت بجٹ کی منظوری کے لیے نگران حکومت کو ایک سال کی کلین چٹ دلوانا چاہتے ہیں، سیاسی ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا تجربہ پہلے بھی ناکام ہو چکا ہے۔ سینٹ میں یوم دستور کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا یوم دستور نہایت مشکل حالات میں منایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت کے تحت طرز حکومت آئینی تقاضا ہے ہر دس سال کے بعد آئین کو پس پشت ڈالا گیا، آمریت دور صدارتی نظام ٹیکنو کریٹس کا ناٹک بھی آزمایا، قومی حکومت بھی بنائی ون یونٹ کے تحت حکومت کی، پرویز مشرف ملکی قرضوں کا نظام لائے، عدلیہ نے آمر کو آئین میں ترمیم کی اجازت دی، انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے ہنگ پارلیمنٹ لانے، مائنس ون فارمولے کو مسلط کرنے کی کوششیں چل رہی ہیں احتساب صرف اور صرف سیاسی طبقہ کے لیے رہا ہے۔ جب پارلیمانی کمیٹی کے پاس احتساب آرڈیننس گیا اور سیاسی جماعتوں نے عدلیہ، فوج ، پارلیمنٹ کے بلاتفریق احتساب کی بات کی تو پتہ نہیں کون سے ہاتھ تھے کہ سیاسی جماعتوں نے اپنی پوزیشن تبدیل کر لی کہ سویلین احتساب کا قانون بنایا جائے پشتون تحریک پر پاکستان مخالفت کے الزامات لگائے جا رہے ہیں ریاست کے خلاف جس نے بھی بات کی یا گورننس پر سوالات اٹھائے جنہوں نے صوبائی خود مختاری کی بات کی حقوق مانگے انہیں غدار قرار دیا گیا، انہیں لاپتہ کر دیا گیا آج کا پاکستان ان حالات کا متحمل نہیں ہو سکتا الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ پر وار کیا مگر ہم نے اس کا دفاع نہیں کیا اور سپیکر قومی اسمبلی کی حلقہ بندیوں کے بارے میں قائم خصوصی کمیٹی میں کمشن کے افسران نے 35 پنکچر کرنے سے انکار کر دیا۔ رضا ربانی نے کہا خطرناک بات یہ ہے سیاسی ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی کوشش کے لیے سیاسی انجینئرنگ کی جا رہی ہے جو ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ علاقائی جماعتوں کو قائم اور قومی جماعتوں کو توڑا جا رہا ہے اس سے وفاق کمزور ہو گا 18ویں ترمیم کو لپیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے خدانخواستہ ان حالات میں وفاق کا شیرازہ نہ بکھرنے لگے۔ واحد راستہ یہ ہے آئین کے تحت تمام ادارے اپنا کام کریں صاف شفاف انتخابات کرائے جائیں تا کہ عوام کے حقیقی نمائندے اپنی جگہ سنبھالیں، حکومتی جماعت اس بات پر غور کریں کیا ایسے ہاتھ ملوث تو نہیں جو ان کو اس بات کو مجبور کر رہے ہیں وہ بجٹ پہلے لیکر آئیں گے، بجٹ کی منظوری سے ایک سال کی کہانی مکمل ہو جائے گی کہیں حکومتی جماعت میں سے کوئی لوگ ایسی کوشش کر رہے ہیں بجٹ لاکر نگران حکومت کو ایک سال کے اخراجات کا اختیار کیوں دے دیے ہیں وقت سے پہلے بجٹ پیش کرکے نگران حکومتکو ایک سال کے لیے کلین چٹ کیوں دینا چاہتی ہے۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے وقفہ سوالات کے دوران کہا پوری دنیا میں سرکاری نشریاتی اداروں کو سبسڈی دی جاتی ہے ہم سرکاری نشریاتی اداروں کو خود مختار بنانے کیلئے کوشش کررہے ہیں۔ بلوچستان میں پی ٹی وی کے بوسٹر لگانے کیلئے سمری وزیراعظم کو بھیج دی ہے۔ انہوں نے کہا گزشتہ چار برسوں میں پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے 15,872.30 ملین روپے کمائے اور اس عرصے میں 162111.361بلین روپے خرچ کئے 2016-17میں ٹی وی فیس کی مد میں توانائی ڈویژن سے 6756 ملین روپے وصول کئے۔ سینٹ میں قومی اقتصادی کونسل کی سالانہ رپورٹ برائے مالی سال 2016-17 پیش کر دی گئی ہے جبکہ پاکستان کے امریکہ میں نئے سفیر کی تعیناتی اور پاکستانی روپے کی قدر میں حالیہ کمی سے متعلق تحاریک التواء کو خلاف ضابطہ قرار دے کر مسترد کر دیا، لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی گولہ باری کے حالیہ واقعات کو زیر بحث لانے کی تحریک محرکین کے نہ ہونے کی وجہ سے ڈراپ کر دی گئی۔ سینٹ میں وزیر قانون و انصاف محمود بشیر ورک نے قومی اقتصادی کونسل کی سالانہ رپورٹ مالی سال 2016-17پیش کی سینیٹر اعظم سواتی نے علی جہانگیر صدیقی کی امریکہ کے لیے بطور پاکستانی سفیر تعیناتی باوجود اس حقیقت کے انہیں کوئی سفارتی تجربہ حاصل نہیں اور ان کے خلاف ایسے الزامات ہیں جو زیر تفتیش ہیں کو زیر بحث لانے کی تحریک پیش کی چیئرمین سینیٹ نے تحریک میں اٹھائے گئے معاملے کو علامتی قرار دیتے ہوئے تحریک کو مسترد کر دیا سینیٹر محسن عزیز نے پاکستانی روپے کی قدر میں حالیہ کمی جسکی وجہ سے افراط زر قرضہ جات کی ادائیگی میں اضافہ اور معیشت کے تباہی کے دہانے پہنچنے سے متعلق تحریک پیش کی اس تحریک کو بھی چیئرمین سینٹ نے مسترد کر دیا۔ پاکستان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کے معاملے پر ضروری قانون سازی کیلئے متعلقہ آرڈیننس سینٹ میں پیش کردیا ۔ آرڈیننس کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔ انسداد دہشتگردی آرڈیننس 2018دوما ہ کی تاخیر سے ایوان میں پیش کرنے کے معاملے پر چیئرمین سینیٹ نے رولنگ محفوظ کرلی۔ چیئرمین سینٹ نے انسداد دہشتگردی (ترمیمی)آرڈیننس 2018 پیش کرنے کیلئے فلور وزیر قانون وانصاف محمود بشیر ورک کو دیا تو سابقہ چیئرمین سینٹ رضاربانی نے آرڈیننس تاخیر سے آنے کا معاملہ اٹھادیا۔ رضا ربانی نے کہا آرڈیننس کے بعد ہونے والے سیشن میں اسے پیش کرنا ضروری ہے ۔ یہ آرڈیننس 9فروری 2018کو جاری کیا گیا 12فروری سے 23فروری 2018تک سینیٹ کا اجلاس ہوا مگر انسداد دہشتگردی ترمیمی آرڈیننس 2018پیش نہیں کیا گیا ۔ 5مارچ سے 9مارچ تک سیشن ہوا مگر 273اور 274میں یہ آرڈیننس پیش نہیں کیا جبکہ ایوان میں 10دنوں میں پیش کرنا ضروری ہے۔ 2ماہ کی تاخیر سے آرڈیننس لاکر ایوان بالا کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی گئی۔ اپوزیشن لیڈر شیری رحمان نے کہا پاکستان کی سرزمین پر شواہد سے متعلق اہم آرڈیننس ہے ۔ اب یہ بل بن جائے گاقائمہ کمیٹی میں اس پر بات ہوگی تاہم آرڈیننس پیش کرنے کا طریقہ کار غلط ہے ۔ متحدہ حزب اختلاف متفق ہے اس طرح آرڈیننس نہیں آنے چاہئیں۔ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے رضاربانی کو سینٹ میں آنے پر خوش آمدید کہا۔ مولانا عطاالرحمان کو اپنی نشست پر بیٹھنے اور طلال چوہدری کو باتیں کرنے کی بجائے توجہ سے سوال سننے کی ہدایت کی۔ گزشتہ روز چیئرمین سینٹ نے جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ موسی اعظم خیل نے جب مزید سوال کرنے کی کوشش کی تو چیئرمین نے ان کو روک دیا اور کہا وزیر آب کو متعلقہ دستاویزات فراہم کردیں گے۔ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی سربراہی میں ایوان بالا کی نئی فنانس کمیٹی قائم کر دی گئی۔ فنانس کمیٹی سینٹ سیکریٹریٹ کے بجٹ اخرجات، مالیاتی امور کی نگرانی کا کردار ادا کرے گی۔نمائندہ خصوصی کے مطابق چیئرمین سینٹ نے تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم خان سواتی اور دیگر کی علی جہانگیر صدیقی کی امریکہ میں بطور سفیر نامزدگی اور پاکستانی روپے کی قدر کی کمی کے بارے میں دو تحاریک التواء ناقابل پذیرائی قرار دے دیں۔ حکومت نے انسداد دہشت گردی ترمیمی آرڈیننس سینیٹ میں پیش کر دیا، اپوزیشن نے آرڈیننس تاخیر سے ایوان میں پیش کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا انسداد دہشت گردی ترمیمی آرڈیننس2ماہ کی تاخیر سے ایوان میں پیش کیا گیا، حکومت کو ہر یوم کا حساب دینا ہوگا اسے پیش کرنے میں تاخیر کیوں کی گئی۔ آئی این پی کے مطابق سینٹ میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے کہا ہے ملک میں ہمیشہ مائنس ون فارمولا چلا، احتساب کے لئے ہمیشہ سیاست دانوں کو ہی پیش کیا گیا، جب جرنیلوں اور ججوں کے احتساب کی بات کی گئی تو خفیہ ہاتھوں نے سیاسی جماعتوں کو پیچھے کر دیا، ریاست نے ہمیشہ ریاست کے بارے میں بات کرنے والوں کو غدار کہا، ملک میں انجینئرڈ سیاسی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، سیاسی جماعتوں کی توڑ پھوڑ ملکی مفاد میں نہیں، حکومت غور کرے کیا ایسے کوئی ہاتھ تو نہیں جو انہیں بجٹ جلدی لانے کا کہہ رہے ہیں، اگر بجٹ منظور ہو گیا تو پھر سٹوری ایک سال کے لئے ختم ہو جائے گی۔ رضا ربانی نے کہا ہم مختلف اداروں میں تصادم دیکھ رہے ہیں۔ چیئرمین سینٹ نے یوم دستور پر خطاب کے دوران سینیٹر کے جوتیوں کے لفظ کو کارروائی سے خذف کر دیا۔ وزیر مملکت خزانہ رانا افضل نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف نے ہاتھ نہیں اٹھائے بلکہ ہم نے اعلانیہ آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا اعلان کیا، خزانہ خالی ہو رہا ہے اور نہ ہی ملک دیوالیہ ہونے جا رہا ہے، ایسی باتیں درست نہیں، 2013کے مقابلے میں زرمبادلہ کے ذخائر دوگنا ہو چکے ہیں، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی دوگنا ہوئی، زرمبادلہ کے ذخائر میں 3.60ارب ڈالر کمی ضرور ہوئی تاہم اس کمی کو پورا کرنے کیلئے بندوبست کر رہے ہیں۔ وہ اپوزیشن لیڈر شیری رحمان کے توجہ دلائو نوٹس کا جواب دے رہے تھے۔