نیب کیپٹل ایف زیڈ ای دستاویزات نکال دے‘ جرح نہیں کرتے خواجہ حارث‘ واجد ضیاء پر جرح جاری

11 اپریل 2018

اسلام آباد (نامہ نگار) احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف دائر ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کی جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء پر جرح نویں روز بھی مکمل نہ ہو سکی، خواجہ حارث آج بھی جرح جاری رکھیں گے، نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے کہا خواجہ حارث 3دن سے تسلیم شدہ حقائق پر جرح کر رہے ہیں، نواز شریف کیپٹل ایف زیڈ ای کی چیئرمین شپ، اقامہ تسلیم کر چکے ہیں اور تنخواہ کے حوالے سے ملزمان کا موقف ہے وصول نہیں کی، سپریم کورٹ میں بیان بھی دے چکے ہیں 2006ء میں چیئرمین رہے لٰہذا وکیل صفائی تسلیم شدہ دستاویزات پر جرح نہیں کر سکتے۔خواجہ حارث نے جواباً کہا واجد ضیا نے کیپٹل ایف زیڈ ای کے حوالے سے احتساب عدالت میں بیان قلمبند کرایا اور کیپٹل ایف زیڈ ای کی دستاویزات کو عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش کیا جب ہم نے اقامہ کو کبھی نہیں جھٹلایا، میں نے کب کہا اقامہ جعلی ہے جس پر جج محمد بشیر نے کہا آپ جرح کریں لیکن مختصر کریں،جس پر خواجہ حارث نے کہا نیب کیپٹل ایف زیڈ ای کی دستاویزات کیوں لائے یہ دستاویزات نکال دیں ہم جرح نہیں کرتے۔ گزشتہ روز سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف ،ان کی صاحبزادی مریم نواز اور ان کے داماد کیپٹن(ر) صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔ خواجہ حارث نے سوال اٹھایا تنخواہ سے متعلق سکرین شارٹ میں نواز شریف کی تنخواہ 10000درہم نہیں لکھی۔جس پر واجد ضیاء نے کہا کنٹریکٹ دستاویزات اور سرٹیفکیٹس میں تنخواہ کی تفصیلات موجود ہیں،مکمل تصویر کو سامنے رکھیں ادھورے ڈاکومنٹس کو نہیں۔ وقفے کے بعد خواجہ حارث نے سوال کیا کیا جے آئی ٹی کی رپورٹ کوئسٹ سولسٹر کے ساتھ شئیر کی گئی تھی۔ واجد ضیاء نے کہا جے آئی ٹی کی پوری رپورٹ کوئسٹ سولسٹر کے ساتھ شئیر نہیں کی گئی۔گواہوں کے بیان کے متعلقہ حصے کوئسٹ سولسٹر کے ساتھ شیئر کئے گئے تھے۔خواجہ حارث نے کہا کیا کوئسٹ سولسٹر کو بتایا گیا تھا کہ جو گواہوں کے بیان کے متعلقہ حصے اور جے آئی ٹی کا تجزیہ شیئر کیا گیا وہ جے آئی ٹی رپورٹ کا حصہ ہے۔ خواجہ حارث کے سوال پر نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا آپ اس طرح کے سوال نہیں پوچھ سکتے۔ واجد ضیانے کہا نواز شریف نے جے آئی ٹی میں پیش ہو کر کہا وہ کبھی کمپنی چلانے میں شامل نہیں رہے،نواز شریف نے جے آئی ٹی میں پیش ہو کر بتایا کہ نیلسن اور نیسکول سمیت کسی کمپنی کا بینیفشل نہیں ہوں، نواز شریف نے بتایا کہ کسی ٹرانزیکشن میں ملوث نہیں، واجد ضیانے کہا کہ حسن نواز اور حسین نواز کے لندن میں رہائش کے اخراجات میاں محمد شریف برداشت کرتے تھے، نواز شریف نے بتایا کہ کسی بھی سرمایہ کاری کی تقسیم جو خاندان میں ہوئی وہ صرف میاں محمد شریف کا ذاتی فیصلہ تھا۔