نواز شریف انسان اچھے، عزت نہیں دیتے، گردن میں سریا آ جاتا ہے: وزیراعلیٰ بلوچستان

11 اپریل 2018

لاہور (خصوصی رپورٹر) سابق وزیراعظم اور ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کی خود نوشت ’’سچ تو یہ ہے‘‘ ایک ایسی دلچسپ کتاب ہے جسے سیاست اور صحافت سے دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کو پڑھنا چاہئے۔ چودھری شجاعت نے سچ تو یہ ہے، میں سخت اور تلخ حقیقتیں قوم کے سامنے رکھ دی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں چودھری شجاعت حسین کی خود نوشت ’’سچ تو یہ ہے‘‘ کی تقریب رونمائی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کی صدارت وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کی جبکہ مہمان خاص عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد تھے۔ مقررین میں سینئر صحافی حامد میر، ایاز امیر، حسن نثار شامل تھے۔ تقریب کے شرکاء میں کامل علی آغا، طارق بشیر چیمہ، فرید پراچہ، میاں محمود الرشید، چودھری ظہیر الدین، راجہ بشارت، اعجاز چودھری، خرم نواز گنڈا پور، میاں منیر، شیخ عمر حیات، آمنہ الفت، خدیجہ فاروقی، چودھری وجاہت حسین، چودھری شفاعت حسین، چودھری شافع حسین، چودھری سالک حسین، چودھری مونس الٰہی، چودھری عبدالرافع الٰہی سمیت چودھری خاندان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جن کا تعلق زندگی کے تمام نمایاں شعبوں کے ساتھ تھا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا بلوچستان میں چودھری ظہور الٰہی کے خاندان کی شناخت یہ ہے پنجاب میں بلوچستان والوں کو سب سے زیادہ عزت چودھری شجاعت حسین اور ان کے خاندان کے افراد دیتے ہیں۔ ’’سچ تو یہ ہے‘‘ نئی نسل کیلئے مشعل راہ ہوگی اور اسے پڑھ کر لوگوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف بہت اچھے انسان ہیں لیکن جب وہ اقتدار میں آتے ہیں تو ان کی گردن میں گارڈر سریا آ جاتا ہے، نواز شریف جب بلوچستان آتے تھے تو اپنے لوگوں کو عزت نہیں دیتے تھے، بلوچستان کے لوگ عزت کے بھوکے ہیں۔ سو جب ہم نے موقع فراہم کیا تو انہوں نے بلوچستان میں نواز شریف کی حکومت ختم کر دی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں بھی جب مسلم لیگ ن کی حکومت ختم ہوگی تو لوگ ان کا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ انہوں نے کہا نواز شریف کہتے ہیں ووٹ کو عزت دو لیکن بلوچستان سے چیئرمین سینٹ لایا گیا تو اسے عزت دینے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو اپنی خامیاں نظر نہیں آ رہی ہیں، خود کو بالادست سمجھتے ہیں اور دوسروں کو عزت نہیں دیتے، ان کی یہ دو بڑی خرابیاں ہیں۔ انہوں نے کہا بلوچستان کے ہم خیال لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کیلئے ہم نے نئی جماعت بنائی اور بہت بھاری دل کے ساتھ ق لیگ کو چھوڑا لیکن میں جہاں بھی ہوں گا خود کو ہمیشہ چودھری شجاعت کا کارکن سمجھوں گا۔ چودھری شجاعت نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’سچ تو یہ ہے‘ قوم کی امانت ہے جو میں قوم کو واپس کرکے سرخرو ہوا ہوں۔ میں نے نصف صدی زندگی کو قلمبند کیا ہے اس میں جو آنکھوں سے دیکھا، کانوں سے سنا اور اپنے ہاتھوں سرانجام دیا من و عن بیان کر دیا ہے۔ میں وثوق سے دعویٰ کرتا ہوں اس میں میں نے کوئی مبالغہ آرائی نہیں کی بلکہ اپنی رائے دینے سے بھی گریز کیا ہے، کوشش کی کسی کی دل آزاری نہ ہو پھر بھی کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو مجھے معاف کر دیں۔ میرا مقصد حقائق سامنے لانا ہے، فتنہ و فساد پیدا کرنا نہیں چاہتا۔ میرے نزدیک قومی سلامتی اور ملکی استحکام سب سے زیادہ مقدم ہے۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ہم سب اقتدار کے بھوکے سیاستدان ہیں اور آج ہمارے درمیان کوئی ظہور الٰہی نہیں۔ نواز شریف این آر او کی تلاش میں ہیں اور ہم اپنی تاش لگانے کے چکر میں ہیں۔ چودھری ظہور الٰہی سیاسی کارکن کیلئے سہارا تھے جبکہ آج کارکن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ کوئی پارٹی پانچ پانچ کروڑ سے کم میں ٹکٹ نہیں دیتی اور سب لوگ اس بوسیدہ نظام کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں اور اسے سہارا دے رہے ہیں۔ جس دن نوازشریف خاندان نے سچ بولا ان کی سیاست کا آخری دن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف دراصل جنرل بٹ اور جسٹس قیوم چاہتے ہیں اور کسی پر انہیں اعتماد نہیں۔ آئی این پی کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا ہے والد نے وصیت کی نواز شریف امریکہ کا صدر بھی بن جائے تو اس کا ساتھ نہیں دینا۔

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...