نیب ہیڈکوارٹر پر ائرکنڈیشننگ ٹھیکہ میں بے ضابطگیاں‘ پی اے سی نے انکوائری کا حکم دیدیا

11 اپریل 2018

اسلام آباد (نامہ نگار) پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی (پی اے سی) نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے نئے تعمیر شدہ ہیڈ کوارٹرز میں ہیٹنگ و ینٹلیشن اور ائیرکنڈیشننگ کی تنصیب کے ٹھیکہ میں بے ضابطگیو ں کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ 15روز میں طلب کر لی ہے، کمیٹی نے چیئرمین نیب کی عدم حاضری پر ادارے کی کارکردگی کے حوالے سے ان کیمرہ بریفنگ کو ملتوی کر دیا، ریٹائر ملازمین کی ہائوسنگ کالونی کے معاملے کا جائزہ لینے کے لئے ڈاکٹر عارف علوی اور میاں عبدالمنان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ پی اے سی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی خورشید شاہ کی صدارت میں ہوا، کمیٹی میں نیب کی کارکردگی کے حوالے سے رپورٹ کا جا ئزہ لیا جانا تھا، ڈپٹی چیئرمین نیب امتیاز تاجور نے پیش ہو کر کمیٹی کو آگاہ کیا کہ چیئرمین نیب اس وقت ایوان صدر میں ہونے کے با عث یہاں حاضری یقینی نہیں بنا سکے، کمیٹی کی ہدایت پر چیئرمین نیب سے رابطہ کیا گیا تاہم ان کی عدم حاضری پر بر یفنگ 18اپریل تک ملتوی کر دی گئی، بعدازاں آڈٹ حکام نے کمیٹی کو آ گاہ کیا کہ نیب کے نئے تعمیر شدہ ہیڈ کوارٹر میں ہیٹنگ و ینٹلیشن اور ائیر کنڈیشننگ کی تنصیب کیلئے 263ملین روپے کا ٹھیکہ فروری 2016ء میں 10فیصد کم قیمت پر 235ملین روپے میں ایک کمپنی کو دیا گیا تاہم کچھ ہی عرصہ بعد یہ ٹھیکہ منسوخ کرتے ہوئے جون 2016ء میں قیمت بڑھا کر 279ملین روپے میں دوسری کمپنی کو دے دیا گیا، وزارت کی جانب سے پہلی کمپنی کو کام شروع کرنے سے قبل ہی 9ملین سے زائد کی رقم پیشگی جاری کی گئی اور کنٹریکٹ منسوخ کرنے کے باوجود رقم کو واپس نہیں لیا گیا، سیکرٹری ہائوسنگ نے کمیٹی کو آ گاہ کیا کہ پہلی کمپنی کو دیا جانے وا لا کنٹریکٹ منسوخ کرنے کا واحد مقصد کا م شروع کرنے میں تاخیر تھا، دوسری کمپنی کو ٹھیکہ 5فیصد زائد رقم پر کسی بھی بدنیتی کے بغیر دیا گیا جس کی بنیادی وجہ تعمیراتی کام میں توسیع کیا جانا تھا، کمیٹی نے وزارت کے جواب کو غیرتسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے ہائوسنگ اینڈ ورکس کا کوئی افسر اس سارے معا ملے میں ملوث ہے، معاملہ کی انکوائری کرتے ہوئے ذمہ داران کا تعین کیا جائے، اس موقع پر کمیٹی رکن مولانا غفور حیدری نے کہا کہ جو محکمہ جمعیت علمائے اسلام سے متعلق ہے اس کے با رے میں انکوائری کا حکم دے دیا گیا اور پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک کا جو حال کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے ، اس پر کمیٹی رکن روحیل اصغر نے کہا آپ دونوں جماعتوں کے اتحادی رہے ہیں ، روحیل اصغر نے شفقت محمود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو اقتدار کا موقع ملا تو یہ آپ کے ساتھ بھی ہوں گے تاہم ایک بات اہم ہے کہ’’ سارا پنڈوی مر جاوے تسی چوہدری نہیں بن سکدے‘‘، کمیٹی ر کن غلام مصطفی نے کہا کہ منصوبہ کی جگہ کا معائنہ کرنے کیلئے مولانا غفور حیدری کو بھیجا جائے تا کہ یہ اس کی تکمیل کے لئے دعا کروا سکیں اور اگر منصوبہ مکمل نہیں ہو رہا تو پھر اس کی فاتحہ خوانی کروا دی جائے جس پر غفور حیدری نے کہا جو حال دونوں سیاسی جماعتوں نے ملک کا کیا ہے اس پر بھی دعا کرنے کی ضرورت ہے۔چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری ہائوسنگ اینڈ ورکس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ادارے نے ریٹائر ملازمین کو 727کنال کی زمین پر ہائوسنگ کالونی بنا کر دینے کیلئے 80فیصد رقوم و صول کیں جو کہ تقر یبا 7ارب رو پے بنتی ہے، پیسہ کس بینک میں رکھا گیا کسی کو بھی علم نہیں ہے، ادارے نے80فیصد رقم وصول کرنے کے بعد ہائوسنگ کالونی پر ایک روپیہ بھی نہیں لگایا، اس سارے معاملہ میں ملوث لوگوں کو الٹا لٹکایا جائے گا، آپ کی جانب سے رقوم ادا کرنے والوں کو 15,15لاکھ کے جرمانے بھی کیئے جا رہے ہیں۔کمیٹی نے نیب ہیڈ کواٹر کی عمارت میں ڈیزائن کی تبد یلی کے باعث 108ملین روپے کے زائد خر چ پر ہو نے والے آڈٹ اعتراض کو نمٹا دیا۔