ہائیکورٹ نے زمین کی رجسٹری کیلئے نقشہ فراہمی کی شرط پر عملدرآمد روکدیا

11 اپریل 2018

لاہور (اپنے نامہ نگار سے)لاہور ہائیکورٹ نے زمینوں کی رجسٹریوں کیلئے نقشوں کی فراہمی کی شرط پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا، عدالت نے سپر سٹرکچر کے نفاذ کے خلاف حکم امتناعی کی استدعا پر حکومت پنجاب سے جواب طلب کر لیا۔ جسٹس ساجدمحمود سیٹھی نے سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ بورڈ آف ریونیو نے غیرقانونی طور پررجسٹری کیلئے نقشے کی شرط لازمی قراردی۔ بورڈ آف ریونیو نے دیہی اور شہری اراضی کی سوفیصدسپرسٹرکیچرٹیکس لگانیکی منظوری دی،قوانین کے تحت شہری زمینوں پر پانچ فیصد جبکہ دیہی زمینوں پر تین فیصد سٹامپ ڈیوٹی ہی عائد کی جا سکتی ہے۔ بورڈ آف ریونیو نے گذشتہ ماہ ایک سے نوٹیفیکیشن کے ذریعے پنجاب بھر میں موجود شہری اور دیہی بندوبستی علاقوں میں موجود پلاٹوں کی تفریق ختم کر دی، اس نوٹیفیکیشن کے تحت پلاٹوں پر سٹامپ ڈیوٹی کے علاوہ سو فیصد سپر سٹرکچر ٹیکس بھی عائد کر دیا گیا، سپر سٹرکچر ٹیکس کا نفاذ آئین پاکستان، سٹیمپ ایکٹ اور رجسٹریشن ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی ہے، آئین اور قوانین کے تحت شہری اور دیہی علاقوں کی درجہ بندی ختم نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے تا حکم ثانی صوبہ بھرمیں پرانے طریقہ کارکے مطابق رجسٹریاں کرنیکا حکم دے دیا۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...