چیچہ وطنی : 8 سالہ نور فاطمہ کو زیادتی کے بعد جلائے جانے پر شٹرڈاؤن ، وکلا کا عدالتی بائیکاٹ

11 اپریل 2018

چیچہ وطنی/ لاہور (نامہ نگار+ خصوصی رپورٹر) چیچہ وطنی کی 8سالہ نور فاطمہ سے مبینہ زیادتی اور آگ لگا کر قتل کرنے کے واقعہ پر چیچہ وطنی شہر اور بار ایسوسی ایشن نے مکمل ہڑتال کی اور تمام بازار، دکانیں اور مارکیٹیں بند رہیں، وکلاء کی طرف سے عدالتوں کا بھی بائیکاٹ کیا گیا۔ 8سالہ بچی کی نماز جنازہ بعد از نماز ظہر رائے علی نواز سٹیڈیم میں ادا کی گئی ۔جس میں آر پی او طارق رستم چوہان، ڈی پی او ڈاکٹر عاطف اکرام کے علاوہ تمام مکاتب فکر کے سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ پولیس تھانہ سٹی نے گزشتہ شب ورثاء کی طرف سے دی گئی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ نمبر 148/18زیر دفعہ 302ت پ درج کر لیا ۔بعد ازاں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں بچی کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم میں ابتدائی طور پر بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے شواہد بھی سامنے آئے۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال چیچہ وطنی میں بچی کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعداس کے اعضاء کے نمونے فرانزک رپورٹ کیلئے لاہور بھجوا دیئے ہیں دوسری طرف آر پی او ساہیوا ل نے کہا ہے کہ بچی کے ساتھ زیادتی آگ سے جلائے جانے کے حوالہ سے کوئی حتمی رائے قائم نہیں کر سکتے۔ فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہی حقائق کا پتہ چلے گا۔ پولیس سچائی تک پہنچنے کے لیے اپنے تمام ممکنہ وسائل صرف کر رہی ہے۔ ڈی پی او ساہیوال ڈاکٹر عاطف اکرام کے مطابق نور فاطمہ کے مبینہ قتل میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے متاثرہ خاندان کو ہر صورت میں انصاف مہیا کیا جائیگا۔ نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ کیا جا چکا ہے پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد مزید حقائق سامنے آنے پر کارروائی ہو گی۔ مقتولہ کے کپڑوں اور جوتوں کے سیمپل پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی لاہور تجزیہ کیلئے بھجو ادیئے گئے۔ بعدازاں ڈی سی ساہیوال شوکت کھچی، ڈی پی او ساہیوال نے بچی کے گھر جا کر فاتحہ خوانی کی، اس کے والدین سے اظہار تعزیت کیا۔ یاد رہے کہ 8سالہ نور فاطمہ دخترمحمد عاشق سکنہ محلہ محمد آباد وارڈ نمبر 17،گزشتہ روز گھر سے ٹافیاں لینے قریبی دکان پر گئی جوآگ سے بری طرح جھلسنے کے بعد بے ہوشی کی حالت میں ورثاء کو ملی جسے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سے طبی امداد کے بعد ساہیوال اور وہاں سے جناح ہسپتال لاہور ریفر کیا گیاتھا جو جانبر نہ ہو سکی، موت وحیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد دم توڑگئی۔ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی اور آگ لگانے کے الزامات سامنے آنے پر شہر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور منگل کے روز انجمن تاجران کی اپیل پر شہر میں شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی، تعلیمی اداروں میں بھی چھٹی کر دی گئی۔ واقعہ کے خلاف شہر میں جلوس نکالا گیا۔ گھر سے میت اٹھنے پر محلہ میں کہرام مچ گیا، رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے قریبی دوکاندار امداد کو حراست میں لے لیا جبکہ 6 مختلف افرادسے مختلف زاویوں سے تفتیش جاری ہے۔ ایس پی انویسٹی گیشن ساہیوال نوید ارشاد کی سربراہی میں واقعہ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ بچی کے ورثاء اور شہریوں نے اعلیٰ حکام سے واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور مجرموںکی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ بچی کی رسم قل خوانی آج 11اپریل بروز بدھ صبح 10 بجے لکڑمنڈی میں ہوگی۔ لاہور سے خصوصی رپورٹر کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے چیچہ وطنی کے علاقے میں زیادتی کے بعد بچی کوجلانے کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے اندوہناک واقعہ میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملزمان کو جلد سے جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا اور متاثرہ خاندان کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے معصوم بچی کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔