علی جہانگیر صدیقی کی امریکہ میں سفیر تعیناتی کیریئر ڈپلومیٹس کو کیوں نظرانداز کیا: ہائیکورٹ

11 اپریل 2018

اسلام آباد (آن لائن) علی جہانگیر صدیقی کو امریکہ میں بطور پاکستانی سفیر تعینات کرنے کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل سے اگلی سماعت پر تحریری جواب طلب کر لیا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم کو اختیار ہے کہ سفیر کی تعیناتی کے معاملے پر صوابدیدی اختیار استعمال کرے ۔جس پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ وزیر اعظم کو سفیر کی تعیناتی کے لئے کوئی صوابدیدی اختیار نہیں ہے۔ دفتر خارجہ میں سفیر کی تعیناتی کا طریقہ کار موجود ہے۔ وزیراعظم نے غیر قانونی طور پر اپنے کاروباری شراکت دار کو امریکہ میں بطور پاکستانی سفیر تعینات کرنے کی منظوری دی۔ انہوں نے استدعا کی کہ عدالت علی جہانگیر صدیقی کی تعیناتی میرٹ کے برعکس ہونے کی بنا پر کالعدم قرار دے۔علی جہانگیر صدیقی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک علی جہانگیر صدیقی کے بحیثیت امریکا سفیر کے لئے نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف سے استفسار کیا کہ کیریئر ڈپلومیٹس کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟ یہ عوامی مفاد کا کیس ہے۔اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے عدالت کو بتایا کہ کہ وفاق نے اگریما امریکی حکومت کو بھیج دیا ہے۔ اب امریکی حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عدالت کو یقین دلاتے ہیں کہ اس معاملے پر عدالت کو اعتماد میں لیا جائے گا اور علی جہانگیر صدیقی کی تعیناتی کا بطور پاکستانی سفیر نوٹی فیکیشن اسلام آباد ہائیکورٹ کے نوٹس میں لائے بغیر جاری نہیں کریں گے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کی بات کو عدالتی حکم کا حصہ بنا لوں؟ جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس بات کو عدالتی حکم کا حصہ نہ بنائیں مگر میں عدالت کو یقین دلاتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر اگر عدالت حکم امتناعی جاری کرتی ہے تو پاکستان کا امیج خراب ہو گا۔