/پلاننگ کے تحت اکھاڑ پچھاڑ سے جمہوریت ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہوسکتی ہے

11 اپریل 2018

قومی و صوبائی اسمبلی کے سات ارکان نواز لیگ چھوڑ گئے‘ میاں نوازشریف کا پری پول دھاندلی کا الزام ‘ انتخابی نتائج تسلیم نہ کرنےکا عندیہ

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 6 ارکان قومی اسمبلی اور 2 ارکان صوبائی اسمبلی نے عام انتخابات سے قبل پارٹی چھوڑنے اور اسمبلیوں سے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے منحرف رکن خسرو بختیار کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ان تمام ارکان نے اپنی نشستوں سے استعفیٰ دیتے ہوئے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانے کا بھی اعلان کیا۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی قیادت میر بلخ شیر مزاری کرینگے ۔مستعفی ہونےوالے ارکان قومی اسمبلی میں خسرو بختیار، اصغر علی شاہ، طاہر اقبال چوہدری، طاہر بشیر چیمہ، رانا قاسم نون، باسط بخاری جبکہ صوبائی اسمبلی سے سمیرا خان اور نصراللہ دریشک شامل ہیں۔ اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت میں خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ آنےوالے چند دنوں میں مزید ارکان اسمبلی اس کارواں میں شامل ہونگے اور کئی ارکان پنجاب اسمبلی کے باہر کھڑے ہوکر استعفیٰ دینگے۔جنوبی پنجاب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں غربت 27 فیصد‘ جنوبی پنجاب میں 51 فیصد ہے جبکہ اسی جگہ سے مختلف وزراءاعظم اور وزرا آتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور ایران میں صوبوں کی تعداد بڑھ رہی لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہورہا لہذا ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا ایک ہی سیاسی نقطہ ہے اور وہ نئے صوبے کا قیام ہے۔ دریں اثناءنوائے وقت کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی ”توڑ پھوڑ“ کے عمل میں تیزی آگئی ہے مسلم لیگ (ن) کے ارکان کو تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی میں شمولیت کیلئے راہ دکھائی جارہی ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں شمولیت سے انکار کرنےوالے ارکان کو ”آزاد گروپ“ تشکیل دینے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ عام انتخابات سے قبل مسلم لیگی ارکان کے بازو مروڑنے کی اطلاعات کے موصول ہونے پر سابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے شدید ردعمل کااظہار کیا ہے اور انتباہ کیا کہ اگر ”بازو“ مروڑنے کا عمل جاری رہا تو مسلم لیگ (ن) 2018ءکے انتخابی نتائج تسلیم نہیں کرےگی۔ مسلم لیگی حلقوں میں یہ بات برملا کہی جارہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی اکثریت کو روکنے کیلئے ”الیکٹبل“ کا شکار کیا جارہا ہے۔
جس روز جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایم این ایز اور ایم پی ایز نے مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی کا اعلان کیا‘ اسی روز شیخوپورہ سے بھی دو ایم پی اے پارٹی چھوڑ گئے تھے۔ ایک ایم این اے گزشتہ دنوں بغاوت کرگیا تھا۔انتخابات سے قبل سیاست دانوں کی طرف سے نئے سرے سے سیاسی راہیں متعین کرنے کی ایک روایت رہی ہے مگر اب جو استعفے آرہے ہیں یا مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی اختیار کی جارہی ہے وہ معمول سے ہٹ کر ہے۔ اکھاڑ پچھاڑ اور توڑ پھوڑ نگران حکومت کے اعلان کے بعد ہوتی ہے‘ ابھی تو حکومت کی مدت میں ڈیڑھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ باقی ہے۔
درجن کے قریب ارکان اسمبلی کی طرف سے پارٹی سے بغاوت یا انحراف کے بعدمسلم لیگی حلقوں کی طرف سے تشویش کا اظہار اور شدید ردعمل آنا ایک فطری امر ہے۔ رانا ثناءاللہ خان نے اس پر کہا کہ پارٹی چھوڑنے والوں کے سیاسی گند ہونے میں کوئی شک نہیں۔ محسن رانجھا کہتے ہیں باغی ارکان نوازشریف کے بیانیہ سے خوفزدہ تھے۔ احسن اقبال نے اسے ڈگڈگی کا کھیل قرار دیا۔ جس پارٹی کو ایسی زک پہنچائی گئی ہو اور پارٹی میں یہ تاثر پایا جاتا ہو کہ یہ پلاننگ کے تحت ہورہا ہے‘ اسکی طرف سے تلخ و ترش بیان بازی قابل فہم ہے۔ تاہم وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر میاں شہبازشریف کی طرف سے اس پر جذباتی کے بجائے مثبت اور حوصلہ افزاءردعمل سامنے آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناراض ارکان کو منانے کی کوشش کی جائیگی‘ انکے تخفظات دور کرینگے‘ مزید براں مسلم لیگ (ن) کے صدر نے پارٹی رہنماﺅں کو اس حوالے سے بیان بازی سے بھی روک دیا ہے۔
ناراض ارکان جنوبی پنجاب کی محرومی کی بات کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے شہباز شریف نے جنوبی پنجاب کے سب سے زیادہ دورے اور ترقیاتی کاموں کے منصوبوں کا آغاز کیا۔ ان میں سے تعلیم و صحت اور بجلی کی پیداوار جیسے کئی منصوبے مکمل ہوچکے اور میٹرو بس جیسے تیزی سے تکمیل کی طرف گامزن ہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منحرف ارکان نے کبھی جنوبی پنجاب صوبے کا ایشو نہیں اٹھایا۔ پارلیمانی دور میں کبھی کوئی قرارداد اور نہ کوئی تحریک پیش کی گئی‘ اس ایشو کا ذکر تک گزشتہ پانچ سال کے عرصہ میں نہیں ملتا۔ اب جبکہ اسمبلیوں کی مدت کی تکمیل میں محض چند ہفتے باقی ہیں تو ارکان کو جنوبی پنجاب صوبے کی یاد آگئی۔ کیا یہ لوگ جنوبی پنجاب صوبے کا یہ ایشو لے کر مسلم لیگ (ن) کی صوبائی و مرکزی قیادت کے پاس گئے تھے؟ ایسی کوئی بات خود انہوں نے کی نہ کوئی ایسی خبر نشر یا شائع ہوئی۔ بڑی عجلت میں ایک پریس کانفرنس کردی گئی جس سے مسلم لیگ میں بے چینی اور توڑ پھوڑ کا تاثر نمایاں ہوتا ہے۔ کچھ حلقے مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرکے آئندہ انتخابات میں من مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے پارٹی چھوڑنے پر ان قیاس آرائیوں کو بھی تقویت ملتی ہے کہ کچھ ”قوتیں“ مسلم لیگ (ن) کو کمزور کرنے کے درپے ہیں اور (ن) لیگ سے علیحدگی کسی اشارے پر ہورہی ہے۔
ماضی میں مرکزی و صوبائی حکومتیں اپنے جاری منصوبوں کی تکمیل پر پوری قوت صرف کردیا کرتی تھیں۔ اب حکومتوں پر اپنے منصوبوں کی تشہیر اور افتتاح پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔ آج ہر قابل ذکر پارٹی کسی نہ کسی صورت حکومت میں ہے۔ اس پابندی کا نقصان زیادہ کام کرنیوالی حکومت اور پارٹی کوہوگا۔ ایسی پابندی کو Equal Playing Field کا نام دیا جا سکتا ہے مگر ارکان کی وابستگیاں تبدیل کرانے کا تاثر ایک پارٹی کے نقصان کا باعث بن رہا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو اسے پری پول رگنگ قرار دیا جاسکتا ہے۔ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے‘ جو کئی حوالوں سے زخم خوردہ ہیں‘ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے ان ریمارکس پر کہ پنجاب حکومت کی کارکردگی ناقص ہے‘ کہا کہ چیف جسٹس ‘عمران اور زرداری کی زبان بول رہے ہیں‘ کسی کو کھلی چھٹی اور کسی کو بند گلی میں دھکیلنا قبل از وقت دھاندلی ہے‘ ایسے الیکشن کون تسلیم کرےگا۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کسی قسم کے جوڈیشل مارشل لاء پر یقین نہیں رکھتے، مجھے پارٹی صدارت سے ہٹانا اور سینیٹرز سے سلوک چیف جسٹس کی باتوں کی نفی ہے۔یہ تک کہا جا رہا ہے پنجاب کی کارکردگی بہت کمزور ہے،ان الفاظ کی منطق اور گفتگو کی سمجھ نہیں آتی، آپ کے پی،کراچی، بلوچستان کو بھی جانتے ہیں،ان کا یہ بھی کہنا ہے ایک عام آدمی بھی بتا دےگا سب سے بہتر کارکردگی پنجاب کی ہے۔ ملک غیرشفاف الیکشن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس طرح کی بات کر کے پارٹی بننا قابل قبول نہیں۔انتخابات میں سب کیلئے یکساں مواقع ہونے چاہئیں۔
ہم میاں نوازشریف کے ریمارکس پر کوئی تبصرہ کئے بغیر مقتدر اداروں سے کہیں گے کہ انتخابات میں کسی پارٹی سے رعایت یا کسی سے مخاصمت کا کوئی تاثر سامنے نہیں آنا چاہیے۔ ابھی سے پری پول دھاندلی کی باتیں کی جارہی ہیں جو کسی بھی صورت جمہوریت کے مفاد میں نہیں۔ ابھی حلقہ بندیوں پر تحفظات دور نہیں ہوئے‘ نگران حکومت کے قیام کیلئے اتفاق رائے بھی سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی پری پول دھاندلی کی بات کررہی ہے۔ مقتدر حلقے انتخابات کی فضا کو خوشگوار بنانے کی کوشش کریں اور ایسے انتظامات کئے جائیں کہ ہر کسی کو انتخابات کی شفافیت ساکھ پر اعتبار ہو۔ دوسری صورت میں جمہوریت ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہو سکتی ہے۔