کل دوپہر تک مطالبات پورے نہ ہوئے تو4 بجے عوام سڑکوں پر آجائیں : تحریک لبیک

11 اپریل 2018

لاہور (خصوصی نامہ نگار) تحریک لبیک یارسول اللہ کی قیادت نے کل جمعرات دوپہر بارہ بجے تک مطالبات پورے نہ ہونے پر عوام کو چار بجے سڑکوںپر نکلنے کی کال دیدی ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز حکومت اور دھرنا قائدین میں مذاکرات کا ایک پھر رائیونڈ ہوا جس میں صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ، چیف کمشنر اسلام آباد اور طلال چوہدری جبکہ دھرنا قائدین کی طرف سے سرپرست اعلیٰ پیر افضل قادری اور شیخ محمد اظہر سمیت دیگر نے شرکت کی تاہم تحریک لبیک یا رسول اللہ کی قیادت نے مذاکرات کوناکام قراردیتے ہوئے مزید مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کیا۔ قائدین نے اضلاع اور ڈسٹرکٹ سمیت ملک بھر کی تمام تنظیموں کو احتجاج کی فوری تیاریوں کا بھی حکم دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی قیادت احتجاج کی صورت میں صوبائی دارالحکومت میں احتجاج کے معاملات دیکھے گی جبکہ منصوبہ بندی کے تحت موٹرویز اورشہروں کے داخلی و خارجی راستے بند کئے جائیں گے۔ دوسری طرف علامہ خادم حسین رضوی نے کہا کہ احتجاج کیا توحکومت کا چلنا مشکل کر دیں گے، ختم نبوت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، حکومت فوری مطالبات تسلیم کرے، حکومتی سازشوں کے باوجود ملک کوعدم استحکام شکار نہیں ہونے دیں گے، ملک میں فساد نہیں امن چاہتے ہیں لیکن پھر بھی کارکنان تیاری جاری رکھیں۔ انہوں نے واضح کہا کہ معاہدہ فیض آباد پر من و عن عمل اور مطالبات کی منظوری تک دھرنے سے اٹھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا البتہ حکومت نے معاہدہ فیض آباد پر من و عن عمل نہ کیا تواب دمادم مست قلندر ہو گا۔ اس موقع پر محمد رضوان یوسف، پیر اعجاز اشرفی، فاروق الحسن سعیدی، صاحبزادہ عثمان جلالی نے بھی خطاب کیا اور کہاکہ ڈیڈ لائن میں مزید توسیع کا حکومت سوچے بھی نہیں۔ علاوہ ازیں انجمن طلباء اسلام کے دو سابق صدور ڈاکٹر اظہر محمود، ڈاکٹر محمد رضوان یوسف اور سابق رہنما احمد وینس ایڈووکیٹ (ہائی کورٹ) دیگر درجنوں سابق عہدیداران اور رہنمائوں نے بڑے وفد کے ہمراہ تحریک لیبک پاکستان میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔