خالد مقبول کی فاروق ستار کو ایک ہفتے میں بہادر آباد آنے کی پیشکش

11 اپریل 2018

کراچی( خصوصی رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ایم کیوایم کے سابق کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار بھائی سمیت ان کی رابطہ کمیٹی ، عوامی نمائندوں ، ڈسٹرکٹ ، ٹائون ، یوسی ، یوسی سطح پر موجود ذمہ داران کو دعوت دی ہے کہ وہ اگلے ہفتے 16اپریل تک بہادرآباد واپس آجائیں ، اس پیشکش کی ایک مدت ہے اس کے بعد فاروق بھائی سمیت جو کارکن آئے گا وہ کارکن کی حیثیت سے آئے گا ، اس کے بعد بھی ہمارے دروازے نہ پہلے بند ہوئے تھے نہ اب ہوں گے اس مدت کے بعد جو آئے اس کی ذمہ داری کا تعین اس وقت کے حالات کے تحت کیاجائے گا ۔انہوں نے کہاکہ فاروق بھائی جو فرمائش کررہے ہیں اس کو پورا کرنا ہمارے اختیار میں نہیں ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کی دوپہر ایم کیوایم پاکستان کے عارضی مرکز بہادر آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان ، رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر کنو ر نوید جمیل ، رابطہ کمیٹی کے اراکین امین الحق ،فیصل سبزواری ، زاہد منصوری اور عارف خان ایڈووکیٹ بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ فاروق بھائی کا یہ مطالبہ کہ ایم کیوایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی معطل کردی جائے سمجھ سے بالاتر ہے لیکن ہماری مجبوری یہ ہے کہ ہمارے پاس اس بات کا اختیار نہیںہے کہ ایک فیس کیلئے پوری پارٹی کو ڈی فیس کردیں ایسا ممکن نہیں ہے ، ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ فاروق بھائی آئیں رابطہ کمیٹی منتظر ہے ، 5فروری کو جیسے رابطہ کمیٹی چل رہی تھی ہم آپ کے ساتھ ہیں چلانے کیلئے تیار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جتنے لوگ بشمول فاروق ستار بھائی سمیت ہیں ان کی عزت وقار میری اور رابطہ کمیٹی کی ذمہ داری ہے ، ان پر کسی طرح کی آنچ نہیں آئے گی اگر ایسا کیا گیا تو میں پہلے بھی کہ چکا ہو ں کے فاروق بھائی یا ان کے ساتھ جتنے بھی ذمہ داران آئیں گے ذاتی طور پر ذمہ داری لیتا ہوں کہ اگر زیادتی ہوئی تو میں ان کے ساتھ کھڑا ہوں گا ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی یہ پیشکش اور درخواست کرتی ہے کہ فاروق بھائی بہادرآباد آئیں ،میں سمجھتا ہوں کہ اس کنفیوژن اور مذکرات کے طویل دورانئے سے لگتا ہے کہ الیکشن سے پہلے ہمیں انگیج کیاجارہا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بے دست پا نہ کردیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ کوئی بھی ایم کیوایم چھوڑ کر جاتا ہے تو مجھے پتا ہے ہم لوگوں کی اوقات چار پانچ ووٹوں سے زیادہ کچھ نہیں اس لئے عوام اس حوالے مایوسی کا شکار نہ ہوں۔کامران ٹیسوری بھائی سے کوئی ذاتی پرخاش نہیں ، لیکن جس تنظیم کو تیس سال سے ہم لوگوں نے وقت دیا ، ہزاروں ساتھی شہید ، اسیر ہوئے ، آج بھی جیل بھرے ہوئے یہ وہ مسئلے فرائض ہیں جن کی طرف نظر ڈالنی ہے اور حل نکالنا ہے ۔ قبل ازیں ضلع شرقی کے دورے پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول نے کہا کہ ایم کیوایم اصول پرست جماعت اور شہیدوں اور اسیروں کی امانت ہے جس میں دراڑیں ڈالنے کی ہرسازش ناکام ہوگی ۔ ایم کیوایم کو تقسیم کرنے کیلئے سارے سیاسی گدھ باہر نکل آئے ہیں جنہیں اپنے اتحاد سے ماضی کی طرح ناکام بنانا ہے ۔ اس مو قع پر ذمہ دارن و کارکنان نے ایم کیوایم پر مکمل اعتماد کیا اور واشگاف نعرے لگائے ۔ جبکہ کنور جمیل نے کورنگی کے دورے پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم تر نوالہ نہیں جسے ہضم یاتقسیم کرکے مینڈیٹ کو تقسیم کردیا جائے ۔