نواز شریف ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کہنے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکیں، عبدالقدوس بزنجو

11 اپریل 2018

لاہور( این این آئی)وزیر اعلی بلوچستان عبد القدوس بزنجو نے کہا ہے کہ مجھے ووٹ دینے والوں کو دھمکایا گیا کہ جس نے ووٹ دیا ان کا کفن تیار ہے ، لوگوں نے جان کی پرواہ کئے بغیر مجھے ووٹ دیئے ، آج میں وزیر اعلی بن گیا ہوں تو لوگوں کو میرے ووٹ یاد آرہے ہیں،حکومت ہونے کی وجہ سے پنجاب میں لوگ (ن) لیگ کے ساتھ ہیں جوحکومت جاتے ہی انہیں چھوڑ دیں گے،نواز شریف ووٹ کی عزت کی
بات کرتے ہیں ،ان کو ووٹ ملتے تو ٹھیک ہمیں ملنے والے ووٹوں کی کوئی عزت نہیں،ہم چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے نواز شریف کے بیان کی مذمت کرتے ہیں ،نواز شریف خود کو بالاتر سمجھتے اور لوگوں کو عزت نہیں دیتے ،نواز شریف مجھے کیوں نکالا کہنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی خود نوشت ’’سچ تو یہ ہے‘‘ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے بلوچستان کے عوام کبھی عزت نہیں دی ،میرے والد نے مجھے کہا کہ نواز شریف امریکہ کا بھی صدر بن جائے اس کے ساتھ نہیں جانا۔انہوں نے مسلم لیگ (ن)سے مزید رہنمائوں کے چھوڑ کر جانے کی پیشگوئی کرتے ہوئے بتایا کہ نواز شریف نے کبھی اپنے لوگوں کی عزت نہیں کی لیکن ان لوگوں کو چھوڑ کر جانے کا موقع نہیں مل رہا تھا، ہم نے انہیں موقع فراہم کیا اور وہ اس سے مستفید ہورہے ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ کتاب میں میں نے جو لکھا ہے وہ قوم کی میرے پاس ایک امانت تھی ،قوم کے سپرد کرکے سرخرو ہوا ہوں، اس کتاب میں نصف صدی پر پھیلی ہوئی سیاست اور اس کے پیچھے حقائق کو قلمبند کیا ہے، اس کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ جو حقائق ہیں وہ قوم کے سامنے لانا مقصود تھے اور حالات و واقعات کو جوں کا توں اس میں درج کیا ہے ،اپنی طرف سے کوئی تبصرہ یا تجزیہ نہیں کیااگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معذرت چاہتا ہوں،میرے لئے قومی سلامتی سب سے پہلے ہے۔ شیخ رشید نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف اس وقت این آر او کی تلاش میں بیٹھے ہیں، 23 مارچ کوکوشش کی گئی این آر او ہوجائے مگر نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں نظام عدل بھی سست ہے فیصلے اتنی تاخیر سے آتے ہیں کہ نسلیں ہی تبدیل ہوچکی ہوتی ہیں، نیوز لیکس کی رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں لائی گئی جو ملک و قوم کے ساتھ غداری ہے، نئی نسل بغاوت کی جانب بڑھ رہی ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی لیڈر ہی نہیں رہا جس پر یقین کیا جاسکے۔