دوسری سرد جنگ ، چینی صدر کا خطاب

11 اپریل 2018

دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا میں دو بڑی طاقتیں امریکہ اور روس سامنے آئیں۔ 1947ءمیں ان دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان عالمی اثر ورسوخ بڑھانے کے لیے پہلی سرد جنگ کا آغاز ہوا۔ یہ سرد جنگ نظریاتی نوعیت کی تھی امریکہ دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کو آگے بڑھا رہا تھا جبکہ روس اسکے مقابلے میں کیمونزم پر مبنی سیاسی اور معاشی نظام کو فروغ دینے میں مصروف تھا۔ اس پہلی سرد جنگ کے دوران بھارت نے روس کا ساتھ دیا جبکہ پاکستان امریکہ کا اتحادی بنا رہا۔ امریکہ اور روس دونوں عسکری، دفاعی اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے کم و بیش مساوی طاقتیں تھیں۔ دونوں ایٹمی صلاحیت کی مالک تھیں ان کے پاس ایٹمی اسلحے کا ذخیرہ تھا لہذا دونوں طاقتیں براہِ راست جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی تھیں اس لیے وہ سفارت کاری کے ذریعے اپنے اپنے مفادات کو آگے بڑھاتی رہیں۔ پہلی سرد جنگ کا ڈراپ سین افغانستان میں ہوا جب امریکہ کی سرپرستی میں پاکستان سمیت دنیا کے مسلمان ملکوں نے دنیا کی دوسری بڑی طاقت روس کو شکست سے دوچار کردیا اور اُسے بے آبرو ہوکر افغانستان سے نکلنا پڑا۔ روس چونکہ معاشی طور پر کمزور ہوگیا اس لیے وہ اپنے سیاسی اور جغرافیائی استحکام کو بھی برقرار نہ رکھ سکا اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ البتہ روس کی قیادت نے ہمت نہ ہاری اور چند ہی دہائیوں میں ایک بار پھر معاشی طور پر مستحکم ہوگیا۔
کچھ عرصے سے دنیا اب دوسری سرد جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ روس اور چین دونوں امریکہ کے عالمی اثر و رسوخ کو چیلنج کررہے ہیں۔ اگرچہ امریکہ آج بھی معاشی اور عسکری لحاظ سے سپر پاور ہے مگر آج کی صورتحال یہ ہے کہ امریکہ اب دنیا کی واحد سپر پاور نہیں رہا بلکہ چین اور روس سمیت کچھ دیگر ملک بھی دنیا کی نئی طاقتیں بن کر اُبھر رہے ہیں۔ روس امریکہ کو یورپ اور مشرق وسطیٰ میں چیلنج کررہا ہے جبکہ اُسے مشرقی ایشیا میں چین کا سامنا ہے۔ جنوبی ایشیامیں روس اور چین دونوں مل کر امریکی عزائم کو چیلنج کررہے ہیں۔ امریکہ کے تھنک ٹینک اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ اب امریکہ کو القاعدہ یا آئی ایس آئی ایس کی دہشت گردی سے اتنا خطرہ نہیں ہے جتنا اُسے چین اور روس کی روز افزو ںبڑھتی ہوئی طاقت سے ہے۔ صدر ٹرمپ کے منصب سنبھالنے کے بعد دوسری سرد جنگ میں شدت آچکی ہے۔ حال ہی میں امریکہ اور روس نے اپنے اپنے ملکوں سے ایک دوسرے کے سفارتی عملے کو باہر نکالا ہے جس سے کشیدگی اور تناﺅ میں مزید اضافہ ہوچکا ہے۔ چین اور امریکہ دونوں کی عالمی پالیسی میں بنیادی فرق یہ ہے کہ چین عالمی امن کی خواہش رکھتا ہے تاکہ اُس کی مصنوعات کسی رکاوٹ کے بغیر دنیا کے تمام ملکوں میں پہنچتی رہیں اور وہ معاشی ترقی کا تسلسل قائم رکھ سکے جبکہ امریکہ کا بنیادی دارومدار اسلحہ کی فیکٹریوں پر ہے لہذا امریکہ اپنی سوچی سمجھتی پالیسی کے تحت دنیا کے مختلف ممالک میں تنازعات کو ہوا دیتا ہے، کشیدگی پیدا کرتا ہے تاکہ دنیا کے ممالک اپنے تحفظ اور دفاع کے لیے امریکہ سے جدید ٹیکنالوجی اور اسلحہ حاصل کرتے رہیں۔ حال ہی میں امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کو اربوں ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا ہے۔ جن کو اپنی سکیورٹی کے خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اپنی پالیسی کے تحت عالم اسلام کے مختلف ممالک میں کشیدگی اور تناﺅ بڑھانے کے لیے منصوبہ بندی کرتی ہے۔
امریکی پالیسی کے بارے میں کئی کتابیں لکھی جاچکی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ القاعدہ ، آئی ایس آئی ایس (داعش) اور طالبان خود امریکہ نے ہی پیدا کیے، ان کو ڈالر ، اسلحہ اور تربیت دی تاکہ وہ مذہب کے نام پر مسلمان ملکوں میں انتشار پیدا کریں اور اس طرح امریکہ کو کوئی ملک چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہ رہے اور اس کے عالمی مفادات محفوظ رہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ امریکہ اپنے علاقائی اور عالمی مفادات کے تحفظ اور بالادستی کے دفاع کے لیے ہر قدم اُٹھائے گا۔ امریکہ کا جھکاﺅ چونکہ واضح طور پر بھارت کی جانب ہوچکا ہے اس لیے پاکستان کے لیے لازم ہے کہ وہ نئے حالات کے مطابق اپنی قومی سلامتی کے لیے خارجہ پالیسی میں مثبت تبدیلیاں لے کر آئے۔ یہ امر قابل اطمینان ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمینٹ کو بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کا پورا ادراک ہے اور وہ امریکہ پر مکمل انحصار کرنے کی بجائے چین اور روس کے ساتھ اشتراک بڑھا رہی ہے۔ پاکستان کے نامور سفارت کار جناب اشرف جہانگیر قاضی نے جو امریکہ، بھارت اور چین میں سفیر رہ چکے ہیں‘ انتباہ کیا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی پیدا کرنے سے ہر ممکن گریز کرنا چاہیے اور تعلقات خوشگوار رکھنے چاہئیں۔
امریکہ کو چونکہ چین کے ون بیلٹ ون روڈ سی پیک اور گوادر پر اُس کے اثر ورسوخ کے بارے میں شدید تحفظات ہیں۔ درحقیقت امریکہ اب چین سے خوف بھی کھانے لگا ہے کہ اگر اُسے کسی رکاوٹ کے بغیر مزید 10سال مل گئے تو وہ دنیا کی نمبر ون طاقت بن سکتا ہے۔ لہذا امریکہ کی ہرممکن یہ کوشش ہوگی کہ وہ چین کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرے۔ ان حالات میں پاکستان کا اندرونی استحکام بے حد اہم ہوگیا ہے۔ آج قوم کو ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو نہ صرف عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو بلکہ سی پیک سے اُبھرنے والے نئے معاشی امکانات سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی بھی اہلیت رکھتی ہو۔ آج پاکستان کو بہترین سفارت کاری کی ضرورت ہے جس کے لیے لازم ہے کہ وزارت خارجہ کو ہر لحاظ سے پروفیشنل اور غیر سیاسی بنایا جائے تاکہ سفارتی ماہرین پاکستان کو لاحق قومی چیلنجوں کا مقابلہ کرسکیں۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت کو دوسری سرد جنگ کی حساسیت اور اس میں پاکستان کے ممکنہ کردار کے بارے میں ادراک ہی نہیں ہے۔سفارتی ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کو قومی سلامتی کے لیے ایک آزاد، خودمختار اور اہل تھنک ٹینک تشکیل دینا چاہیئے جو سیاسی مداخلت کے بغیر ایسی خارجہ پالیسی تشکیل دے سکے جس کے نتیجے میں پاکستان نہ صرف چیلنجوں کا مقابلہ کرسکے بلکہ وہ سیاسی و معاشی طور پر بھی مستحکم ملک بن جائے۔
چین چاہتا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک معاشی ترقی کریں، غربت اور افلاس کا خاتمہ ہو اور عالمی امن کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کیا جائے۔ چین کے صدر نے اپنے خطاب میں دنیا کے ممالک پر زور دیا ہے کہ کشیدگی، تناﺅ اور جنگیں پوری انسانیت کے لیے زہر قاتل ہیں لہٰذا آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ دنیا کے تمام ممالک عالمی امن اور مشترکہ ترقی کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ دنیا کے زمینی حقائق سے یہ واضح ہورہا ہے کہ چین کی پالیسی کامیابی سے ہمکنار ہورہی ہے۔ اُس کے عالمی اثر ورسوخ میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے جبکہ امریکہ کی پالیسی اب زوال پذیر ہورہی ہے اور وہ سخت دباﺅ میں ہے۔ جنگوں کی وجہ سے اُس کی ملکی معیشت انحطاط پذیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ دوسرے ملکوں پر دباﺅ ڈال کر اُنہیں زبردستی اسلحہ فروخت کرنے کی کوششیں کررہا ہے۔ دوسری سرد جنگ کے دور میں پاکستان کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کسی طور، کسی مہم جوئی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کو اندرونی استحکام اور اتحاد کی جتنی آج ضرورت ہے اتنی پہلے کبھی نہیں تھی۔ پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی باﺅ فورم میں پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں۔ اُمید ہے کہ وہ پاکستان کے قومی مفادات اور قومی سلامتی کی روشنی میں متوازن خطاب کریں گے۔پاکستان کے باشعور عوام اپنے عسکری، سیاسی ، مذہبی اور معاشی لیڈروں سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ دوسری سرد جنگ سے پیدا ہونے والے خطرات کے پیش نظر اپنا قومی کردار پورا کریں گے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...

عقدہ نئی سرد جنگ

اہل مغرب کو یہ بات پسند آئے یا نہ آئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ صدر ولادیمیر پوٹن ...