محبوبہ مفتی نے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کیلئے بھارتی قیادت کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے

11 اپریل 2018

نئی دہلی(اے این این ) مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے با لآخر بھارتی قیادت کے سامنے ہاتھ جوڑ کر امن کی بھیک مانگ لی ۔بھارت کی اعلیٰ قیادت سے ریاست سے ابھرنے والی درد بھری آوازوں کو سننے کی اپیل کرنے کے تین دن بعد وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ نئی دہلی میں ملاقات کی اور انہیں جموں وکشمیر کی مجموعی صورتحال کے بارے میں جانکاری دی۔میٹنگ کے دوران وزیر اعلی نے ریاستی نوجوانوں میں ناراضگی کے عنصر پر قابو پانے اور تشدد کے دور کے خاتمے کے لئے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کے عوام نے پچھلی تین دہائیوں کے دوران ناخوشگوار حالات کی وجہ سے کافی مشکلات جھیلے ہیں اور وہ غیر یقینیت اور خون خرابے کے بھنور سے باہر نکالنے کے لئے ملک کی سیاسی قیادت کے تعاون کے منتظر ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اس حوالے سے تمام متعلقین کے ساتھ پر امن مذاکرات شروع کرنے کے اپنے مطالبات کو دہراتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کو اعلیٰ سطح پر متواتر میٹنگوں کا انعقاد کرنا چاہیے ۔وزیراعلیٰ نے سرحدوں پر تنائو کی سطح کم کرنے کے لئے دونوں فوجی کمانڈورں کے درمیان رابطہ بنائے رکھنے کے تصور کی بھی وکالت کی اور کہا کہ سرحدوں پر کشیدگی کی وجہ سے ان علاقوں میں رہائشی پذیر لاکھوں کی تعداد میں لوگ متاثر ہوتے ہیں۔میٹنگ کے دوران محبوبہ مفتی نے ایل او سی پر مزید تاریخی راستوں کو کھولنے اور عوام سے عوام کا رابطہ بڑھانے کے لئے ایل او سی نقل و حمل کو اگلی اعلی سطح تک لے جانے کی بھی وکالت کی۔وزیراعلیٰ نے سرحد کے اس پار علوم کے ایک تاریخی مرکز شاردا پیٹ کو کھولنے کے ضمن میں کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ محبوبہ مفتی نے مرکزی وزیر دفاع نرملا سیتارمن کے ساتھ بھی ملاقات کی۔میٹنگ کے دوران وزیراعلیٰ نے حالات سے نمٹنے کے دوران انسانی وطیرہ اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہاکہ انسانی جانوں کے زیاں کی وجہ سے حکومت کی امن کی کوششوں کو زک پہنچتا ہے اور خصوصی مفاد رکھنے والے عناصر کو اپنے اغراض حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ وزیر اعلی اور مرکزی وزیر دفاع نے لوگوں کے دل اور دماغ جیتنے کے لئے حالات سے نمٹنے کے دوران ایک پیشہ ور وطیرہ اپنا نے پر اتفاق کیا۔میٹنگ کے دوران محبوبہ مفتی نے ریاست میں فوج کے زیر استعمال باغا ت ،عمارات اور دیگر جائیداد وں کا کرایہ بڑھانے کا معاملہ بھی اٹھایا۔