سچ تو یہ ہے

11 اپریل 2018

پاکستان کے سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی ”آٹو بائیو گرافی“ ”سچ تو یہ ہے“ کی تقریب رونمائی سے ایک رات پہلے مختلف ٹیلی ویژن چینلوں پر اسکے مندرجات آنے شروع ہوئے ایک ٹی وی چینل پر دو بھاری بھر کم اینکروں نے اس کتاب میں سچ ظاہر کرنے اور سچ چھپانے کی بات کرکے میری توجہ حاصل کر لی اور میں عام پاکستانیوں کی طرح اس سچ کو جسے چودھری شجاعت حسین نے بقول ان اینکروں کے چھپایا ہے جاننے کیلئے بے تاب تھا کہ واقعتاًجو سچ ظاہر کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کھوجی کچھ ایسا سچ سامنے لے کر آئیں گے جس کے ظاہر ہونے پر میرے ایسے عام شہری معلومات اور علم دونوں سے مالا مال ہو جائیں گے کیونکہ چودھری شجاعت حسین نے تو ہرگز ہرگز یہ تاثر نہیں دیا کہ وہ کوئی ”ویل انفارمڈ“ یعنی بہت زیادہ جاننے والے ہیں حالانکہ یہ بہت زیادہ جاننے کا ہمارے ہاں اتنا زیادہ کامپلیکس ہے کہ ہر شخص دوسرے پر برتری لے جانا چاہتا ہے اور یہ برتری لینے کیلئے زیادہ جاننے کی دوڑ ختم ہی نہیں ہو رہی۔ چودھری شجاعت حسین نے تو جہاں تک معلومات ان کو ملیں اس سے آگے نہ ملنے میں اپنی توہین نہیں سمجھی اور حیلے بہانے سے یہ تاثر دینے کی کوشش نہیں کی کہ اگرچہ مجھ سے بات چھپائی گئی تھی مگر میرے ذرائع نے مجھے بتا دی تھی ان کی اس سچائی اور سادہ لوحی کی مثال وزیراعظم پاکستان کی نامزدگی کے حوالے سے ان کا یہ سچ کیا کم ہے کہ انہوں نے سچ کو ہی بتایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ 1985ءکی قومی اسمبلی وجود میں آ چکی تھی اور وزارت عظمیٰ کیلئے مختلف نام لئے جا رہے تھے ایم آر ڈی کی وجہ سے سندھ میں جنرل ضیاءالحق کو کافی مشکلات کا سامنا تھا اس پس منظر میں یہ اندازہ تو تھا کہ وزیراعظم سندھ ہی سے ہوگا لیکن کون ہوگا یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔22مارچ سے ایک دن پہلے جب وزیراعظم کے نام کا اعلان کیا جانا تھا صدر ضیاءالحق نے ڈاکٹر بشارت الٰہی ، پرویزالٰہی اور مجھے بلایا اور کہا آپ لوگ جا کر الٰہی بخش سومرو صاحب کو بتا دیں کہ کل انہی کو وزیراعظم نامزد کیا جا رہا ہے ہم تینوں ایوان صدر سے نکل کر سندھ ہاﺅس پہنچے رات کا ایک بج رہا تھا الٰہی بخش سومرو صوفے پر نیم دراز تھے جب ہم نے ان کو یہ خوشخبری سنائی تو وہ انتہائی مسرور ہوئے اور خوشی میں ہمیں مٹھائی بھی کھلائی۔
اگلے روز صبح ایوان صدر پہنچے ہمارے علاوہ کسی کو بھی علم نہ تھا کہ وزارت عظمیٰ کا ہما کس کے سر پر بیٹھ رہا ہے۔ الٰہی بخش سومرو مطمئن نظر آ رہے تھے لیکن جیسے ہی ضیاءالحق نے خطاب کے دوران اپنے مخصوص انداز میں ہاتھ ملتے ہوئے کہا کہ میں موجودہ حالات میں محمد خاں جونیجو کو وزیراعظم نامزد کرتا ہوں تو وہاں موجود سب لوگ ششدر رہ گئے۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ اس وقت تقریب میں موجود شاید ہی کسی شخص کو یہ علم تھا کہ محمد خاں جونیجو کو وزیراعظم بنایا جا رہا ہے۔
یہی سچ تھا ،یہی بیان ہوا اس میں نہ یہ ڈرامہ کیا گیا کہ مجھے ضیاءالحق نے تقریب سے پہلے کان میں بتا دیا تھا کہ رات والا فیصلہ بدل گیا ہے یا میرے ذرائع نے اس دباﺅ کے بارے میں مجھے اطلاع دے دی تھی کہ سومرو وزیراعظم نہیں بن رہے۔ وغیرہ وغیرہ نہ کوئی کریڈٹ لینے کی کوشش نہ اس تبدیلی کا کھوج لگانے کی فکر اور نہ ہی ضیاءالحق پر بداعتمادی کرنے کی بات اور نہ اس پر الزام کہ ہمیںخواہ مخواہ سومرو صاحب کے سامنے ایمبریس کیا ہے، نہ تبصرہ، نہ شکوہ، نہ گلہ اور نہ غصہ اس طرح محمد خاں جونیجو کو ہٹائے جانے ولا سر پرائز بھی اسی طرح بیان کیا اس سے اگرچہ جونیجو صاحب کی عظمت ظاہر ہوتی ہے مگر چودھری شجاعت حسین نے اپنے حوالے سے اس پر تبصرہ نہیں کیا۔ انہوں نے واقعہ اس طرح بیان کردیا ہے جس طرح یہ واقعہ ہوا۔ چودھری شجاعت حسین لکھتے ہیں کہ وزیراعظم جونیجو فلپائن اور کوریا کا کامیاب دورہ کرکے واپس آئے میں ان کے ساتھ تھا ایئرپورٹ پر اتنے اخبار نویس نہیں تھے جتنی توقع تھی، پتہ چلا کہ اس وقت ایوان صدر میں پریس کانفرنس ہو رہی ہے۔ میں گھر پہنچا، وزیراعظم کا فون آ گیا کہ فوراً ان کی طرف آ جاﺅ میں ریڈیو پر ان کی برطرفی کی خبر سن چکا تھا۔ اسلام آباد میں ایک افراتفری نظر آ رہی تھی۔ وزیراعظم ہاﺅس پہنچا محمد خاں جونیجو لان میں پرسکون انداز میں بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھ کر کہا خبر تو آپ نے سن لی ہو گی میں نے کہا جی ہاں ریڈیو پر ابھی سنی ہے۔ کہنے لگے مجھے جنرل ضیاءالحق نے آج شام ایوان صدر میں بلایا ہے۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے۔ میں نے کہا آپ کو جانا چاہئے، کہنے لگے میرا بھی یہی خیال ہے شام کو اسی نارمل انداز میں صدر سے ملنے چلے گئے۔ صدر ضیاءالحق نے محمد خاں جونیجو سے کہا آپ جب تک چاہیں وزیراعظم ہاﺅس میں رہیں جب جانا چاہیں سرکاری جہاز استعمال کر سکتے ہیں۔ اپنا عملہ بھی ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ محمد خاں جونیجو نے شکریہ کے ساتھ ان کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کردیا یہ بھی صرف واقعہ بیان کیا اپنی طرف سے کچھ نہ کہا، کچھ نہ لکھا۔
اینکروں نے وہ سچ جو بقول ان کے چھپایا گیا تھا وہ تو نہ بتایا البتہ وہ اس بہت ہی سمارٹ سکول ٹیچر کی طرح سچ کو شاید اس طرح سمجھ رہے تھے۔ امریکن سکول ٹیچر کنڈر گارٹن کی کلاس میں تھی ایک بچی اپنا سر ڈیسک پر رکھ کر بہت اداس نظر آ رہی تھی ٹیچر نے فوراً نوٹس لیا، بچی کا نام لیکر پوچھا تم پریشان کیوں ہو، چار پانچ سال کی یہ بچی بہت ہی رونے والی شکل بنا کر بولی۔ میم میری والدہ ہسپتال میں ہے اور باپ پولیس سٹیشن میں‘ ٹیچر کو اس جواب کی ہرگز توقع نہ تھی وہ بہت ہی پریشان ہو گئی، کہنے لگی سوری سوری اور بڑی ہمدردی سے اس کے پاس گئی آپ کیا چاہتی ہیں۔ بچی بولی میں اپنے گھر جانا چاہتی ہوں۔ ٹیچر بہت ہی جذباتی ہو چکی تھی بولی میں اجازت دیتی ہوں آپ ابھی چلی جائیں میں ابھی آپ کو گھر جانے کی اجازت دیتی ہوں بچی نے اپنا سکول بیگ پکڑا بھاگ کر کمرے سے نکلی اس دوران ایک مرد کلاس روم میں داخل ہوا۔ ٹیچر سے پوچھا کیا معاملہ ہے، ٹیچر کہنے لگی اس بچی کی ماں ہسپتال میں ہے اور باپ تھانے میں، اس نے گھر جانا تھا میں نے اسے اجازت دے دی ہے وہ شخص سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ میم اس بچی کو روکیں اس کی ماں ہسپتال میں نرس ہے اور باپ تھانے میں پولیس میں ملازم ہے۔ ٹیچر اپنی ننھی سی سٹوڈنٹ کے پیچھے بھاگی اس کا نام لیکر پکارا، رکو رکو بچی بھاگتی رہی اور بولتی رہی میم آپ مجھے اجازت دے چکی ہیں۔ گھر جانے کی اجازت.... میں سوچ رہا تھا ہمارے اینکر شاید اس طرح کے سچ سے آگاہ نہیں جو اس بچی نے بولا اپنا الو سیدھا کیا بہت ہی سمارٹ ٹیچر کو چکرا دیا مگر سچ بولا ٹیچر نے سچ سنا اپنے تجربے کی روشنی میں اس کا تجزیہ کیا اور بہت ہی چھوٹی سی بچی سے مار کھا گئی۔
چنانچہ چودھری شجاعت حسین کا سچ تو یہ ہے ممکن ہے، بعض لوگ اس ٹیچر کی طرح سمجھنے میں دھوکہ کھا جائیں مگر ہے وہ سچ۔ اسی لئے اس کتاب کی پذیرائی کا اندازہ اس بات سے کریں کہ جس نے اسے پڑھنا شروع کیا ختم کرکے دم لیا۔ کتاب کا انتساب اپنی پذیرائی کے اعتبار سے اس ”سچ تو یہ ہے“ کا سر نامہ ہے۔ یہ سچ تلخ ہے تو بھی دلچسپ ہے اور میٹھا ہے تو بھی مزیدار ہے۔