خود مختاری

11 اپریل 2018

ملک کی اقتصادی پالیسی کی تشکیل میں ہر سطح پر قومی خودمختاری جیسے بنیادی جزو کو ملحوظِ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ ساتھ ہی عالمی بنک اور عالمی مالیاتی اداروں کے کردار کو بھی ملکی اقتصادی پس منظر میں اس طرح ایڈجسٹ کیا جائے کہ سماجی و اقتصادی خودمختاری اور خود انحصاری جیسے اہم مقاصد حاصل کئے جاسکیں۔ آج تک غیر ملکی امداد اور قرضہ جات کی فراہمی کی وجہ سے ہم اقتصادی خودمختاری سے محروم ہیں۔ لہٰذا ضرورت ہے کہ پارلیمانی جمہوریت اور مقامی وسائل پر ہی انحصار کیا جائے۔ تب ہی پائیدار اقتصادی ترقی کا سنگ میل عبور کیا جاسکتا ہے۔اگر جائزہ لیا جائے کہ پاکستان کا غیر ملکی امداد اور قرضہ جات پر کیوں انحصار ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ملک کا ریونیو ضرورت سے بے انتہا کم ہے۔ اسکی وجہ ٹیکس کم مائیگی ہے جو نہایت عروج پر ہے۔ سیلز ٹیکس اور ایکسائز کی کم مائیگی بھی کچھ کم نہیں۔ علاوہ ازیں برآمدات کو بھی اوور انوائس کر کے یعنی اصل قیمت سے زیادہ کا بل بنا کر برآمدی ٹیکس میں چھوٹ حاصل کی جاتی ہے۔ یقینا یہ سب کچھ محکمہ ٹیکس کے افسران کی ناک تلے ہوتا ہے جو یقیناً ان کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لئے جائز ٹیکس دہندہ کی نظر میں ان افسران کی نہ تو عزت ہے اور نہ ہی انہیں یہ اعتماد کہ ٹیکس کہاں استعمال کیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف پاکستانی قوم رفاہی کاموں کے لئے چندہ دینے میں تو پیش پیش ہے۔ مگر حیرانی کی بات ہے کہ یہ ٹیکس دینے میں بہت پیچھے ہیں۔ یہ صورتِ حال حکومت کے لئے چیلنج ہے جس سے نبرد آزما ہونا ضروری ہے۔ حکومت اور ٹیکس دہندگان کے مابین اعتماد کا فقدان ہے جسے دور کیا جانا چاہئے تاکہ ٹیکس دہندگان پوری ذمہ داری سے واجب الادا ٹیکس ادا کریں اور انہیں اطمینان ہو کہ ان کی ادا کی ہوئی رقم ملکی بہبود اور اقتصادی خود انحصاری پر خرچ کی جائیگی! پس اس مسئلے کا حل ہے کہ معیشت کو مکمل طور پر دستاویزی کر دیا جائے یعنی ہر لین دین کا ریکارڈ رکھا جائے جو ابھی نہیں ہوا۔ ایف بی آر کی ایک رپورٹ کے مطابق ملکی معیشت میں 79 فیصد لین دین ایسا ہے جو کہیں ریکارڈ نہیں ہوتا۔ لہٰذا محض 21فیصد لین دین پر ہی ٹیکس ادا کیا جاتا ہے جو محض 2ٹریلین روپے بنتا ہے۔ اگر بقیہ 79فیصد پر جو غیر ریکارڈ شدہ یا خفیہ حجم ہے، ٹیکس ادا کیا جائے تو حکومت کو تقریباً 8 ٹریلین روپے اضافی وصول ہوں گے۔
یہ رقم اتنی ہے کہ کسی غیر ملکی امداد یا قرضے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ لہٰذا کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کے شعبہ جات میں انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ مثلاً مضبوط انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے، افسروں کی معقول تنخواہیں اور ایماندار افسروں کے لئے انعامات جیسے اقدامات کئے جائیں تاکہ یہ لوگ نادہندگان سے مل کر ساز باز نہ کریں اور ملک میں کاروبار کے حوالے سے جائز مسابقت کا ماحول پیدا ہو اور ملکی ریونیو میں اضافہ!
مزید یہ کہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری بھی عنقا ہے۔ بلکہ مقامی سرمایہ کار بھی ملک کے اندر سرمایہ کاری سے گریزاں ہے کیونکہ اسے کوئی تحفظ حاصل نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جیسے ہی وہ سرمایہ کاری کرتا ہے اسے ایک آزاد درآمدی پالیسی کا سامنا ہوتا ہے جہاں انڈر انوائسنگ ایک معمول ہے۔ نتیجتاً اس کی مصنوعات تقابلی حیثیت نہیں رکھ پاتیں۔ علاوہ ازیں ناقص لا اینڈ آرڈر ، حکومت یا وزراءکی تبدیلی کی وجہ سے پالیسیوں میں یکدم تبدیلی جیسے معاملات سے بھی سرمایہ کار سرمایہ کاری سے احتراز کرتا ہے ۔ اس کے برعکس پڑوسی ملک بھارت میںکوئی بھی ایسی مصنوعات درآمد کر نے کی اجازت نہیں جو ملک میں تیار کی جاتی ہوں۔ یہ تحفظ سرمایہ کار کو تجارتی اور غیر تجارتی رکاوٹوں مثلاً امیشن کنٹرول اسٹینڈرڈ بعنوان ” بھارت I“ اور ” بھارت II“ کے ذریعے حاصل ہے۔ ادھر ملائیشیا ایک قدم اور آگے بڑھ گیا اور غیر ملکی امداد و قرضہ جات کی وصولی سے انکار کر دیا ۔ نتیجہ یہ ہے کہ ملائیشیا کی معیشت آج مضبوط تر ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے وہاں رغبت ہے۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ سرمایہ کاری، پیداوار ، پیداواریت اور برآمدات ہی خوشحالی کی ضامن ہیں۔ انہی سے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور زرِ مبادلہ کی آمدن میں اضافہ!
حکومت کے تین اہم ستونوں یعنی پارلیمنٹ، ایگزیکٹو اور عدلیہ کے اختیارات میں واضح حدبندی کی ضرورت ہے۔ پارلیمنٹ صرف قانون سازی تک محدود رہے، ایگزیکٹو کا کام محض پالیسی سازی اور روزگار مہیا کرنا ہو جبکہ عدلیہ عدالتی نظام کو مضبوط اور مﺅثر بنائے۔ یہ سب سیاستدانوں کے ما تحت ہیں۔ ملک میں ایسا قانون موجود ہے اور ماضی میں اس پر عمل درآمد بھی ہوتا رہا ہے کہ اگر کسی محکمے کے سیکرٹری کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے حوالے سے متعلقہ وزیر سے کوئی اختلاف ہے تو اس معاملے کو وزیرِاعظم کے علم میں لایا جائے جو اس پر بے لاگ اور صحیح فیصلہ دے۔ یہ عمل جاری رہنا چاہیئے۔ اس سے نہ صرف معیشت مضبوط ہوگی بلکہ ملک بھی خوشحال ہوگا۔ اگر تمام پالیسی ساز ، علم و ہنر سے متعلق افراد اور دیگر ارباب اختیار مندرجہ بالا اقدام پر عمل درآمد میں اہم کردار ادا کریں تو اپنے ترقی پذیر ملک کو مزید خوشحال اور خودمختار بنا سکتے ہیں۔ اسی میں اقتصادی بقا اور ملکی سا لمیت پنہاں ہے: جوئندہ یابندہ!