ملک کے ہر مسئلہ کا حل موجود، حکمران صلاحیت سے محروم ہیں: سراج الحق

11 اپریل 2018

مہمند ایجنسی(نامہ نگار/صباح نیوز)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ مرکزی حکومت قبائلی عوام کو اپنے حقوق دے ۔اگر حکومت نے قبائلی عوام کو انکے جائز حقوق نہ دیئے تو پھر اسلام آباد اور پشاور کے محاصرے اور دھرنے دیئے جاسکتے ہیں ۔قبائلی عوام کے حقوق کیلئے ان کی جدوجہد میں پہلی صف میں ہونگا۔پاکستان کے ہر مسئلے کا حل موجود ہے لیکن حکمران مسائل کے حل کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ہمارے حکمرانوں کے پاس کوئی وژن نہیں ۔حکمرانوں نے پاکستان کے جغرافیہ کوبھی تقسیم کیااور اس وجہ سے ملک کے مستقبل کو خطرات درپیش ہیں۔اسلام آباد میں امریکی فوجی نے دو نوجوانوں کو کچل کرایک کو شہید کیا اور دوسرے کو زخمی لیکن اسکے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔کہتے ہیں کہ انہیں استثناء حاصل ہے۔شہریوں کو قتل کرنے والوں کیلئے کوئی استثناء نہیں۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ امریکی فوجی کے خلاف درج ایف آئی آر کو منظر عام پر لایا جائے ۔پوچھناچاہتا ہوں کہ اب تک جوزف کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا ۔ہمارے حکمرانوں نے ملک و قوم کو رسوا کردیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مہمند ایجنسی نحقی غازی بیگ میں ایک بڑے شمولیتی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جلسہ عام میں مہمند ایجنسی کے معروف سماجی وسیاسی شخصیت ملک معمبر سمیت درجنوں عمائدین نے اپنے خاندانوں اور ساتھیوں سمیت جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کیا ۔قبل ازیں امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کایکہ غنڈ ۔ڈنڈ۔اور غلنئی سمیت مختلف مقامات پر قبائلی نوجوانوں نے پرتپاک استقبال کیا اور انہیں ایک بڑے جلوس کی شکل میں جلسہ گاہ لایا گیا۔جلسہ عام سے امیر جماعت اسلامی سینیٹر مشتاق احمد خان ۔جے آئی یوتھ پاکستان کے صدر زبیرگوندل۔امیرجماعت اسلامی فاٹا سردار خان اور مہمند ایجنسی کے امیر ملک سعید خان نے بھی خطاب کیا ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں نے ملکی معیشت کو تباہی سے دوچار کیا اور ملک کو دیوالیہ بنا دیا۔روپیہ کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو ملک و قوم سے کوئی سروکار نہیں ۔انہیں عوامی مسائل کے حل سے نہ دلچسپی ہے نہ وہ حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ہمارے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج نوجوان مایوس ہے انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کامطالبہ ایف سی آر کا خاتمہ ۔تعلیم اور روزگار وصحت جیسے سہولیات کی فراہمی ہے ۔قبائلی عوام امن چاہتے ہیں اور این ایف سی میں اپنا حق مانگ رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہزاروں قبائلی عوام کے شناختی کارڈ نادرا نے بلاک کئے ہیں شناختی کارڈ کسی بھی شہری کا حق ہے لیکن گذشتہ کئی سال سے قبائلی عوام اپنے قانونی حق سے محروم ہیں انہوں نے کہا کہ میں حکمرانوں کو آگاہ کرناچاہتاہوں کہ قبائلی عوام کو اپنے حقوق دیں انکے بلاک شناختی کارڈبحال کردے ورنہ پھر قبائلی عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد میں میں انکی قیادت کرونگاانہوں نے کہا کہ اگر قبائلی عوام کے مطالبات حل نہ ہوئے تو پھر پشاور اور اسلام آباد کے محاصرے بھی ہوسکتے ہیںاور دھرنے بھی دے سکتے ہیں ۔پھر کوئی بھی ہمارا راستہ نہ روک پائیگا۔انہوں نے وزیراعظم سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ سنجیدگی سے قبائلی عوام کو سنیں۔قبائلی عوام جو چاہتے ہیں انہیں وہ حقوق دئے جائیں یہ قبائل پرامن اور محب وطن پاکستانی ہیں قبائلی عوام کو دہشت گردکہنا ۔شک کی نگاہ سے دیکھنا انکو بدنام کرنا یہ دشمن کا ایجنڈا ہے اور یہ پاکستان کا ایجنڈا نہیں ہوسکتا انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کی تاریخ ہے کہ انہوں نے پاکستان کی سالمیت و بقاء کیلئے جو جدوجہد کی ہے وہ کسی اور نے نہیں کی۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ عوام اب جاگ گئے ہیں اور جھنڈے اور پارٹیاں بدلنے اور قومی خزانے کولوٹنے والے چہروں کوپہچان چکے ہیں اب عوام ان لٹیروں کو آنے والے انتخابات میں نشان عبرت بنائینگے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بہت جلد یہ لٹیرے جیلوں میں ہونگے اور ان سے ایک ایک پائی کا حساب لینگے۔

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...