مری، زرعی زمین پر تعمیرات، قانون کیمطابق جائزہ لیں گے، سپریم کورٹ

11 اپریل 2018

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ آف پاکستان نے مری میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں زرعی زمین پر تعمیرات سے متعلق ’’قوانین‘‘ طلب کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یہ زرعی زمین پر تعمیرات کا معاملہ ہے جس کا قانون کے مطابق جائزہ لیا جائے گا، جبکہ کیس کی مزید سماعت آج بدھ تک ملتوی کردی ہے ۔جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس مقبول باقر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی سماعت کی تو نجی ہائوسنگ سوسائیٹی کے وکیل اعتزاز احسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ذاتی زمین کا مرضی کے مطابق استعمال زمین کے مالک کا بنیادی حق ہے،قانون کے مطابق کسی کی ذاتی زمین سے متعلق حکومت کوئی نوٹیفیکیشن بھی جاری نہیں کر سکتی، جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق زرعی زمین کی خریداری کی صورت میں زمین کا وہی استعمال کرنا ہوگا جو ماضی میں ہوا،زرعی ذمین خریدنے والے زمین کو زرعی مقاصد کے لئے ہی استعمال کرتے ہیں، بیرسٹر اعتزاز احسن نے عدالت سے استدعا کی کہ تعمیرات کی اجازت دی جائے ،جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل خان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ زرعی زمین پر تعمیرات سے متعلق قانون بتائیں،یہ شاملات کی زرعی زمین پر تعمیرات کا معاملہ ہے، قانون کے مطابق جائزہ لیں گے۔ عدالت نے کیس کی سماعت آج بدھ تک ملتوی کردی ہے۔