نادرا اسلام آباد کے مختلف دفاتر سے جاری 599 شناختی کارڈ مشکوک فرار

11 اپریل 2018

اسلام آباد( وقائع نگار خصوصی) نادرا نے وفاقی دارالحکومت میں بنائے گئے599شناختی کارڈ کومشکوک قرار دے کر ان افراد سے15 ایام میںمکمل دستاویزات طلب کر لی ہیں، مکمل دستاویزات فراہم نہ کرنے والے کا شناختی کارڈ بلاک اور قانونی کارروائی کی جائے گی، مشکوک شناختی کارڈ پر موجودہ اور مستقل پتہ ایک ہی درج ہے،تمام مشکوک شناختی کارڈ نادرا کے اسلام آباد دفاتر سے جاری کئے گئے ہیں،نادر کوشک ہے کہ مشکوک قرار دیے گئے شناختی کارڈ کے حامل افراد نے جعلسازی کے ذریعے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کئے ہیںجبکہ یہ افراد پاکستانی شہری نہیں ہیں۔تفصیلات کے مطابق نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اٹھارٹی (ناردا) نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نادرا کے مختلف دفاتر سے بنائے گئے 599شناختی کارڈ کو مشکوک قرار دے کر ان مشکوک شناختی کارڈ کی لسٹ اپنے ویب سائیٹ پر جاری کردی ہے جس میں کہاگیاہے کہ جن کے نام لسٹ میں موجود ہیں وہ 15دن کے اندار نادرا کے علاقائی دفاتر کے اند رجاکر اپنی مکمل معلومات نادار آفس میں جمع کروائیں اگر کو ئی 15دن کے اندراپنی مکمل معلومات درج نہیں کرتا تو نادار یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے شناختی کارڈ کو بلاک کردے گا۔ مشکوک شناختی کارڈ بنانے والوںکے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مشکوک قراردئے گئے شناختی کارڈ میں موجودہ اور مستقل کے خانوں میں صر ف ایک ہی پتہ درج ہے جو کہ اسلام آبادکا ہے۔ دستاویزات کے مطابق تمام مشکوک قرار دئے گئے شناختی کارڈ پر اسلام آباد کے مضافات کے پتے درج ہیں مشکوک قرار دیئے گئے شناختی کارڈ کے نادرا کے پاس سابقہ ریکارڈ موجود نہیں ہے کہ یہ لوگ کس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں یہ پاکستانی ہیں یاکسی دوسرے ملک کے شہری ہیں ۔نادر کوشک ہے کہ مشکوک قرار دیے گئے شناختی کارڈ کے حامل افراد نے جعلسازی کے ذریعے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کئے ہیںجبکہ یہ افراد پاکستانی شہری نہیں ہیں ۔سب سے زیادہ مشکوک شناختی کارڈ گولڑہ شریف ،فراش ٹاؤن ،علی پورفراش،ترنول ،سنگ جانی ،بہار ہ کہو،پھلگراں،جھنگی سیداں،ترلائی،سرائے خربوزہ ومضافات کے دیگر علاقے شامل ہیں ۔