شام کی خانہ جنگی عالمی طاقتوں کے تصادم کا خطرہ

11 اپریل 2018

شام کے شہر حمص کے فوجی اڈے پر اسرائیل کے میزائل کے حملے کے نتیجے میں 4 ایرانی فوجی مشیروں سمیت 16 ہلاک اور 36 زخمی ہو گئے۔ شامی افواج کے مطابق حمص کے فضائی اڈے سے داغے گئے8 میزائلوں میںسے 5 راستے میں ہی تباہ کر دیئے گئے۔ دوسری طرف شام کے دوما شہر پر شامی فوج کے کیمیائی حملے کی دنیا بھر میں مذمت جاری ہے جس میں ایک سو شہری جاں بحق اور ایک ہزار زخمی ہوئے تھے۔ اس مسئلے پر سلامتی کونسل کے دو الگ الگ ہنگامی اجلاس ہوئے۔ ایک اجلاس کی درخواست امریکہ اور دوسرے کی روس نے کی تھی۔ زہریلی گیس کے حملے کا اسرائیل پر الزام لگایا ہے۔ دریں اثنا وائٹ ہاﺅس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اور روس کی مدد کے بغیر شام کیمیائی حملے نہیں کر سکتا۔
تیونس میں 18 دسمبر 2010ءکو پولیس کی فائرنگ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ مگر محنت کش نوجوان شہید ہوگیا۔ یہ واقعہ عرب بہاریا انقلابی لہر کی ابتدا بن گیا۔ تیونس میں عرب بہار کی کامیابی نے دوسرے عرب ملکوں لیبیا‘ مصر‘ یمن‘ اور عراق کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جہاں کے عوام آمریتوں کے ستائے ہوئے تھے اور نجات کی راہ کی تلاش میں تھے۔ اوائل مارچ 2011ءمیں عرب بہار شام میں داخل ہوئی۔ شام میں اسد خاندان کی کئی دہائیوں سے حکمرانی چلی آرہی تھی ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے بڑے حصے پر انقلابیوں کا قبضہ ہو گیا۔ دمشق کا سقوط ہونے والا ہی تھا کہ ایران اور لبنان سے شیعہ ملیشیا کی کمک حافظ اسد کے بیٹے بشارالاسد کے اقتدار کے ڈولتے سنگھاسن کو بچانے کیلئے پہنچ گئی۔ روس اور دیگر ایک دو ملکوں کے شام میں گہرے صنعتی و تجارتی مفاد خطرے میں پڑے تو وہ بھی کود پڑے۔ اب تک اس خانہ جنگی میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب شامی ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ ترکی اور دیگر ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ شام ایسا خوبصورت ملک اور اس کے تاریخی شہر حما‘ حمص‘ حلب اور بعلبک کھنڈر میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ دو تین دن پہلے دوما کے شہریوں پر شامی فوج کے گیس کے حملے کے بعد بین الاقوامی ردعمل نے مسئلے کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ اگر فریقین نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور سلامتی کونسل نے کوئی کردار ادا نہ کیا تو امریکہ کو بھی مداخلت کا بہانہ مل جائے گا۔ چونکہ روس پہلے ہی شام میں موجود ہے‘ اگر امریکہ نے بھی کوئی کارروائی کی تو عالمی طاقتوں کے تصادم کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ ایسی صورت میں پوری دنیا لپیٹ میں آسکتی ہے اور اس سے جو تباہی مچے گی‘ اُس کا تصور بھی لرزا دیتا ہے۔