متفقہ آئین کی منظوری کا دن

11 اپریل 2018

دستور ساز اسمبلی نے 10 اپریل 1973 ءکو متفقہ آئین کی منظوری دی جسے 2 روز بعد صدر کے دستخطوں کی منظور ی کے بعد 14 اگست 1973 کو نافذ کر دیا گیا۔ سابق سینٹ چیئرمین رضا ربانی نے گزشتہ سال دس اور 12 اپریل کو یوم دستور کے طور پر منانے کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد آئین کے بانیوں اور گمنام ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔
آئین کے نفاذ کے ساتھ ہی 14 اگست 1947 کو ملنے والی آزادی کے مقاصد کی تکمیل کی راہ ہموار ہوگئی۔ آئین کو بالادستی حاصل ہے، ملک کے تمام ادارے آئین کی طے کردہ حدود و قیود کے تحت کام کرنے کے پابند ہیں۔ آئین ہر شہری کو اس کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ آزادی کے بعد 26 سال تک وطن عزیز ” سرزمین بے آئین“ رہی۔ بے آئینی نے لاقانونیت کی فضا قائم کر دی تھی ، شہریوں کے حقوق کی اس طرح پامالی ہو رہی تھی کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہم آزاد نہیں ہوئے بلکہ انگریز کے غلام ہیں۔ بدقسمتی سے حکمران طبقہ بار بار آئین کو پامال کرتا رہا، بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت اور اظہار رائے کی آئین میں دی گئی آزادی کو کبھی مارشل لاءکے نام پر اور کبھی ایمرجنسی لگا کر سلب کیا جاتا رہا۔ ایک عرصہ تک عوام کی منتخب حکومتوں کو آئینی میعاد ہی پوری نہ کرنے دی گئی۔ بعض اوقات بعض اداروں کی طرف سے بھی آئین کے تقدس کا لحاظ نہ رکھا گیا۔ جس کی وجہ سے ملک کی ترقی وخوشحالی کا سفر متاثر ہوتا رہا، بدقسمتی سے جب بھی آمریت آئی اس کی وجہ یہی بنتی رہی کہ منتخب حکمران آئین کیمطابق کاروبار ، مملکت چلانے میں ناکام رہے۔ آئین کی موجودگی میں اگر عام انتخابات پر غیر منصفانہ ہونے کی تہمت لگتی رہے، سیاسی حکومتیں عدم استحکام سے دو چار کی جاتی رہیں تو اس طرح ایسی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں کہ جن کا مداوا عشروں میں جا کر ہی ممکن ہوتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ جمہوریت آئین اور عوام کی بالادستی کے دعوے کرنے والے بھی حقیقی جمہوری مزاج کا مظاہرہ نہ کر سکے۔ آئین اور پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے اختلافات کو سڑکوں پر یا طاقت کے بل پرطے کرنے کی کوششوں کے مظاہر اکثر دیکھنے میں آ رہے ہیں ، ہمیں آزادی ، آئین اور جمہوریت کی قدر کرنی چاہیے۔ دنیا میں کوئی ایسا ترقی یافتہ ملک نہیں جس نے ان ساری نعمتوں یا کسی ایک کو نظر انداز کرکے ترقی ہو۔