سندھ اسمبلی میں آبی قلت کیخلاف متفقہ قرارداد

11 اپریل 2018

پانی کی قلت‘ سندھ اسمبلی کی وفاقی حکومت کے خلاف متفقہ قرارداد پیش۔ سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ دریائے سندھ میں پانی کی کمی سے 22 لاکھ ایکڑ زمین سمندر برد ہو گئی۔ ارسا پر تنقید۔ متحدہ کالاباغ ڈیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ پی پی ارکان۔
اس وقت پورے ملک کو آبی قلت کا سامنا ہے۔ سندھ اسمبلی اس مسئلہ کو لیکر وفاقی حکومت کو نشانہ بنا رہی ہے۔ پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا واقعی مرکز سندھ کے حصے کا پانی ضائع کر رہا ہے یا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے یہ پانی ضائع ہوا ہے۔ ارسا بھی اپنے پر ہونے والی تنقید کا خود جواب دے سکتی ہے۔ اس سارے شورشرابا اور الزام تراشی کی نوبت اس لئے آئی ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے پانی کے ذخائر کی تعمیر میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ منگلا اور تربیلا کے بعد کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی باری آئی تو مفادپرست صوبائی و قوم پرست عناصر نے اس کے خلاف طوفان کھڑا کر دیا جس کی وجہ سے کسی اور ڈیم کی تعمیر سے بھی ہاتھ کھینچ لیا گیاحالانکہ یہ ڈیم ملکی ترقی و خوشحالی کے ساتھ آبی قلت کے خاتمے اور توانائی کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ آنے والے وقت میں عالمی ماہرین بھی وارننگ دے چکے ہیں کہ پاکستان شدید آبی قلت کے شکار ممالک میں شامل ہو جائے گا۔ اس صورتحال سے بچنے کیلئے ہمیں ملک بھر میں ڈیم بنانا ہونگے۔ پانی کی کمی کا مسئلہ چھوٹے بڑے بے شمار ڈیموں کی تعمیر سے ہی دور ہو سکتا ہے۔ کابالاغ ڈیم کو متنازعہ بنانے میں بڑا ہاتھ خود سندھ اسمبلی والوں کا ہے جنہیں آج سب سے زیادہ آبی قلت کا سامنا ہے۔ صرف یہی نہیں‘ ان کی لاکھوں ایکڑ قیمتی اراضی بھی سمندر برد ہو رہی ہے مگر انہیں ہوش نہیں آرہا اور وہ الزام مرکز اور ارسا پر لگا رہے ہیں۔ اگر کالاباغ ڈیم بن چکا ہے‘ دوسرے ڈیم بھی بنائے گئے ہوتے تو یہ نوبت نہ آتی۔ رہی سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کی اپیل تو وہ پہلے ہی پانی کی قلت اور توانائی کے بحران کے خاتمے کیلئے کالاباغ ڈیم بنانے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ کیا سندھ اسمبلی آبی قلت دور کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش دلی سے قبول کر لے گی یا اس پر بھی وہی پرانی سیاسی دکانداری چمکانے کی روش اپنائے گی۔