مجید نظامی صاحب کا کالا باغ ڈیم پر ’’واٹر بم‘‘

11 اپریل 2018

مکرمی! 1960 کے عالمی بینک کے انڈیا اور پاکستان کے درمیان معاہدے میں یہ طے ہوا کہ پاکستان پہلے اپنے دریائوں کے ذریعے سے ڈیم بنالے بعد میں انڈیا پاکستان کے حصے کے دریائوں پر ڈیم بنا سکتا ہے۔ انڈیا کے ہمارے دریائوں پر ڈیم بنانے کے مطالبے کو کیوں تسلیم کیا گیا ۔ یہ فعل عقل سے بالاتر ہے پاکستان صرف منگلا اور تربیلا ہی بنا سکا جب کہ بعد میں انڈیا نے ہمارے دریائوں پر چھوٹے بڑے دو سو ڈیم بنالئے اور حال ہی میں تین ڈیم اور بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔ جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ سیاست دانوں کی اپنے مفاد کی سیاست ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی اور پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت کالاباغ ڈیم پر سوچنے کیلئے ان کے پاس ٹائم نہیں۔میں نے مجید نظامی صاحب کے 2007ء میں لکھے گئے ’’واٹر بم ‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے آرٹیکل کو بغور پڑھا ہے جس میں انہوں نے نہایت دور اندیشی اور دانشمندی سے کالا باغ ڈیم کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کیا ہے۔ آخر میں میں چیف جسٹس صاحب کا دلی شکریہ ادا کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جنہوں نے یہ فرمایا ہے کہ حکومت انٹرنیٹ سے اس قیمتی آرٹیکل کو ڈائون لوڈ کرکے جائزہ لے بلکہ میں یہاں تک کہنے کی جسارت کروں گا کہ جناب عالی حکومت کے جائزے کو دیکھنے کے بعد آپ یہ مسلسل نظر رکھیں کہ حکومت اس کی تکمیل کے لئے کیا اقدامات کر رہی ہے۔ !(منظر شفیع سینئر ایڈووکیٹ گلشن راوی لاہور )

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...