پاکستان بنے کشمیر کی آواز

11 اپریل 2018

مکرمی! کشمیر کو پاکستان سے بچھڑے ستر سال ہو گئے،مگر اب تک کشمیرآزاد نہ ہو سکا ، نہتے کشمیریوں پر بھارتی افواج کی طرف سے نت نئے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں قابض بھارتی فوج نے بربریت کی انتہا کر دی ہے بستیوں کی بستیاں اجاڑ کے رکھ دی ہیں ،عصمت کی پامالی کی ا ن گنت داستانیں بھی سامنے آچکی ہیں کشمیری اپنی مدد آپ کے تحت تحریکِ آزادی ِکشمیرکو زندہ رکھے ہوئے ہیں ،تحریکِ آزادی ِکشمیرجو آج اپنے عروج پردیکھائی دیتی ہے اس کی آبیاری برہان مظفر وانی شہید کے جوان خون سے ہوئی وہ دن اور آج کا دن اس تحریک میں تیزی اور گرم جوشی ہی دیکھی جا رہی ہے ۔ پاکستان میں کشمیر کمیٹی کے نام پر پاکستانیوں کے ٹیکس کے پیسوںپر پلتے سیاستدان جو کشمیری شہادتوں پر چپ سادھ لیتے ہیں ایسی کمیٹیوں سے ویسے بھی کوئی توقع نہیں رکھی جا سکتی ۔دنیا کی واحد ایٹمی قوت خارجہ امور کے محاز پر کمزور کیوں ہے؟ کہتے ہیں ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘چلو مان لیا !مگروہ وقت کب آئے گا جب پاکستان اپنی شہ رگ کی آزادی کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا صدقِ دل سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جاتی تو آج کشمیری یوں ظلم نہ سہہ رہے ہوتے ،خداکیلئے منافقت سے نکلیے اپنی زبانوں کے تالے کھولیے اورکشمیر کا کوئی حل نکالیے۔ (حافظ عمر دراز، لاہور)