ون ونڈو آپریشن کی ضرورت

11 اپریل 2018

جب تک کوئی سرکاری ملازمت میں رہے۔ کسی بھی عہدہ کا افسر یا ماتحت ہو، ”معتبر“ ٹھہرتا ہے۔ لیکن جیسے ہی اُس کی ریٹائرمنٹ کے دن قریب آتے ہیں اور وہ ریٹائر ہو جاتا ہے تو یوں سمجھ لیں کہ اُس کے بُرے دن شروع ہو گئے۔ ناصرف اُس کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں بلکہ مسائل پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے جاتے ہیں۔ بعد از ریٹائرمنٹ پنشنرز کو کیا مشکلات پیش آتی ہیں انہیں کن مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک دُکھ بھری کہانی ہے۔ آج جو کہانی آپ کو سنانے جا رہا ہوں وہ جگ بیتی نہیں، آپ بیتی ہے۔ اس ”آپ بیتی“ کے ضمن میں جو مسئلہ احاطہ¿ تحریر میں لا رہا ہوں اُس کا تعلق ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے ہے۔ یہ مسئلہ صرف اس ڈیپارٹمنٹ کا نہیں، دیگر سرکاری و نجی اداروں اور محکموں میں بھی کچھ ایسی صورت حال کا سامنا اُن تمام افراد کو رہتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کے بہترین ماہ و سال اِن محکموں یا اداروں کو دئیے ہوتے ہیں۔ وہ 60سال گزارنے کے بعد جب ان اداروں یا محکموں سے ریٹائر ہوتے ہیں تو انہیں اپنی پنشن اور واجبات کی وصولی کے لیے در در کے دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ محکمہ انہی کا ہوتا ہے جس میں انہوں نے برسہا برس خدمات انجام دی ہوتی ہیں۔ لیکن وہاں اُن کی کوئی سننے والا نہیں ہوتا۔ اب میری بیگم صاحبہ کا ہی قصّہ سن لیجئے۔ وہ وزیرآباد کے گورنمنٹ گرلز کالج سے ٹرانسفر کے بعدلاہور کے ایک گرلز کالج سے 4جون 2017ءکو 19ویں گریڈ میں ریٹائر ہوئی ہیں۔ جس کے بعد اُن کے واجبات اور پنشن سے متعلق کاغذات کی تیاری کا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے۔
لیکن اپریل 2018آ گیا ہے ۔ کافی سارا کام ہو گیا ہے لیکن ابھی بھی کچھ کام ہونے باقی ہیں۔ جب ہم اپنے پنشن کے کام کے لیے پنجاب سول سیکرٹریٹ میں واقع ایجوکیشن سیکشن میں جاتے ہیں تو وہ بجٹ سیکشن میں بھیج دیتے ہیں۔ بجٹ سیکشن والے فنانس سیکشن کی راہ دکھاتے ہیں۔ پھر ڈی پی آئی آفس اور اس آفس والے وزیرآباد اور گوجرانوالہ بھیج دیتے ہیں۔ جان جوکھوں کے بعد جب formalitiesپوری ہوتی ہیں تو اس کے بعد A.Gآفس میں procedureشروع ہو جاتا ہے۔ اب A.Gآفس والوں کے کہنے پر باقی کاغذات بھی مکمل کرنے ہوتے ہیں۔ اس میں بھی کافی ٹائم لگتا ہے۔ یہ بھی پرواہ نہیں کی جاتی جس نے اپنے 60سال ایک محکمے کو دے دئیے ، کیا اس عمر میں اُس کے ساتھ ایسا سلوک واجب ہے۔ گوجرانوالہ اکاﺅنٹس آفس کے ناگرہ صاحب اور ان کے PSOخاور صاحب کا شفقت سے پیش آنا اور بہترین تعاون کرنا ہمیشہ یاد رہے گا۔ یہ واحد ڈیپارٹمنٹ ہے جنہوں نے حسب وعدہ اپنا کام مکمل کر دیا اور ہمیں دوبارہ وہاں نہیں جانا پڑا۔میں خود ایک بینک میں رہا ہوں۔ لیکن وہاں ایسا ہوتے نہیں دیکھا۔ جب بینک کا کوئی ملازم ریٹائر ہوتا ہے تو ریٹائرمنٹ سے ایک دن پہلے ہی اُسے تمام واجبات اور پنشن سے متعلق تمام کاغذات مکمل طور پر مل جاتے ہیں۔
بینک ملازم کو، خواہ وہ کسی بھی معمولی یا غیر معمولی عہدہ پر رہا ہوں، بعد از ریٹائرمنٹ اپنے واجبات اور پنشن کی وصولی کے لیے کسی معمولی سی تاخیر، مشکل یا دشواری کا سامنا نہیںکرناپڑتا۔ اگر بینکوں میں یہ procedureہو سکتا ہے تو باقی جگہوں پر ایسا کیوں نہیں ہے۔ مشکلات یا پریشانیاں صرف پنشنرز ہی کو نہیں ہیں۔ کئی اور مقامات پر بھی کئی اور معاملات ہیں جو بڑے خراب اور ابتر ہیں۔ جیسے میں پچھلے دنوں کچھ کاغذات کی تکمیل کے لیے وزارتِ داخلہ کے کیمپ آفس شادمان کالونی گیا تو وہاں ایک کنال کے آفس میں لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھیں۔یہ قطاریں دیکھ کر میں خوفزدہ ہو گیا کیونکہ صبح جب میں نے ٹوکن لیا تو 1000سے کچھ اوپر نمبر تھا۔ بیماری اور نقاہت کی وجہ سے میں لائن میں کھڑا نہیں ہو سکتا تھا اور وہاں پر بیٹھنے کی کوئی جگہ نہ تھی۔ حبس اور گرمی سے بُرا حال تھا۔ سانس لینا بھی محال تھا۔ مجبوراً اُس بلڈنگ کی بالکونی میں جہاں پہلے ہی کافی لوگ کھڑے تھے، چلچلاتی دھوپ میں مَیں بھی وہاں کھڑا ہو کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگا ۔
اسی اثنا میں، مَیں نے دفتر کے ایک ملازم سے پوچھا کہ روزانہ یہاں کتنے لوگ آتے ہیں تو اُس نے بتایا کہ اندازاً 1500لوگ اپنے کام کے سلسلے میں آتے ہیں۔ ان تمام لوگوں کو ڈیل کرنے کے لیے چار کاﺅنٹر ہیں۔ وہاں پر تعینات عملہ مستعد، خوش اخلاق اور کوآپریٹو تھا لیکن اتنے زیادہ ہجوم کا کام کرنے سے قاصر معلوم ہوتا تھا۔ اچانک اعلان کیا گیا کہ جو کاغذات کھانے کے وقفے کے بعد جمع ہوں گے وہ اگلے دن واپس ملیں گے۔ میں نے مایوسی کے عالم میں سیڑھیاں اترنی شروع کر دیں۔ وہاں سے گزرتے دفتر کے ایک ملازم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ کا کام ہو گیا ہے ۔
میں نے نفی میں جواب دیا تو اس نے مشورہ دیا کہ یہاں آپ پروٹوکول آفیسر سید عاطف حسین سے ملیں اور ان سے اپنا مسئلہ بیان کریں امید ہے آپ کا کام ہو جائے گا۔ چنانچہ میں جب سید عاطف حسین کے کمرے میں داخل ہوا تو اُن کا انداز گفتگو اور کام کرنے کا انداز دیکھ کرمجھے بڑا حوصلہ ملا کیونکہ وہ لوگوں سے مل بھی رہے تھے اور ان کے کام بھی کر رہے تھے۔ جب میری باری آئی تو میں نے اپنی بیماری، مجبوری اور وقت کی کمی کا بتایا تو انہوں نے قانونی کارروائی مکمل کر کے میرا کام کر دیا۔ ان جیسے لوگ ہی اپنے دفاتر کے ماتھے کا جھومر ہیں۔میری وزارت خارجہ اسلام آباد سے چند گزارشات ہیں کہ دفتر کے لیے اس سے بڑی بلڈنگ لی جائے اور سٹاف میں بھی کافی اضافہ کیا جائے ۔ یا لاہور میں چار مختلف جگہوں پردفتر بنا کر اُن کا آپس میں Internet کے ذریعے linkکیا جائے اور ون ونڈو آپریشن شروع کیا جائے تاکہ لوگوں کا کام آسانی سے ہو سکے۔ ہر دفتر میں ایک اچھی کنٹین کا بندوبست بھی کیا جانا چاہیے۔ سید عاطف حسین پروٹوکول افسر کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیںسرٹیفکیٹ سے نوازیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بہت سی سڑکیں اور برج بنائے ہیں بلکہ ان کا ہر طرف جال پھیلا ہوا ہے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب ان محکموں کی بھی کچھ خبر لیں جہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ خلقِ خدا جہاں دھکے کھاتی ہے کوئی انہیں دیکھنے والا ، پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ کوئی اُن کا محرم اور غمگسار نہیں بنتا۔ ون ونڈو آپریشن کا آغاز ہو جائے تو سرکاری محکموں میں لوگوں کو اپنے مسائل کے لیے دھکے نہ کھانے پڑیں۔ مسئلہ ایک ہو یا ایک سے زیادہ۔ ون ونڈو آپریشن کے تحت تمام مسائل کم وقت میں ایک ہی جگہ حل ہوسکتے ہیں۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...