ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ اور اسلامی نظام عدالت

11 اپریل 2018

24مارچ کو ”نوائے وقت“ ادارتی صفحے پر سلیمان کھوکھر صاحب کا کالم بعنوان ”ڈاکٹر یوسف گورایہ“ شائع ہوا۔ یہ کالم پڑھنے کے بعد ڈاکٹر گورایہ صاحب سے وابستہ یادیں تازہ ہو گئیں۔ ڈاکٹر صاحب سے میرابھی قریبی تعلق رہا ہے۔ ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ عالم علوم اسلامیہ، محقق، اقبال شناس، مصنف اور مترجم تھے۔ آپ علماءاکیڈمی (محکمہ اوقاف) میں ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہے۔ 14 اپریل ان کی برسی کا دن ہے۔ وہ 1933ءکو ضلع گوجرانوالا میں پیدا ہوئے اور 1995ءکو 62 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔
ڈاکٹر یوسف گورایہ کی ایک کتاب کا نام ہے ”آنحضرت ﷺ اورپہلے دو خلفائؓ کے دور میں آئینی نظام“ یہ کتاب کتب خانہ انجمن حمایت اسلام لاہور نے شائع کی تھی۔ یہ کتاب اسلام کے نظام عدل پر ایک جامع تحقیقی کاوش ہے۔ ان دنوں عدل پر بہت گفتگو ہو رہی ہے۔ اگست 1984ء میں ڈاکٹر گورایہ کی اس کتاب کے حوالے سے میں نے مذاکرہ کرایا تھا۔ شرکا میں جسٹس اے آر کارنیلس، ایس ایم ظفر اور پروفیسر عبدالجبار شاکر شامل تھے۔
ڈاکٹر گورایہ کو مذکورہ کتاب لکھتے وقت کن مراحل سے گزرنا پڑا اور انہیں کن کن مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔ اس کا اظہار انہوں نے مذاکرے میں ان الفاظ میں کیا۔ میں نے اس کتاب کا آغاز 1963ءمیں کیا جب میں ادارہ تحقیقات اسلامی سے وابستہ ہوا۔ اس کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ حضرت عمرؓ نے اسلام میں نظام حقوق کا تحفظ، قانون کی بالادستی اور کتاب و سنت کے ساتھ قیاس و اجتہاد کو اختیار کرنے، فریقین کو گواہی کا پورا موقع دینے، عدالتی طریق کار اور قواعد و ضوابط پر مشتمل ایک جامع عدالتی چارٹر اپنی خلافت کی ایک عدالت عالیہ کے چیف جسٹس حضرت ابو موسیٰ الاشعری کو بھیجا۔ یہ چارٹر اسلامی نظام عدالت میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے بعد یہ چارٹر تاریخ کے مختلف ادوار سے گزرا۔ ایک عظیم سکالر امام ابن القیم نے اپنی ضخیم کتاب ”اعلام الموقعین“ کے اندر اس کو بڑی تفصیل سے بیان کیا لیکن حال ہی میں کچھ مستشرقین نے اس کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جن میں لوئیس ملیٹ، چارلس پیلٹ، ونسنسٹ مونٹیل، مارگولیتھ اور ایمائیل تیان خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی یہ ممکن نہیں کہ حضرت عمرؓ کے عہد میں اتنا پختہ عدلیہ کا نظام قائم ہوا ہو۔ جب میں نے اس پر تحقیق کا کام شروع کیا تو ضروری تھا کہ اس بات کی تحقیق کی جائے کہ کیا اس سے پہلے اسلامی عدالت کا نظام موجود ہے یا حضرت عمرؓ کے عہد ہی میں عدلیہ کا نظام قائم ہوا اور اس سے کام شروع ہوا۔
اس سے پہلے حضرت ابوبکرؓ کا عہد تھا اور اس سے پہلے عہد رسالت تھا اور پورا قرآن حکیم موجود تھا جس پر ان دونوں عہدوں میں اسلامی نظام عدالت قائم ہوا۔ گویا اس پس منظر نے مجھے اس کتاب کی تصنیف کے اسباب اور محرکات فراہم کیے۔ آنحضرت کے نظام عدالت میں کسی قسم کی کوئی کورٹ فیس نہیں تھی۔ نظام عدلیہ سستا اور سادہ تھا۔ اس میں کسی قسم کی کوئی پیچیدگی نہیں تھی۔ کوئی شخص بھی دادرسی کے لیے آپ کے نظام کا سہارا لیتا اور اس نظام کے تحت متعلقہ شخص کی تکلیف کو بغیر کسی خرچ کے رفع کر دیا جاتا۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ سب سے پہلا آئین آنحضرت نے دیا اور سب سے پہلے خود آپ نے اپنے آپ کو اس آئین کا پابند بنایا۔ یہ شاید تاریخ میں ایک نادر مثال ہے کہ ایک حاکم نے اپنے آپ کو آئین کا پابند بنایا ہو۔ اس سے پہلے اس کی نظیر نہیں ملتی بلکہ اس وقت بھی دنیا میں جتنے دساتیر موجود ہیں اور ہمارے ملک میں اس وقت 1973ءکا جو آئین نافذالعمل ہے اسکے آرٹیکل نمبر248 میں صدر، وزیر اعظم، گورنر، وفاقی و صوبائی وزرا کو تحفظ دیا گیا ہے کہ اگر یہ حاکم لوگ کسی قسم کی قانونی خلاف ورزی کا ارتکاب کریںتو وہ عدالت میں پیش ہونے سے مستثنیٰ ہیں۔ ایسی کوئی شق ہمیں عہد رسالت کے نظام عدالت میں نہیں ملے گی بلکہ اس میں یہاں تک دکھائی دیتا ہے کہ خود آنحضرت ایک عام شہری کی طرح عدالت میں پیش ہوتے اور جس شخص کو کوئی شکایت ہوتی وہ آپ کے سامنے بیان کرتا۔ آپ اسکے سامنے جوابدہ ہوتے۔ اسی طرح خلفاءراشدینؓ بھی خود عدالت میں ایک عام شہری کی طرح پیش ہوتے تھے۔ اس وقت کے بڑے بڑے گورنر جو بڑے پائے کے صحابہ رسول تھے، ان میں عشرہ مبشرہ بھی تھے۔ ان کےخلاف عام شہری شکایت کرتے تھے تو وہ بھی عدالت میں عام شہری کی طرح آ کر جوابدہ ہوتے تھے بلکہ مسلمان فوجوں کے کمانڈر انچیف بھی اگر کسی زیادتی کے مرتکب ہوتے تھے وہ بھی عدالت کے سامنے جوابدہ ہوتے تھے۔ ان پر جو مقدمہ دائر ہوتا تھا، اس کے لیے وہ باقاعدہ اپنے آپکو عدالت میں پیش کرتے ۔ اپنے آپ کو قانون کے سامنے جوابدہ سمجھتے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص بھی قانون سے بالاتر نہیں تھا بلکہ وہ مساویانہ عادلانہ نظام تھا۔ سیاسی، معاشرتی، معاشی کسی بھی اعتبار سے شہریوں میں امتیاز کا قطعاََ کوئی تصور نہیں تھا۔ قرآن میںنظام عدالت پر جو تعلیمات دی گئیں وہ صرف نظری تعلیمات نہیں تھیں بلکہ ان تعلیمات کو باقاعدہ عملی جامہ پہنا کر ایک نظام قائم کیا گیا۔ اس پر عمل درآمد کرایا جاتا، یہاں تک کہ آپ نے جو پہلا آئین مرتب کیا اس میں مدینے کے یہودیوں اور مشرکین کو بھی نمائندگی دی۔ گویا وہ آئین ایسا تھا جو مدینے میں رہنے والے تمام طبقوں کی نمائندگی کرتا تھا جن میں مہاجرین، انصار، یہود، عیسائی، مشرک بلکہ گردونواح کے کچھ عرب قبائل بھی شریک ہوئے۔ وہ آئین نہ صرف مرتب ہوا بلکہ نافذ بھی ہوا۔ یہود جن کے اتفاق رائے سے یہ قانون بنا تھا، انہوں نے آنحضرت کو چیف جسٹس کے طورپر تسلیم کیا۔ کتاب میں شامل حضرت عمرؓ کا نظام عدالت اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ یہ نظام عراق، ایران، فلسطین، شام اور مصر جیسے ممالک میں قائم ہوا تھا۔ یہ ممالک اس زمانے میں بڑے متمدن اور مہذب تھے۔ یہاں رومی، عراقی، یہودی اور نصرانی قوانین کے تحت نظام قائم تھا۔ تمام قوانین کے مقابلے میں ایک نیا نظام قائم کرنا، قوانین اور قواعد مرتب کرنا انہیں نافذ کرنا، اسلامی قانون کی عظمت اور حضرت عمرؓ کی قابلیت کا نتیجہ تھا۔ اس نظام کو کامیابی اس لیے حاصل ہوئی کہ مسلمانوں نے کسی کے ساتھ مذہب، رنگ و نسل اور علاقے کے اعتبار سے امتیاز نہیں برتا بلکہ خالص عدل اور انصاف کے پیشِ نظر لوگوں کے مقدمات کا فریقین کے اطمینان کے مطابق فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ نے آخر میں یہ کہا تھا کہ ہمارے ہاں جو نظام عدالت قائم ہے، اسے اسلامی نظام عدالت کےمطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں چند اصول ہماری راہنمائی کرتے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جسے کتاب میں جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے کہ اسلامی نظام عدالت میں کوئی شہری قانون سے بالا نہیں۔ کیونکہ جب آنحضرت کی ذات مبارک اس سے بالا نہیں ہے تو پھر آپ کا کون سا امتی ہے جو قانون سے بالا قرار پائے۔ اسی طرح آئین میں حکمرانوں کو عدالت میں حاضری سے مستثنیٰ قرار دینے کی جو دفعات ہیں، انہیں حذف کیا جانا چاہیے۔ اسلامی نقطہ¿ نظر سے دیکھا جائے تو اسلامی ریاست کے صدر، وزیراعظم، وزرا اور گورنروں کو تحفظ دینے کے بجائے انہیں عام شہری کی طرح عدالت میں پیش ہونے کا درجہ دیا جانا چاہیے تا کہ بلاامتیاز سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جا سکے۔ ایک اور بات جو اسلامی نظام عدلیہ کے حوالے سے ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ کہ آج انصاف مہنگا ہو چکا ہے اور عام شہری کے لیے انصاف حاصل کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ اس لیے وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور قانون کی پیچیدگی سے اتنا خوفزدہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات اپنا حق چھوڑ دینا زیادہ مناسب سمجھتا ہے۔ اسلامی نظام عدل کو سامنے رکھا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ انصاف کو سستا اور سادہ ہونا چاہیے تا کہ عام شہری بآسانی اپنا حق حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے۔
قارئین! ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ نے یہ باتیں 34برس قبل لکھیں اور مذاکرے میں بیان کیں۔ کیا آج بھی صورتحال وہی نہیں جس کی نشاندہی ڈاکٹر گورایہ صاحب نے کی؟