انتخابات میں تاخیر کے اشارے ، لسانیت کے زہر کی تقسیم

11 اپریل 2018

انتخابات کے قریب آتے ہیں پاکستان میں اراکین اسمبلی کی ایک تعداد جنکی اپنی ایک تاریخ بھی رہی ہے وہ ”لوٹا“ اراکین بن جاتے ہیں اور اپنی قیمتوں کے بورڈ سینے پر سجا کر میدانِ سیاست میں کود پڑتے ہیں ، ایک جماعت سے دوسری جماعت ، دوسری سے تیسری جماعت میٰں جانے کی انکی ایک تاریخ ہوتی ہے ، اور ماشااللہ تمام ہی سیاسی جماعتیں اسے ” جمہوریت کا حسن “ قرار دیتے ہوئے ایسے تمام لوگوں کو اپنی جماعت میں خوش آمدید کہتی ہیں ساتھ ساتھ وہ جماعتیں جنکے اراکین دوسری جماعت میں جارہے ہوتے ہیں اسے ایک سازش قرار دیتے ہیں ، مگر جب لوٹا اراکین انکی جماعت میں آرہے ہوتے ہیں تو انہیں خوش آمدید کہہ رہے ہوتے ہیں عوام تماشہ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور عوام کی بھی یادداشت کمزور ہی ہوتی ہے وہ بھی سب کچھ بھول کر انہیں ووٹ دیتے ہیں۔ عام طور پر یہ سنا جاتا ہے کہ عوام باشعور ہوگئے ہیںیہ بیانیہ شائد شہروں تک محدود ہو چونکہ ہماری آبادی کی ایک بڑی تعداد جو گاﺅں ، دیہاتوں، میں ہے انکے نزدیک کوئی سیاسی جماعت اچھی یا بری نہیں ہوتی بلکہ برادری ، آرائیں، چوہدری ، سر کا خطاب رکھنے والے ، سردار ، گجر، اور اسی قسم کی دوسری ذات پات ، اہم حیثیت رکھتی ہے ، انہیں صرف ہدائت دی جاتی ہے ، وہاں تو پاکستان کو لوٹنے والے طبقے نے انہیں تعلیم ، یا معلومات سے دور رکھار ہے ، کسی کے کھیت میں کام کرنے والا کسان کسطرح ووٹ ایسے شخص کو دے سکتا ہے جسکا تعلق اس زمیندار سے نہ ہو جہاں کہ وہ کھیتی باڑی کررہا ہے ۔ ؟؟ اسطرح یہ کھیل اور تماشہ شہروں تک محدود ہے۔ اس صورتحال میں قائد اعظم کے ملک جسے بہت قربانیوںسے حاصل کیاگیا ، اس ملک کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر اس ملک میں نہیں بلکہ ملک سے باہر بھیجا جاتا ہے ، کبھی سیاست دان اپنے مقدمات ، جرائم سے پاک ہونے کیلئے NRO کرتے ہیں اور NRO کے حمام میں نہا کر جرائم کیلئے دوبارہ تیار ہوجاتے ہیں ۔ اسی NRO کی ایک اور شکل وزیر اعظم کی جانب سے ٹیکس ایمنیسٹی کو کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ٹیکس کی ادائیگی ہر ملک میٰں وہاں قانون کا حصہ ہے اور ٹیکس ادا نہ کرنے والے کو اگر گرفتار کرکے سزا نہ دی جائے تو وہ اس ملک اور اس ملک کے نظام کی خرابی ہے ۔بد قسمتی سے ہمارے وطن عزیز میں تو اسکا رواج ہی نہیں ملک کی اشرافیہ نہ ایمانداری سے ٹیکس ادا کرتی ہے بلکہ بنکوں سے کروڑوں روپے قرض لیکر اسے بھی معاف کرا لیا جاتا ہے۔ ستم یہ ہے کہ ملک سے لُوٹی ہوئی دولت جو لاکھوں میں نہیں بلکہ کروڑوں، اور اربوں میں ملک سے باہر اپنی سیاست دانوں نے لوٹ کر رکھی ہے مگر یہ نام نہاد محب وطن سیاستدان اسے ملک میں واپس لانے کا تصور بھی نہیں کرتے اور نہ ہمارا کوئی ادارہ خاص طور پر قانونی اداروںکے پاس اس پر سزا دینے، قانون کی گرفت میں لانے کا کوئی ذریعہ ہوتا ہے، نہ کوئی سوموٹو، نہ ہی مقدمات کی تاریخیں، سوئس بنک، دوبئی میں پراپرٹی بزنس میں پاکستانیوں کی خطیر رقم، لندن میں فلیٹس یہ سب پاکستان سے حاصل کی گئی دولت ہے، چاہے وہ غیر قانونی ذریعہ ہو یا قانونی۔ ہم سب کو علم ہے کہ ملک سے باہر رقم زیادہ تر غیر قانونی ہی ہے پاکستان سے لے جانے والی رقم سے پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں۔ اس کی وجہ صرف اور صرف ملک کا کمزور قانون ہے۔ ہمارے پاس حالیہ مثال سعودی عرب کی ہے جہاںحکومت کو محسوس ہوا کہ اس ملک سے کمائی دولت سے ملک کے عوام مستفید نہیںہو رہے تو کیسے بڑے بڑ ے ناموں سے حکومت کتنی بڑی رقم ملک کے خزانے میں واپس لائی۔ہمارے سیاستدان ایک دوسرے کے کالے دھن سے بخوبی واقف ہیںمگر وہ حزب ا ختلاف میں رہتے ہوئے دولت واپس لانے کی بات کرتے ہیں جو ثابت ہوچکا ہے کہ ایک سیاسی نعرہ ہی ہوتا ہے ۔اور حکومت میں آنے کے بعد مک مکا کا شکار ہوجاتے ہیں او ر یہ پہیہ چلتا رہتا ہے، صرف اور صرف ایک دوسرے پر الزامات ہی رہ جاتے ہیں۔ حالیہ ایمنیسٹی سکیم نہ ہمارے ان داتا،IMF کو پسند ہے اور نہ اس ادارے کو جو پاکستان پر دہشت گردی کے فنڈز کے استعمال پر پابندیاں لگانے کا خواہش مند ہے انکے نزدیک حالیہ ایمنسٹی سکیم جو کالے دھن کو سفید کرنے یا حرام کو حلال کرنے کیلئے ہے اس پر بے شمار تحفظات رکھتا ہے اور اسوقت ہماری معیشت کی صورتحال یا سفارتی صورتحال ہے اس میں ہم مزید ”پنگے بازی“ کے متحمل نہیںہوسکتے۔ وطن عزیز پر2018 ءکے انتخابات کے بعد حکمرانی کے خواہش مند اس تمام صورتحال پر سنجیدہ نہیںانہیں تو ملک کے ذرائع پر ’داﺅ‘ لگانے کے لئے حکومت میں آنے کا انتظار ہے۔ بقول ان سیاست دانوں کے لاکھوں عوام جلسوںمیں آرہے ہیں بیچارے معصوموں کو علم ہی نہیں اگر بڑے جلسے ہی حکومت میں آنے کی وجہ ہوتے تو گزشتہ کئی سالوںسے صرف جماعت اسلامی کی حکومت ہوتی، پیپلز پارٰٹی کی پذیرائی جو کہ عوام میں ختم ہو چلی ہے اسکا ثبوت ضمنی انتخابات خاص طور پنجاب میں پی پی پی کی ضمانتوں کی ضبطی ہے اسکے سربراہ آصف علی زرداری کا دعوی ہے کہ پنچاب میں انکا وزیراعلی ہوگا، انکا بیان کسی حد تک شائد صحیح ہوچلے کہ وہ یہ واردات سینٹ کے الیکشن، اور بلوچستان حکومت کے موقع پر کر چکے ہیں انتخاب میں انکی سرگرمی اور آصف علی زرداری کی پشت پر پوشیدہ کرتا دھرتاﺅں کی کاوش شامل رہی تو سب کچھ ممکن ہے۔ پاکستان کے محب وطن عوام میں مایوسی کا سبب پی پی پی کی جانب سے اسکی پشت پناہی سے صوبائیت جس میں بھالپور، اور جنوبی پنجاب میں صوبوںکی تشکیل کے وعدے ہیں جس پر انہوںنے اپنے دور حکومت میں عمل درآمد نہیں کیا مگر آج اس مسئلے کو ہوا دے رہے ہیں اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو پھر کراچی میں ایم کیوایم کے مطالبے ” کراچی صوبے “ کے مطالبے پر انہیں وطن دشمن قرار دینا کیوں۔ پھر ہزارہ صوبے، سندھو دیش، کی حمائت کیوں نہ ہو۔ یہ سب اقدامات قائد اعظم کے پاکستان کے حصے بخرے کرنے کی سازش کے علاوہ کچھ نہیں ، ان پر عمل درآمد تو نہیںہوگا مگرعوام میں ایک منفی سوچ ضرور پیدا ہوگی۔